قومی خبریں

مسجد کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنج کہا، ہائی کورٹ کا فیصلہ حقائق اور قانون کی بنیاد پر درست نہیں!

شاہی عیدگاہ کیس میں نیا موڑ آیا ہے۔ شاہی عیدگاہ مسجد کمیٹی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

نئی دہلی، 11جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)شاہی عیدگاہ کیس میں نیا موڑ آیا ہے۔ شاہی عیدگاہ مسجد کمیٹی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ عیدگاہ کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں اس نے شری کرشن جنم بھومی معاملے میں متھرا کی ٹرائل کورٹ میں چل رہے تمام مقدمات کو اپنے پاس منتقل کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کیس سے متعلق تمام معاملات اب ہائی کورٹ میں ہوں گے۔شاہی عیدگاہ مسجد کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہائی کورٹ کے 26 مئی کے حکم پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ حقائق اور قانون کی بنیاد پر درست نہیں۔ یہی نہیں، ہائی کورٹ کا فیصلہ درخواست گزار کے اپیل کے قانونی حق کی نفی کرتا ہے کیونکہ اس سے مقدمے کی اپیل کے دو مراحل ختم ہو جاتے ہیں۔

معلوم ہو کہ ہندو فریق پہلے ہی اس معاملے میں سپریم کورٹ میں کیویٹ پٹیشن داخل کر چکا ہے۔ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازع کی طرح متھرا میں بھی تنازعہ ہے۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ مغل سلطان شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ نے مندر کو گرا کر وہاں مسجد بنائی تھی۔ 1670 میں متھرا میں بھگوان کیشو دیو کے مندر کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ اس کے بعد متھرا میں شاہی عیدگاہ مسجد بنائی گئی۔ متھرا میں کل 13.37 ایکڑ زمین کی ملکیت کو لے کر تنازعہ چل رہا ہے، درحقیقت شری کرشن جنم بھومی کے پاس تقریباً 10.9 ایکڑ اور شاہی عیدگاہ کے پاس ڈھائی ایکڑ کے مالکانہ حقوق ہیں۔ ہندو فریق عیدگاہ کو غیر قانونی طور پر قبضہ کرکے بنایا گیا ڈھانچہ قرار دیتا ہے۔ ہندو فریق شاہی عیدگاہ مسجد کو ہٹانے اور زمین شری کرشن جنم بھومی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جبکہ مسلم فریقی ہندوؤں کے ان دعوں کو درکنار کر رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ جھوٹ پر مبنی اور حقائق سے دور بیانیہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button