حافظ محمدسراج الحق صاحب بافیض استاد تھے:حضرت امیر شریعت
حافظ سراج الحق نے 65سال تک مونگیر کی تعلیمی وملی سرگرمیوں میں گزارا:ڈاکٹر مناظر حسن شاہ فیملی کے بزرگوں کی روایت کے امین تھے حافظ صاحب:طارق انور
مونگیر 2۔دسمبر:(اردودنیا.اِن/ای میل) 2022بہار کے سب سے قدیم ادارہ یتیم خانہ انجمن حمایت اسلام مونگیر کے صدر مدرس جناب الحاج حافظ محمد سراج الحق صاحب کل عشاء کی آذان کے بعد انتقال ہوگیا۔ انا للہ و انا الیہ رجعون۔ادھر چند ماہ سے علیل تھے اور اپنے وطن رہٹھا اودا کشن گنج مدھے پورہ میں زیر علاج تھیآج یکم دسمبر کو بعد نماز ظہر آباء وطن میں نماز جنازہ ادا کی گئی حضرت امیر شریعت کی ہدایت پر جامعہ رحمانی مونگیر کے قدیم استاد مولانا عبد العظیم صاحب رحمانی نے نماز جنازہ پڑھائی اور مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آء۔حافظ صاحب کے انتقال کی اطلاع جیسے ہی ملی شہر مونگیر کا ماحول سوگوار ہو گیا انکے شاگردوں دوستوں محبین اور عقیدت مندوں کا قدم انجمن حمایت اسلام کی طرف بڑھنے لگا طلبہ اور مخلصین کی ایک جماعت رات ہی میں انکے گھر روانہ ہوء جو نماز فجر سے قبل بخیر پہنچ گئی صدر انجمن امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی ہدایت پر خانقاہ رحمانی مونگیر کا ایک وفد مولانا عبد العظیم صاحب رحمانی استاد جامعہ رحمانی مونگیر کی قیادت میں پہونچا محلہ دلاورپور،شاہ زبیر روڈ،شاہ فیملی،اشرف نگر اور شہر سے بھی الگ الگ لوگ وفد کی شکل میں گاڑیوں سے حاضر ہوئے۔
حافظ صاحب کے انتقال پر خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ آج انجمن اپنے ایک ایسے مخلص زمہ دار اور ممتاز معمار سے محروم ہو گیا جنہوں نے تقریباً چار دہائیوں تک انجمن کی تعمیر وترقی میں بھرپور وقت لگایا والد بزرگوار حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کی ہدایات جناب شاہ لطیف الرحمن صاحب جناب شاہ نجم عزیز نجمی صاحب مکھیا کمال حسن صاحب اور شاہ محمد صدیقی صاحب کی نگرانی میں انجمن کے امور کو بحسن وخوبی انجام دیا۔
شاہ فیملی کی مسجد میں تقریباً 52سال انہوں نے امامت کی جو ایک رکاڑد ہے مزاج سادہ اور ملنے جلنے میں بڑے مخلص محلہ کے پچاس فیصد سے زیادہ لوگ انکے شاگردوں میں ہیں حافظ صاحب بافیض استاد تھے انکے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت ملک سے باہر خدمت انجام دے رہی ہے۔داداجان حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی سے بعیت تھے اور والد صاحب سے دوبارہ بعیت کی اور سلوک کی تعلیم حاصل کی اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند فرمائے آمین۔سابق ایم پی اور بہار کے سابق وزیر جناب ڈاکٹر مناظر حسن نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حافظ سراج الحق صاحب سے ہمارے والد کا تعلق بہت گہرا تھا اور انکی دعائیں اور مشورے ہمیشہ ملتے رہے ہیں حافظ سراج الحق صاحب نے 65سال تک مونگیر کی تعلیمی وملی سرگرمیوں میں گزارا۔جو قابل رشک ہے۔
سابق مرکزی وزیر جناب طارق انور صاحب نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حافظ سراج الحق صاحب شاہ فیملی کے بزرگوں کی روایت کے امین تھے میں جب مونگیر جاتا محبت سے ملتے اور دعا سے نوازتے ۔انجمن کے سکریٹری محترم جناب شاہ نجم عزیز نجمی صاحب بھی جنازہ میں شرکت کے بعد اظہار غم کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم حافظ صاحب انجمن کی تعمیر وترقی اور تعلیم میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت صرف کیا انہیں حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کا اعتماد حاصل تھا یتیم ونادر بچوں کی تربیت اپنی اولاد کی طرح کرتے تھے ایمان دار اور محنتی تھے شاہ فیملی کے لوگوں کے لئے گھر کے فرد کی حیثیت سے نمایاں رہے ۔
شاہ محمد صدیقی صاحب نائب صدر انجمن حمایت اسلام نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ حافظ صاحب کی خصوصیات کو اپنا نا چاہیے انکے جیسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔
انجمن کے رکن انتظامی الحاج حافظ محمد امتیاز رحمانی صاحب ناظم شعبہ نشرواشاعت جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر نے حافظ صاحب کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حافظ سراج الحق صاحب ان بزرگوں میں تھے جن پر حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی کی نگاہ شفقت رہی اور جنہیں مرشد گرامی امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کا اعتماد حاصل تھا اور انہیں انکی خدمات کی وجہ کر بہت عزیز رکھتے تھے بچپن سے جن بزرگوں نے میری تعلیم وتربیت پر توجہ دی ان بزرگوں میں پہلے استاد حافظ صاحب ہمارے تھے ہمارے پانچ بھائی بہنوں کی دینی تعلیم وتربیت میں انکا کلیدی کردار رہا ہے
بچوں پر شفقت بھری نگاہ رکھتے تھے ایک عرصے تک محلے میں بچوں اور نوجوانوں کو اس طرح دیکھا کہ راستے میں اگر حافظ صاحب نظر آتے تو وہ فوراً با ادب سلام کرتے انکے انداز سے احترام نظر آتا نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہمارے محلے کی دینی تربیت میں انکا گذرا اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے آمین۔انگلینڈ سے ڈاکٹر شاہ جمال صاحب نے بذریعہ فون تعزیت کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگ اور حافظ صاحب کے ساتھ گذرے ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انکا جیسا شریف مخلص اور ایماندار کم لوگوں سے میں ملا انگلینڈ سے جب بھی مونگیر حاضر ہوا حافظ صاحب سے ملاقات کے دوران محبت میں اضافہ پایا اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند کرے۔
انجمن کے اساتذہ قاری ابو البشر صاحب مولانا امان اللہ صاحب رحمانی مولانا ریان رحمانی قاری عبد اللہ صاحب نے کہا کہ حافظ سراج الحق صاحب کے ساتھ جو وقت گزر ا بہت قیمتی تھا ان سے کام کرنے کا سلیقہ اور زندگی کا بہترین طریقہ سیکھا انکی ہدایت پر اللہ تعالیٰ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں کی تعداد میں علاقے کے لوگوں نے شرکت کی۔



