حماس حملہ ہماری انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی ناکامی تھی، اسرائیلی آرمی چیف مستعفی
جو کچھ غزہ میں کیا اسے مغربی کنارے کے شمال میں دہرائیں گے: اسرائیلی ذمے دار
مقبوضہ بیت المقدس،22جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہرزی ہلیوی نے حماس عسکریت پسندوں کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے وقت سیکیوریٹی کی بڑی ناکامی کی ذمہ داری قبول کر لی۔ہلیوی نے کہا کہ وہ اس حملے کے بارے میں اسرائیل کی دفاعی افواج کی انکوائری مکمل کریں گے جو 15 ماہ کی لڑائی کا باعث بنا۔حماس کے حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,200 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ جنگجوو?ں نے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنالیا تھا۔فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 47,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل کے آرمی چیف ہرزی ہلیوی نے حماس عسکریت پسندوں کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے وقت سیکیوریٹی کی بڑی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ وہ 6 مارچ کو مستعفی ہو جائیں گے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے دہشت گرد حملے میں 1,200 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ جنگووں نے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔اسرائیل کے وزیر دفاع کو لکھے ایک خط میں ہلیوی نے کہا کہ وہ حملے کے بارے میں اسرائیل کی دفاعی افواج کی انکوائری مکمل کریں گے جو 15 ماہ کی لڑائی کا باعث بنا۔انہوں نے کہا کہ انکوائری مستقبل میں سیکیورٹی چیلنجز کے لیے کی تیاری کو مضبوط بنانے میں مدد گار ہو گی۔
ہلیوی نے، جو اسرائیل کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ ہیں، لکھاکہ میں آئی ڈی ایف (اسرائیلی ڈیفنس فورسز) کی کمان اعلیٰ معیار اور مکمل طریقے سے اپنے جانشین کو منتقل کروں گا۔سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کسی کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرانے سے متعلق سوالوں کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی انکوائری جنگ کے خاتمے کا انتظار کر سکتی ہے۔فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی میں حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 47,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔امریکہ اور بعض مغربی ممالک نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
جنگ میں حماس کے 20 ہزار ارکان ہلاک کر دیے: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج کے مستعفی سربراہ ہرزی ہیلوی کا کہنا ہے کہ ان کی فوج نے 15 ماہ سے زیادہ عرصہ قبل غزہ کی پٹی میں چھڑنے والی جنگ کے دوران میں حماس تنظیم کے تقریبا 20 ہزار اراکین کو موت کی نیند سلا دیا۔ہیلوی نے یہ بات منگل کے روز اپنے استعفے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ٹی وی پر خطاب میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کے عسکری ونگ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، اسرائیل نے تنظیم کی سینئر قیاقدت اور تقریبا 20 ہزار ارکان کو ختم کر دیا۔
اس سے قبل ہیلوی نے اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ وہ سات اکتوبر 2023 کو فوج اور سیکورٹی اداروں کی ناکامی کی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ حماس کی جانب سے غلاف غزہ کے علاقوں پر بڑے حملے کی جانب تھا۔ہیلوی نے اپنی ذمے داریوں اور منصب سے سبک دوش ہونے کے لیے 6 مارچ کا دن مقرر کیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے بتائی۔
جو کچھ غزہ میں کیا اسے مغربی کنارے کے شمال میں دہرائیں گے: اسرائیلی ذمے دار
مقبوضہ بیت المقدس،22جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایک اسرائیلی ذمے دار کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے شمال میں فوجی آپریشن کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب اسرائیلی فوج مغربی کنارے کے شہر جنین میں وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر چکی ہے۔اسرائیلی ٹی وی ”چینل 14” کے مطابق اسرائیلی ذمے دار نے منگل کی شام ایک بیان میں کہا کہ ہم نے جو کچھ غزہ میں کیا وہ مغربی کنارے کے شمال میں آپریشن میں دہرایا جائے گا۔
ادھر فتح موومنٹ کے ترجمان ایاد ابو زنیط نے العربیہ نیوز کو بتایا کہ اسرائیل مغربی کنارے کو دوسرے غزہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔العربیہ کے نمائندے کے مطابق منگل کی شام جنین پناہ گزین کیمپ میں مسلح عناصر اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔نمائندے نے مزید بتایا کہ جنین شہر اور اس کے پناہ گزین کیمپ کے بڑے حصے میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔اسرائیلی فوج نے جنین میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کے نتیجے میں 8 فلسطینی جاں بحق اور 35 زخمی ہو گئے۔ یہ بات فلسطینی وزارت صحت نے بتائی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا اور مغربی کنارے میں سیکورٹی کی صورت حال بہتر بنانا ہے۔نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایرانی محور کیخلاف منظم اور پر عزم طریقے سے حرکت میں آ رہے ہیں،وہ غزہ، لبنان، شام، یمن اور مغربی کنارے میں جہاں کہیں بھی اسلحہ بھیج رہا ہے۔ادھر فسلطینی صدر کے مشیر محمود الہباش نے آج العربیہ نیوز کو بتایا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت کبھی نہیں رکی۔
اسرائیل یہاں نیا تنازع تخلیق دینے کے لیے کوشاں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی آباد کاروں پر سے پابندیاں اٹھانے سے انھیں مزید خلاف ورزیوں کے ارتکاب کا گرین سگنل مل گیا ہے۔حماس تنظیم نے جنین آپریشن کے جواب میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپیں جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے آپریشن سے قبل فلسطینی سیکورٹی فورسز کئی ہفتوں سے جنین شہر کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کارروائی کر رہی تھی۔
چند روز پہلے فلسطینی اتھارٹی اور جنین بریگیڈ کے درمیان بحران ختم کرنے کے معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سیکورٹی اداروں نے اپنے اہل کار اور انجینئرنگ ٹیمیں جنین کیمپ میں تعینات کر دی تھیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں ان مسلح فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو اسرائیلی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔سات اکتوبر 2023 کو غزہ کی جنگ چھڑنے کے بعد مغربی کنارے میں بھی اسرائیل کی جارحیت اور پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔



