H3N2 انفلوئنزا موت: کرناٹک میں پہلی موت، مرکزی وزارت صحت کی ایڈوائزری جاری
ملک میں H3N2 انفلوئنزا کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس وائرس سے موت کی تصدیق جمعہ کو ہوئی۔
نئی دہلی ، 10مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ملک میں H3N2 انفلوئنزا کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس وائرس سے موت کی تصدیق جمعہ کو ہوئی۔ وزارت صحت کے مطابق دو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کرناٹک اور ہریانہ میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔ وزارت نے کہا کہ وہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر مربوط بیماریوں کی نگرانی کے پروگرام کے ذریعے H3N2 انفلوئنزا پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔وزارت نے کہا کہ مارچ کے آخر تک موسمی انفلوئنزا کے معاملات میں کمی متوقع ہے۔ چھوٹے بچے، پہلے سے موجود بیماریوں والے بوڑھے افراد کو موسمی انفلوئنزا کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
اس دوران مرکزی وزیر صحت من سکھ منڈاویہ نے ایک میٹنگ کی۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے اس کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو الرٹ رہنے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھنے کے لیے ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، مرکزی حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور صحت کے تمام اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ H3N2 سے موت کا پہلا معاملہ کرناٹک کے ہاسن ضلع میں آیا۔ ریاست میں اس انفیکشن کی وجہ سے موت کا یہ پہلا کیس تھا۔
ہریانہ میں H3N2 وائرس سے مرنے والے 56 سالہ شخص کو پھیپھڑوں کا کینسر تھا۔ اس میں H3N2 کی شناخت اس سال جنوری میں ہوئی تھی۔ ہریانہ کے محکمہ صحت کے اہلکار نے بتایا کہ وہ جند ضلع کا رہنے والا تھا۔کرناٹک کے وزیر صحت کے سدھاکر نے ‘H3N2’ کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر چند دن پہلے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ سدھاکر کے مطابق، مرکزی حکومت نے اپنے رہنما خطوط میں محکمے سے کہا ہے کہ وہ ہر ہفتے 25 ٹیسٹ کرائے اور ذیلی نمونوں پر نظر رکھے۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں پچھلے دو تین مہینوں سے بخار کے ساتھ مسلسل کھانسی کے بڑھتے ہوئے کیسز ‘H3N2’ کی وجہ سے آرہے ہیں، جو ’انفلوئنزا اے‘ کی ذیلی قسم ہے۔



