سرورققومی خبریں

ہلدوانی تشدد: بن بھول پورہ میں 300 خاندان اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور

جمعیۃعلماء ہند کے نمائندہ وفد کا ہلدوانی دورہ،صدر دفتر میں رپورٹ پیش

دہرا دون ،12فروری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اتراکھنڈ کے ہلدوانی کے بن بھول پورہ میں حالات معمول پر آ رہے ہیں اور پولیس نے کرفیو میں نرمی کرنا شروع کر دی ہے۔ لیکن اسی دوران یہ خبر بھی آئی ہے کہ پولیس کی کارروائی کے خوف سے لوگ اب نقل مکانی کر رہے ہیں اور سینکڑوں خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہروں میں چلے گئے۔رپورٹ کے مطابق بن بھول پورہ میں اب تک تقریباً 300 خاندان اپنے گھروں کو تالے لگا کر یوپی کے مختلف شہروں میں چلے گئے ہیں۔

نقل مکانی کا عمل فی الحال جاری ہے۔ اتوار کی صبح (11 فروری 2024) کو بھی بہت سے لوگوں کو نقل مکانی کرتے دیکھا گیا۔خبر میں بتایا گیا ہے کہ مقامی پولیس نے فسادات کے سلسلے میں تفتیش کے لیے سنیچر کو بن بھول پورہ علاقے سے کئی لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ اس دوران پولیس پر طاقت کے استعمال کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ اتوار کی صبح 5 بجے سے ہی بریلی روڈ پر کئی خاندانوں کو نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

وہ 15 کلومیٹر پیدل سفر کرکے لال کنواں پہنچے۔واضح رہے کہ ہلدوانی پولیس نے اس معاملے میں اب تک 25 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے خلاف فساد، ڈکیتی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی پرہلاد نارائن مینا نے بتایا کہ شرپسندوں کے خلاف تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ تقریباً 5000 افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا۔ تشدد میں ملوث تمام ملزمین کی تلاش کی جا رہی ہے۔


جمعیۃعلماء ہند کے نمائندہ وفد کا ہلدوانی دورہ،صدر دفتر میں رپورٹ پیش

نئی دہلی ،12فروری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی کی خصوصی ہدایت پر 11 فروری کو جمعیۃعلماء ہند کا ایک پانچ رکنی وفد نے ہلدوانی فسادزہ علاقہ کا دورہ کیا، واضح رہے کہ 8 فروری کو ہلدوانی کے محلہ ملک کے باغچہ میں موجود مسجد اور مدرسہ کو نگرنگم اور انتظامیہ کے ذریعہ طاقت کے زور پر منہدم کردینے کی صورت میں وہاں فساد پھوٹ پڑا تھا جس کے نتیجہ میں 6 بے گناہ مسلم نوجوان محمد زہدا ولد نور محمد، محمد انس ولدمحمد زاہد، محمد فہیم ولد محمدناصر، محمد شعبان ولد لئیق احمد کی موت ہوگئی۔

کرفیو اور انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے فسادزہ علاقے میں جانا ممکن نہیں ہوپارہا تھا، تمام کوششوں کے باوجود 11 فروری کو جمعیۃعلماء ہند کا ایک وفد فسادزہ علاقہ میں پہنچا اور مقامی جمعیۃ کے ذمہ داروں سے ملاقات کرکے تفصیلی معلومات حاصل کیں، ہلدوانی جمعیۃعلماء کے صدر مولانا محمد مقیم نے وفد کو معاملہ کی تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 29 جنوری کو نگرنگم کی طرف سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا،جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں کافی تشویش پائی جارہی تھی اور بے چینی کا ماحول تھا،مقامی جمعیۃعلماء کی ذمہ داران کو ساتھ لیکر مقامی انتظامیہ سے بات چیت ہوئی تھی۔

میٹنگ میں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ 14 فروری کو کورٹ کا فیصلہ آنے تک مسجد اور مدرسہ کو سیل ہی رکھا جائے گا اور کسی طرح کی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن پھر اچانک 8فروری کو مقامی لوگوں کو اعتمادمیں لئے بغیر بھاری پولس فورس کے ساتھ سیل شدہ مسجد اور مدرسہ کو مسمار کردیا گیا جس کے نتیجہ میں عوامی احتجاج شروع ہوگیا اورپھر معاملہ بے قابوہوتے دیکھ کر انتظامیہ نے بے دریغ طاقت کا استعمال شروع کردیا اور پولس فورس نے بغیر کسی وارننگ کے گولی چلادی جس کے نتیجہ میں 6 بے قصورمسلم نوجوان ہلاک ہوگئے اور کافی لوگ زخمی ہوگئے اور تناؤ پیدا ہوگیا۔

وفد کو لوگوں نے بتایا کہ اگر پولس فورس سوجھ بوجھ سے کام لیتی اور مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیکر کارروائی کرتی تو اس طرح کے حالات کو پیدا ہونے سے روکا جاسکتا تھا،لیکن انتظامہ نے جو بھی کارروائی کی ہے بڑی ہی عجلت میں انجام دی اور فساد کی تمام تر ذمہ داری مقامی لوگوں پر ڈالتے ہوئے ان کی گرفتاریاں بھی شروع کردی گئیں،ابھی تک 100 سے زیادہ بے قصور لوگ گرفتار ہوچکے ہیں اور بیجا گرفتاریوں سے دہشت زدہ ہزاروں لوگ نقل مکانی بھی کرچکے ہیں یہ صورتحال یقینا تشویشناک ہے۔

وفد کو مقامی لوگوں نے بتایاکہ 10 فروری انتظامہ کی طرف سے اچانک گھروں میں جبراً گھس کر نوجوانوں کو اٹھالیا گیا جس کی وجہ سے ایک بارپھر سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔جمعیۃعلماء ہند کے وفد نے مقامی جمعیۃعلماء کے ساتھ ایس ڈی ایم پریتوش ورما، سیٹی مجسٹریٹ ریچا سنگھ اورتھانہ پربھاری نیرج بھاکونی سے ملاقات کرکے تمام صورتحال سے ان کو واقف کرایا اور اس بات کا مطالبہ بھی کیاکہ حالات پر فوری طور پر کنٹرول کیا جائے اور بے قصور لوگوں کی گرفتاری بندکی جائے۔

وفدنے متاثرہ علاقہ میں جانے کا بھی مطالبہ کیا لیکن انتظامیہ نے کرفیو کا حوالہ دیتے ہوئے وفد کو وہاں تک جانے کی اجازت نہیں دی۔ نیز وفد نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ آخر جب مقامی لوگوں اور انتظامیہ میں میٹنگ کے ذریعہ یہ طے ہوگیا تھا کہ کورٹ کا فیصلہ آنے تک کسی طرح کی انہدامی کارروائی انجام نہیں دی جائے گی تو اچانک اس قدر عجلت میں کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کئے بغیر انہدامی کارروائی کیوں کی گئی جس پر انتظامیہ نے نگرنگم کے حوالہ سے بتایا کہ انہدامی کارروائی کے آرڈر موجود ہیں،لیکن وفد نے آرڈر کی کاپی کا مطالبہ کیا تو انتظامیہ کی طرف سے کوئی آرڈر نہیں دکھائی گئی،جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس اسطرح کا کوئی آرڈر ہی نہیں تھا۔ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے وفد کی باتوں اور مطالبات کو سننے کے بعد یہ یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی بے قصور اور بے گناہ کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ اور ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button