بین الاقوامی خبریں

حج نے دکھوں کا مداوا کیا، چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی” فلسطینی خاتون حاجیہ کا جذباتی بیان

سعودی قیادت نے حجاج کرام کو ہر ممکن سہولت دی

ریاض، ۱۱؍جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)”حج نے میرے زخموں پر مرہم رکھا اور چہرے پر مسکراہٹ لوٹا دی” — ان جذباتی الفاظ میں فلسطینی حاجیہ فریال لطفی نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے خصوصی حج پروگرام کے تحت اپنی سعادتِ حج کا احوال بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایمان سے بھرپور یہ سفر ان تمام دکھوں کا مداوا ثابت ہوا جو برسوں فلسطین میں برداشت کیے۔

فریال لطفی کی طرح فلسطینی حاجی محمد المغربی نے بھی یہی احساس ظاہر کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے حرمین شریفین آنے والوں کی خدمت اور انہیں اعلیٰ سہولیات کی فراہمی اس ملک کی عظیم روایات کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق سعودی قیادت کا یہ قدم ان کے لیے باعثِ شکر و تحسین ہے۔

ایک اور فلسطینی حاجی احمد محمد محمود نے کہا کہ اس سال حج کے دوران جو کامیابیاں حاصل ہوئیں، وہ مملکت کی ان مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد حرمین شریفین کی خدمت اور آنے والے زائرین کو روحانیت سے بھرپور ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت نے حجاج کرام کو ہر ممکن سہولت دی تاکہ وہ عبادات پورے امن اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔

فلسطینی حاجیہ سامیہ جمعہ نے اس موقع پر سعودی خواتین کی رضاکارانہ خدمات کو سراہا، جو حج کے دوران زائرین کی مدد میں پیش پیش رہیں۔ ان کے مطابق یہ قدم نہ صرف سعودی معاشرے کی ترقی کی علامت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو ذمہ داری دی جائے تو وہ اعتماد کے ساتھ اسے نبھا سکتی ہیں۔

ادھر مناسکِ حج مکمل کرنے والے حجاج کرام اب مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ خادم حرمین شریفین کے اس حج پروگرام کو سعودی وزارتِ مذہبی امور کی نگرانی میں منظم کیا گیا، جس کے تحت اس سال 100 سے زائد ممالک کے 2,443 مسلمان مرد و خواتین کو حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان مہمانوں کو مدینہ منورہ میں بھی اعلیٰ درجے کی خدمات فراہم کی گئیں تاکہ ان کا روحانی سفر باوقار انداز میں مکمل ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button