ممبئی ، 31 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) حج کمیٹی آف انڈیا نے سفرحج 2022سے متعلق عازمین حج کے لئے تازہ رہنما اصول جاری کیے ہیں ،تاکہ سفرحج کے دوران انھیں کسی طرح کی کوئی پریشانی نہ ہواور وہ خوش اسلوبی سے اپنے فریضہ حج کو ادا کرسکیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی ایک ریلیز کے مطابق رہنما اصول میں خواتین سے متعلق کہا گیا ہے ایسی خواتین کو جوحمل کے آخری مرحلہ میں ہیں طیارے میں سوار ہونے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ ماں اور پیداہونے والے بچے کی صحت سے متعلق شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
سعودی عرب کے حج حکام نے بھی اس کے تعلق سے متنبہ کیاہے۔ اس میں عازمین حج کو صلاح دی گئی ہے کہ وہ اپنے پورے سفرحج کے دوران حج ویزا کی ہارڈ اور سافٹ کاپی اپنے پاس رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے دکھاسکیں۔ سم کارڈ ایکٹی ویشن صرف سعودی عرب پہنچنے کے بعد ہی ہوگا۔عازمین حج کی سہولت کے لیے سم کارڈ فراہم کرنے والوں کی طرف سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں مقامات پر وافرتعداد میں کیوسک قائم کیے جائیں گے۔
تاہم ،ایکٹی ویشن کے لیے فنگر پرنٹ کی ضرورت ہوگی۔رہنما اصول میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والے عازمین حج کو مشورہ دیاگیاہے کہ وہ انڈین حاجیز انفارمیشن سسٹم ایپ ‘ڈاؤن لوڈ کریں۔یہ ایپ بہت سی خدمات فراہم کرتی ہے جن میں رہائش کی پتہ لگانے اور کسی بھی شکایت کودرج کرنے کے لیے ٹول فری نمبر کی کنکٹویٹی شامل ہیں۔ کرونا کے موجودہ خطرے کے مدنظر عازمین حج کو صلاح دی گئی ہے کہ وہ ہروقت ماسک پہنیں ،چاہے دیگر ممالک کے حجاج کرام ضابطوں پر عمل کرتے ہوں یانہ کرتے ہوں۔
عازمین حج کو خاص طورسے مشورہ دیا گیاہے کہ حرم کے علاقہ میں زمین پر پڑی کسی بھی شے کو نہ چھوئیں۔مزید برآں ،حرم کے علاقے میں کسی پرچم یا دیگر بینر وغیرہ کو نہ لے جائیں۔نہ ہی شہر سے دور(جیسے طائف یا جدہ وغیرہ نہ جائیں )کیونکہ واپسی پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دوبارہ داخلہ سے روکا جاسکتاہے۔سعودی عرب میں حج اور عمرہ کی وزارت، صحت اور نظم ونسق سے متعلق مزید رہنمااصول جاری کر سکتی ہے جس کے بارے میں مناب وقت پر مطلع کیا جائے گا۔



