ہلدوانی تشدد: 5000 موبائل نمبرس پولیس کی نگرانی میں، مشتبہ افراد کی ہنوز تلاش
میونسپل کارپوریشن نے عبدالملک کو نوٹس بھی جاری رک دیا ہے۔
دہرا دون ،13فروری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہلدوانی میں پیش آئے تشدد کے بعد پولیس کی کارروائی مزید تیز ہو گئی ہے۔ پولیس نے گرفتار کیے گئے 25 مبینہ شورش پسندوں کو سیشن کورٹ میں پیش کر دیا ہے جہاں سے سبھی کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا ہے۔ ان سبھی پر فساد بھڑکانے، پولیس تھانہ میں آگ لگانے، پولیس پر فائرنگ، تھانہ میں گھس کر اسلحہ لوٹنے وغیرہ الزامات ہیں۔دوسری طرف بن بھول پورہ تشدد معاملے میں گرفتار عبدالملک سے اب انتظامیہ اس تشدد میں ہوئے نقصان کی وصولی کرنے والی ہے۔ اس تشدد میں 6 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے جس کی وصولی عبدالملک سے کی جائے گی۔
اس کے لیے میونسپل کارپوریشن نے عبدالملک کو نوٹس بھی جاری رک دیا ہے۔ نوٹس میں 2 کروڑ 55 لاکھ 52 ہزار 500 روپے کی وصولی کا تذکرہ ہے۔اس درمیان پولیس اب بن بھول پورہ میں ہوئے تشدد معاملہ میں موبائل نیٹورک ٹریسنگ کی مدد سے تشدد پھیلانے والے مشتبہ افراد کی تلاش کر رہی ہے۔ پولیس کی جانچ کے دائرے میں تقریباً 5000 موبائل نمبرس ہیں۔ پکڑے گئے شورش پسندوں اور نامزد لوگوں کی کال ڈیٹیل اور واٹس ایپ ڈیٹیل کھنگالی جا رہی ہے۔ تشدد والے دن علاقہ میں کتنے اور کون کون سے موبائل نمبر فعال تھے، اس کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ ان نمبروں سے کہاں اور کن ریاستوں میں فون کیے گئے، اس کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی لوگ ایسے ہیں ،جن کی لوکیشن تشدد کے بعد بن بھول پورہ سے باہر کی ملی ہے۔ پولیس نے اب تک گرفتار ہوئے 25 ملزمین کے موبائل ریکارڈ بھی کھنگالنے شروع کر دیے ہیں۔ایس ایس پی پرہلاد نارائن مینا نے بتایا کہ تکنیک کی مدد سے جانچ کی جا رہی ہے۔
ہلدوانی تشدد: ضلع مجسٹریٹ نے 120 لوگوں کے 127 آرمس لائسنس کو کیا رد
دہرادون،13فروری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اتراکھنڈ کے ہلدوانی واقع بن بھول پورہ میں ہوئی آگ زنی، پتھر بازی اور گولی باری کے واقعہ کے مدنظر انتظامیہ کی سخت کارروائی جاری ہے۔ نینی تال کی ضلع مجسٹریٹ وندنا سنگھ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ہلدوانی شہر کے 120 لوگوں کے 127 اسلحہ لائسنس کو رد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع مجسٹریٹ نے ایس ایس پی کو سبھی اسلحے پولیس کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
ہلدوانی کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ پھنچارام چوہان نے بتایا کہ بن بھول پورہ کے مقامی لوگوں نے حادثہ کے دوران اپنے ذاتی لائسنسی اسلحوں کا غلط استعمال کر اسلحہ لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے بعد مستقبل میں اسی طرح عوامی ملکیتوں سے تجاوزات ہٹائے جانے کی مہم چلائے جانے پر ان کے ذریعہ لائسنسی اسلحوں کا غلط استعمال کیے جانے کے اندیشہ کے مدنظر ضلع مجسٹریٹ نے اسلحہ لائسنس کو اگلے حکم تک معطل کر دیا ہے۔
ضلع مجسٹریٹ نے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کو 24 گھنٹے کے اندر معطل کیے گئے اسلحہ لائسنسوں اور اسلحوں کو قبضے میں لینے کا حکم دیا ہے۔دوسری طرف ہلدوانی تشدد میں پولیس کی اب تک کی کارروائی پر نینی تال کی ضلع مجسٹریٹ وندنا سنگھ نے بتایا کہ ہلدوانی میں امن یقینی کرنے کے لیے ہم نے سبھی فریقین کے اسٹیک ہولڈرس- ٹریڈ یونینوں، صحافیوں اور عوام کو مدعو کیا تھا۔ ہمیں کوآرڈنیشن کی امید ہے۔ چونکہ ہلدوانی میں امن ہے، اس لیے کچھ چھوٹ دی گئی ہے، لیکن بن بھول پورہ میں حالات قابو میں آنے تک کچھ پابندیاں رہیں گی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ہم نے اپنے کچھ لوگوں کو معطل کر دیا ہے، جن کے اسلحے غالباً شورش پسندوں کے ذریعہ غلط استعمال میں لائے جاسکتے ہیں۔
اس درمیان بن بھول پورہ تشدد پر نینی تال ایس ایس پی پرہلاد نارائن مینا نے کہا کہ ہماری جانچ چل رہی ہے اور اس کے لیے چھ ٹیمیں تعینات ہیں۔ہم سبھی پہلوؤں پر جانچ کر رہے ہیں۔ جب مزید گرفتاریاں ہوں گی تو مطلع کیا جائے گا۔ ابھی ماحول پرامن ہے اور کوئی اضافی فورس کی ضرورت نہیں ہے۔



