حافظ قرآن اور حفظ کا مقصد – مرزا انور بیگ میرا روڈ – تھانہ
بئر معونہ کی جنگ ایک تاریخی واقعہ ہے
قرآن کی عظمت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا “ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “ اس کی حفاظت کیوں ضروری تھی ؟ اس لیے کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اور نہ کوئی کتاب اللہ ۔ لہٰذا اب ہدایت و رہنمائی کے لیے صرف اور صرف یہی کتاب ہوگی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی مرکزی کتاب یہی قرآن تھا اور اسی کے ذریعے دعوت پھیلانے کا حکم دیا گیا تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کرنے کا مقصد ہی یہ بیان ہوا ہے کہ اس کے ذریعے سے اسلام کی تبلیغ کریں اور یہی حکم بھی تھا ۔ نبی کو حکم اللہ نے اپنے نبیؐ کو حکم دیا’پس تم اس قرآن کے ذریعے ہراس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہ سے ڈرے‘‘۔
لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے جیسے قرآن نازل ہو رہا تھا چند صحابہ کو اس کام پر معمور کیا تھا کہ وہ قرآن حفظ کریں ۔ اس زمانے میں لکھنے کا عام رواج نہیں تھا نہ کسی قسم کے باقاعدہ اسکول و مدارس پائے جاتے تھے ۔ ایسے میں کتنی کڑی محنت کی گئی اور کیسا انتظام کیا گیا کہ اسلام کے احکام و قوانین جہاں جہاں اسلام پھیلے ان تک پہنچایا جائے ۔ یہی مقصد تھا قرآن کے حافظ تیار کرنے کا اور جہاں ضرورت ہوتی وہاں ان معلم و مبلغ اسلام کو بھیجا جاتا ۔
بئر معونہ کی جنگ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں سَتَّر(70) صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت شہید ہوئی، جن کو ’’قُرَّاء‘‘ کہتے ہیں کیوں کہ شہید ہونے والے سب حضرات قرآن مجید کے حافظ تھے اور سِوائے چند مُہاجِرین کے اکثر انصار تھے، حضورﷺ کواُن کے ساتھ بڑی محبت تھی ، اِس مقبول جماعت کو ’’نَجد‘‘ کا رہنے والا قومِ بنی عامر کا ایک شخص -جس کانام عامربن مالک اورکنیت ابوبَراء تھی- اپنے ساتھ اپنی پناہ میں تبلیغ اوروعظ کے نام سے لے گیا تھا، آپ ﷺ نے اِن ستَّرصحابہ کو ہمراہ کر دیا یہ حضرات مدینہ سے رخصت ہوکر ’’بِیرِمَعونہ‘‘ پہنچے تو ان کے ساتھ غداری کی گئی اور دھوکے سے ان کو قتل کر دیا گیا ۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دین کی تبلیغ کے لیے اور احکام اسلام کی تعلیم دینے کے لیے رسول اللہ نے ان لوگوں کو منتخب فرمایا جنھیں قرآن سب سے زیادہ حفظ تھا ان لوگوں کو نہیں بھیجا جن کو قرآن حفظ نہیں تھا ۔ یعنی دعوتِ دین کی بنیاد قرآن ہے اور اسی کے ذریعے ہی اصلاح و تبلیغ ممکن ہے ۔ رسول اللہ کو ان حفاظ کی شہادت کا بے انتہا غم ہوا اور ان پر ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھتے رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین تھے ۔
آپ اندازہ لگائیں کہ جو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہو وہ ایک مہینہ تک کسی قوم پر بددعا کرے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہو کہ “ سلام اس پر کہ جس نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں “ ظاہر ہے اس قوم سے بہت ہی بڑا جرم ہوا تھا ۔ جس مشقت سے چند سو مسلمان ہوئے ہوں اور ان کو محنت سے قرآن حفظ کروایا گیا ہو ، جو کل خزانہ ہو اس میں سے ستر لوگوں کو قتل کر دیا جانا بہت بڑا نقصان تھا ۔ اگر لاکھوں یا کروڑوں میں ستر کیا سات سو بھی شہید ہو جائیں تو اتنا دکھ نہ ہو مگر یہاں تو مسلمانوں کی تعداد ہی انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی تو نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
ویسے تو ہر فرد قیمتی ہوتا ہے ۔ ان حفاظ کی شہادت سے دعوت کے کام اور احکام قرآن کی اشاعت و ترویج میں بہت بڑا رخنہ واقع ہوا تھا ۔اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا فرمائی ۔ ہم اس واقعہ سے اندازہ لگائیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا لوگوں کو قرآن حفظ کروانے کا ۔ یوں تو ہر وہ شخص جو مسلمان ہوتا وہ کچھ نہ کچھ قرآن یاد کر لیتا ۔ مگر کچھ لوگوں کو خصوصی طور پر حافظ بنانا دعوتی مشن کے لیے تھا ۔ آج ہم اس بات سے اپنا اور امت مسلمہ کا موازنہ کریں ! باقی ممالک کا تو علم نہیں لیکن جس معاشرے میں ہم نے آنکھ کھولی اس کا مشاہدہ ہے اسی کا جائزہ بھی پیش کر سکتے ہیں ۔ آج ہمارا مقصد اپنے بچوں کو حافظ بنانے کے پیچھے صرف یہ ہوتا ہے کہ حفظ کے بعد کہیں تراویح پڑھائے گا الا ماشا اللہ کسی کا یہ مقصد نہ ہو ۔
یعنی ایک عظیم مقصد جو تھا دعوت دین بذریعہ قرآن اسے پس پشت ڈال کر ایک ادنیٰ مقصد کے لیے ہم نے اپنے بچوں کو حافظ بنایا ۔ اور رمضان قریب آتے ہی انہیں منڈی میں کھڑا کر دیا کہ کوئی مسجد کا ناظم آئے اور اسے تراویح کے لیے لے جائے اور آخر میں کچھ نقد کچھ نذر و نذرانے اسے مل جائیں ۔ کیا یہی اس عظیم کتاب کا حق ہے اور یہی اس کی خدمت ۔
حفاظ کی بہتات نے یہ اجتہاد کروا دیا کہ دس دن ، چھ دن ، پانچ اور تین دن کی تراویح شروع ہوگئیں تاکہ اس کھیپ کو کھپایا جا سکے ۔ اب یہ حال ہو گیا ہے کہ اس طرح حفاظ کو کئی کئی مختلف تاریخوں کے پنڈال مل جاتے ہیں اور ان کی روزی روٹی چل جاتی ہے ۔ پہلی بات تو ایک ایسی نفل نماز جس کا ختم قرآن سے کوئی تعلق ہی نہ ہو اور نہ ہی رمضان کے احکام میں یہ بات شامل ہو کہ تراویح میں قرآن ختم ہونا لازمی ہے اس کے لیے کیسی کیسی ایجادات ہو رہی ہیں ۔
ایسی نماز جس کا نام تراویح صدیوں بعد رکھا گیا ہو نہ صحابہ نے اس طرح کے نام کی کوئی نماز پڑھی نہ چار رکعتوں بعد پڑھی جانے والی دعا کسی حدیث سے ثابت اس نماز کے لیے حفاظ تیار کیے جائیں ان کے کھپانے کے پھر انتظامات کیے جائیں اور ان میں قرآن سے اس طرح کھلواڑ ہو کہ یعلمون تعلمون کے علاوہ کچھ سمجھ میں نہ آئے رکوع میں چوکے تو رکوع سے محروم سجدے میں چوکے تو دوسرے سجدے سے محروم کھیل تماشہ بنا دی گئی یہ نماز ۔ حالانکہ رمضان کی راتوں میں قیام اللیل کا حکم ہے ۔
یہ ہے وہ مقصد جس میں بر صغیر ہند و پاک کے مسلمان مبتلا ہیں ۔ ان حفاظ کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ قرآن میں کیا احکامات بیان ہوئے ہیں ۔ وہ صرف رٹہ مار کر حافظ قاری ہوجاتے ہیں جس طرح طوطا مینا کو رٹا دیں وہ بھی رٹ لیتے ہیں مگر کیا رٹا یہ نہیں پتہ ۔ رہا حفظ قرآن کا اصلی مقصد کہ اس کے ذریعے اسلام کی تبلیغ ہو مگر قرآن کے بجائے اس کے لیے ہر فرقہ و مسلک نے اپنی اپنی کتابیں لکھ رکھی ہیں اور اسی کو دعوت دین کی بنیادی کتاب مان کر چل رہے ہیں ۔ اس طرح ہر کوئی دین کی تبلیغ نہ کر کے اپنے فرقے اور مسلک کی تبلیغ میں مست ہے اور یہ سمجھ رہا ہے کہ اس سے اللہ کا منشا پورا ہو رہا ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ بلغو عنی و لو آیہ ۔ دعوت دو اگرچہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو ۔ یہاں بھی لفظ آیت استعمال ہوا ہے جو قرآن کی اصطلاح ہے اور قرآن کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ آپ ص نے حجتہ الوداع کے خطبے میں بھی یہی تاکید فرمائی ۔ میں تمہارے پاس دو بڑی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں : زَیدِ بن اَرقَمَ رضی اللّہ عنہ نے کہا ۔ : ایک دن رسول اللّہ ﷺ خُطبہ سُنانے کو کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے اللّہ کی حمد اور اس کی تعریف بیان کی پھر فرمایا : اے لوگو ! میں بشر ” ادمی ” ہوں قریب ہے میرے پرور دگار کا بھیجا ہوا ” موت کا فرشتہ ” آوے اور میں “اس کی دعوت” قبول کرلوں میں تمہارے پاس دو بڑی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں پہلی تو اللّہ کی کتاب اس میں ہدایت ہے اور نور ہے ۔
پس تم اللّہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اُسے مضبوطی سے پکڑے رہو غرض آپ ﷺ نے کتاب اللّہ کی طرف اُبھارا اور رغبت دلائی پھر فرمایا : اور میرے اہل بیت ، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللّہ یاد دلاتا ہوں کہ ان سے حسنِ سلوک کرنا ۔ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا ۔ سُنَن الدَّرمی : نمبر . 3348 اور صحیح مسلم : نمبر ۔ 2408 اور مُسند احمد ۔ نمبر : 366 \ 4 اور ابن حبّان ۔ نمبر : 123 ۔ یہ صحیح ہدیث ہے ۔ اسی طرح یہ خُطبہ رسول للّہ ﷺ نے سن 9 هجری میں حجتُہ الوداع سے لوٹتے ہوئے غدیر خم کے مقام پر دیا تھا ۔اور آپ نے آخری وصیت اپنی اُمّت کے لیے یہی کی کہ ثَقَلَینِ کو مظبوطی سے تھامنا اور ثقلین سے مُراد کتاب اللّہ اور سُنّت رسول اللّہ ﷺ ہے ۔ جو ان کی عظمت شان کی وجہ سے یا ان پر عمل کے لحاظ سے بھاری ہونے کی وجہ سے ثقلین کہے جاتے ہیں ۔
ایک وصیت رسول اللّہ ﷺ نے اپنے اہل بیت کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ۔ اور اہل بیت سے مُراد اَزوَاج مُطہرات ، بنو ہاشم ، بنو عبدُالمطلب اور بعض نے کہا بنو قصیٰ اور تمام قریش کے لوگ ہیں ۔ صحیح مسلم کی حدیث میں آخر میں ہے جب زید بن ارقم ؓ سے پوچھا گیا کہ اہل بیت کون ہیں ۔تو انہوں نے کہا : وة آل علیؓ ۔ آل عقیلؓ اور آل جعفر ؓ اور آل عباس ؓ ہیں ۔ جن کے لیئے صدقہ لینا حرام ہے ۔
صحیح مسلم میں ہے آپ نے فرمایا میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑ ے جاتا ہوں۔ ایک تو اللہ کی کتاب، اس میں ہدایت ہے اور نور ہے تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو اور اس کی طرف رغبت کرو۔ پھر تین دفعہ دہرایا: میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمہیں اللہ یاد دلاتا ہوں۔ میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمہیں اللہ یاد دلاتا ہوں۔ میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمہیں اللہ یاد دلاتا ہوں کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ صحیح مسلم حدیث ۶۲۲۵، جلد ششم، صفحہ ۹۳، باب فضیلتوں کے مسائل دراصل قرآن و حدیث ہی فلاح کا راستہ ہیں: فرمایا میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انھیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے: اور وہ اللہ کی کتاب (قرآن) اور میری سنت (حدیث) ہے۔ (المستدرک الحاکم: جلد 1، ص یہ تھا وہ مقصد جسے ہم نے آج فوت کر دیا ہے اور صرف تراویح کے لیے حفاظ تیار کرنا شروع کر دیے جنہوں نے قرآن کے ساتھ کھلواڑ کر رکھا ہے اور ہم یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ جنت میں یہ ہمارے درجات بلند کرتا چلا جائے گا اور اپنے ساتھ بہت سے دیگر رشتہ داروں کی شفاعت بھی کروا دے گا ۔ آگاہ ہو جائیں کہ یہ قرآن یا تو ہمارے حق میں گواہی دے گا یا ہمارے خلاف ۔



