بین الاقوامی خبریںسرورق

قیدیوں کے عوض غزہ جنگ ختم کرنے کی حماس کی شرط قبول نہیں:نیتن یاھو

غزہ:لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن اور شہادتوں کے بعد یہود مخالفت میں اضافہ

مقبوضہ بیت المقدس ،6 مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے قاہرہ کی میزبانی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ بات چیت کے دوران حماس اور اسرائیل دونوں نے ایک دوسرے پر مذاکرات میں رخنہ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ انہیں غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں مستقل جنگ بندی کی حماس کی تجویز قبول نہیں۔اتوار کے روز ایک حکومتی اجلاس کے دوران خطاب تقریر میں نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک حماس کے جنگ کے خاتمے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے مطالبات کو قبول نہیں کر سکتا۔

ایسے مطالبات کو تسلیم کرنے کا مطلب تحریک کی اقتدار میں بقا پر سمجھوتہ کرنا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک غزہ کی سابقہ صورتحال پر واپس جانے کے لیے تیار نہیں۔ حماس بریگیڈز کو اس کے ٹھکانوں سے نکالنا، دوبارہ فلسطینی اتھارٹی کا غزہ پر کنٹرول قائم کرنا اور غزہ میں فوجی ڈھانچے کی تعمیر ہماری ترجیحات ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے مطالبات کی تعمیل ایک بار پھر غزہ کیجنوب میں اور پورے ملک میں آباد بستیوں میں اسرائیلیوں کو دھمکیاں دینے کی راہ ہموار کرتی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کے مطالبات پر اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے دوسرے حملے کے لیے دوبارہ حماس کو وقت دی جائے۔

تاہم انہوں نے ساتھ ہی اشارہ دیا کہ اسرائیل قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں لڑائی کو عارضی طور پر روکنے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب حماس نے اپنے سابقہ مطالبات پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ جنگ کا مکمل خاتمہ اس کے اہم مطالبات ہیں۔حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ تحریک ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی خواہشمند ہے جو غزہ سے اسرائیل کے انخلاء کی ضمانت دے اور قیدیوں کے تبادلے کا ایک ٹھوس معاہدہ حاصل کرے۔

اس میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں کے موقف میں لچک نہ ہونے کے باوجود مذاکرات کے حوالے سے افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ایک سینئر مصری ذریعے نے اشارہ دیا کہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، جس میں پیشرفت کا اشارہ ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیتن یاہو بہت زیادہ اور متضاد اندرونی دباؤ کا شکار ہیں۔ جب کہ اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ تقریباً روزانہ مظاہروں کے ذریعے دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدہ طے کریں جس کے تحت گذشتہ اکتوبر کی سات تاریخ سے محصور فلسطینی پٹی میں زیر حراست درجنوں اسرائیلیوں کی واپسی ہو سکے۔

دوسری اسرائیل کے انتہا پسند رفح پر حملہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور وہ حماس کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار نہیں۔قابل ذکر ہے کہ مصر، قطر اور امریکہ کی قیادت میں ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں پچھلے کئی مہینوں سے جاری ہیں تاہم حماس اور اسرائیل کے درمیان تا حال کسی معاہدے کے ٹھوس امکانات سامنے نہیں آئے ہیں۔

غزہ:لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی اجیرن اور شہادتوں کے بعد یہود مخالفت میں اضافہ

لندن،6 مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی اینٹی ڈیفے میشن لیگ ’اے ڈی ایل‘ نے خبر دی ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں ہزاروں عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے بعد سخت رد عمل کے طور پر یہود مخالف سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ ’اے ڈی ایل‘ نے خبردار کیا ہے کہ اس تناظر میں مغربی دنیا میں یہودیوں کا مستقبل خطرات کی زد میں رہے گا۔اے ڈی ایل کی طرف سے شائع کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ سے پہلے کے یہود مخالف واقعات میں بھی اضافہ تھا۔ لیکن اکتوبر میں اس میں بہت تیزی آگئی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ نے اس تصادم کی آگ پر مزید پیٹرول چھڑکا ہے جو پہلے ہی قابو سے باہر ہو رہی تھی۔

تل ابیب یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ طور پر لکھی گئی اے ڈی ایل کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں (اسرائیلی پالیسیوں کے باعث) جو یہود مخالف واقعات ہوئے وہ 2022 کے واقعات سے کہیں زیادہ تھے۔ یہ واقعات بالعموم ان ملکوں میں ہوئے جہاں یہودی اقلیت میں ہیں۔ ان میں امریکہ، فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی، برازیل اور میکسیکو بھی شامل ہے۔اہم بات ہے کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع کی گئی ہے جب اسرائیل میں ہولوکاسٹ کا یادگاری دن منائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

نیویارک میں قائم ادارے اے ڈی ایل کے سربراہ جوناتھن گرین بلیٹ کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے بعد جو کچھ ہوا اس نے یہود مخالف ماحول کو ایک سونامی کی شکل دے دی اور یہ سب دنیا میں دیکھنے میں آیا۔رپورٹ کے مطابق اس سال اس نوعیت کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ 2023 میں امریکہ میں بھی یہود مخالف واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ جس طرح کے ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں فلسطینی خواتین اور بچوں کی اندھا دھند ہلاکتوں کے بعد امریکہ میں فلسطین کے حق میں آواز کو امریکی یونیورسٹیوں میں غیر معمولی حمایت ملی ہے۔

یہ سات ماہ کے دوران یہود مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے تازہ ترین محاذ بتایا جارہا ہے۔اگرچہ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور اساتذہ کی صورت میں سامنے آنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ یہود مخالف نہیں ؛بلکہ اسرائیلی جنگ کے مخالف مظاہرین ہیں۔ لیکن امریکہ اور یورپ میں یہ رجحان طویل عرصے سے پایا جاتا ہے جو ان دنوں مزید شدت پکڑ گیا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں اور جنگوں کیخلاف بات کرنے والوں کو بھی یہود مخالف کہہ کر یہودی مذہبی کارڈ سامنے لے آیا جاتا ہے۔

خود اسرائیل کو بھی یہی حکمت عملی اپنی پالیسیوں کے خلاف بات کرنے والوں کے بارے میں زیادہ کار گر لگتی ہے کہ خود بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف بھی اقدامات کرتا رہے مگر جیسے ہی کوئی اس کے خلاف بولے تو ‘ ہولو کسٹ اور یہودی مذہبی کارڈ ‘ کو سامنے لے آتا ہے۔ اس میں امریکہ اور مغربی ملک اس کے ساتھ اس حکمت عملی کو لے کر چل پڑتے ہیں۔ تاہم اب امریکہ اور یورپی ملکوں کی نئی نسل میں یہودی مذہبی کارڈ کا یہ استعمال اور طریقہ واردات بے نقاب ہو رہا ہے۔

امریکہ ہمارا دوست کہلانے کا مستحق نہیں:اسرائیلی وزیر

مقبوضہ بیت المقدس ،6 مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکی صدر جوبائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان غزہ جنگ کے حوالے سے اختلافات اب کوئی راز کی بات نہیں۔ انہی اختلافات کو ایک اسرائیلی خاتون وزیر برائے آباد کاری اورٹ سٹروک کے الفاظ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے امریکی رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے اتوار کو ایک ریڈیو انٹرویو میں مزید کہا کہ وہ واشنگٹن کے رویے پر بہت فکر مند ہیں۔امریکہ اسرائیل کے بجائے جنگ روکنے کے لیے زور دے رہا ہے۔

یہ بات صاف اور واضح طور پر کہتی ہوں کہ امریکہ دوستی کا حق ادا نہیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست اسرائیل امریکی پرچم پر کوئی دوسرا ستارہ نہیں ہے۔ اسرائیل اپنا دفاع کر سکتا ہے اور اسے کرنا چاہیے۔شو کی میزبان نے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا دوست نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ دوست کے درجے کے لیے مطلوبہ کم سے کم کام معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔

سچ یہ ہے کہ وہ اسرائیل کی ریاست کا دوست کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔حالیہ عرصے کے دوران بہت سے معاملات نے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کشیدہ کیے ہیں، جن میں نیتن یاہو کا رفح شہر پر حملہ کرنے پر اصرار ایک اہم وجہ ہے۔اس میں ہزاروں بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں۔امریکہ رفح پر حملے کی مخالفت کے ساتھ ساتھ غزہ میں امداد کی فراہمی میں اضافے پر بھی زور دے رہا ہے۔فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے بائیڈن کو انتخابی طور پر بھی متاثر کیا،کیونکہ تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں نے نوجوان ڈیموکریٹس میں ان کی مقبولیت میں کمی ظاہر کی ہے ؛کیونکہ وہ جنگ کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

اسرائیل نے غلطی سے 40 فیصد اپنے ہی ڈرونز مار گرائے: رپورٹ

مقبوضہ بیت المقدس،6 مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ کی بھرپور حمایت اور بے پناہ فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں سے لیس اور حد سے خوداعتمادی کے باعث غررو میں مبتلا اسرائیلی افواج کے بارے میں یہ مضحکہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے دوران اپنے ہی ڈرونز کی ایک بڑی تعداد کو مار گرایا ہے۔یہ انکشاف امریکی میرین کور کے ایک عہدیدار نے کیا۔ اس نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے اپنے بغیر پائلٹ کے ڈرونز کے 40 فیصد کو خود ہی تباہ کردیا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل مائیکل براڈن نے میرین ڈے نمائش کے موقع پر وضاحت کی کہ اسرائیل کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ تباہ کیے گئے ڈرونز میں سے 40 فیصد کو دوستانہ فائر سے مار گرایا گیا ہے۔

اگرچہ مائیکل براڈن نے ٹائم فریم سمیت اس اعداد و شمار کے بارے میں کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کیں ،لیکن ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اعداد و شمار اکتوبر 2023 کی ساتویں تاریخ سے غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں سے حاصل ہوئے ہیں۔اس قدر تعداد میں گرائے جانے والے ڈرون کی ممکنہ وجوہات پر بحث کرتے ہوئے براڈن نے کہا کہ اسرائیلی فوجی غزہ میں مصروف ہیں۔

جب وہ ایک چھوٹے ڈرون کو دیکھتے ہیں تو انہیں سوچنا ہوتا ہے کہ اگر اس کی شناخت نہیں ہوئی تو کیا کرنا چاہیے۔ کیا یہ ڈرون ان پر حملہ کردے گا یا نہیں؟ انہوں نے وضاحت کی کہ کہ ڈرون کا پتہ لگانے کے وقت اور اس کے حملہ کرنے کے وقت کے درمیان فرق عام طور پر سیکنڈوں میں ماپا جاتا ہے۔واضح رہے اسرائیلی فوج نے بھی اس سے قبل غلطی سے اپنے ڈرون کو مار گرانے کا اعتراف کیا تھا۔ براڈن کا خیال ہے کہ یہ غلط طور پر کیا جانے والا اقدام ایک مسئلہ ہے جو فضا میں ڈرون کی تعداد میں اضافے کے ساتھ بڑھے گا۔

جنگ بندی نہیں حماس اپنے رہنماؤں کے غزہ سے انخلا کیلئے مذاکرات کر رہی ہے: فتح

رملہ،6 مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہفتہ اور اتوار کے دو دن سے قاھرہ میں مذاکرات جاری رہے تاہم اس حوالے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات انتہائی کم دکھائی دے رہے ہیں۔ جنگ بندی کی دم توڑتی امیدوں کے دوران تحریک فتح کے رہنما موفق مطر نے اپنے بیان میں حماس کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔موفق مطر نے کہا کہ حماس جنگ کو روکنے کے لیے نہیں ؛بلکہ غزہ کی پٹی سے اپنے رہنماؤں کے انخلا کو محفوظ بنانے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔

العربیہ کو دیئے گئے بیانات میں موفق مطر نے مزید کہا کہ حماس کو صرف غزہ پر حکومت کرنے اور اپنے رہنماؤں کی سلامتی کے لیے اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ مذاکرات کے دوران حماس اپنے رہنماؤں محمد الضیف اور یحییٰ السنوار کی قسمت پر بات کر رہی ہے۔ موفق نے یہ الزام بھی لگایا کہ حماس غزہ میں فلسطینی عوام کے مصائب میں اضافہ کر رہی ہے۔موفق مطر نے کہا کہ 7 اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ بیرون ملک حماس کی قیادت کے خلاف مسلح حماس کی بغاوت تھی۔ اس حملے سے بیرون ملک موجود حماس کے رہنماؤں کا غزہ میں موجود حماس پر کوئی کنٹرول باقی نہیں رہا۔

یحییٰ سنوار سات اکتوبر کے حملے کے ذریعے بیرون ملک موجود حماس کے رہنماؤں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ موفق نے مزید کہا اسرائیل نے فلسطینیوں کی صفوں کو تقسیم کرنے کے لیے حماس کی مدد کی ہے۔ آخر میں موفق نے کہا کہ حماس نے 7 اکتوبر کو جو کچھ کیا اس سے فلسطینی کاز کو بہت نقصان پہنچا ہے۔قبل ازیں اتوار کو ہی حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے حماس کے پرانے مطالبات کی تجدید کرتے ہوئے نیتن یاہو کی زیر قیادت اسرائیلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ حماس اب بھی ایک ایسے جامع اور مربوط معاہدے تک پہنچنے کی خواہاں ہے جو جارحیت کو ختم کردے، اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دے اور قیدیوں کے تبادلے کے سنجیدہ اقدام تک پہنچا دے۔

دوسری طرف نیتن یاہو نے ہٹ دھری جاری رکھی اور کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے حماس کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی درخواست کو قبول کرنا اسرائیل کے لیے ایک خوفناک شکست ہے۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ حماس کے مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالنا اسرائیل کے لیے ایک ہولناک شکست ہے۔ یہ حماس، ایران اور برائی کے اس پورے محور کے لیے ایک بڑی فتح کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے تمام اہداف کے حصول تک جنگ جاری رکھے گا۔

نیتن یاھو کے دفتر کے باہر حماس کے ساتھ معاہدے کے مخالف مظاہرین کا احتجاج

مقبوضہ بیت المقدس،6 مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے سامنے درجنوں افراد نے جنگ سے سوگوار خاندانوں سے وابستہ ایک فورم پر مشتمل لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ نہ کرے۔مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے متوقع معاہدے کیخلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اسے قبول نہ کریں۔دوسری جانب گذشتہ شام کو یرغمالیوں کے رشتہ داروں سمیت ہزاروں افراد نے تل ابیب میں مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت ایک ایسے معاہدے پر پہنچے جس سے ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

نیتن یاہو کی تصویر والے ایک بڑے بینر پر لکھا تھا کہ آپ کسی بھی معاہدے کو کمزور کر رہے ہیں۔کل ہفتے کے روز قاہرہ میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنا ہے۔ دوسری جانب دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔اسرائیل نے اپنا وفد قاہرہ نہیں بھیجا۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے زور دے کر کہا تھا کہ اسرائیل سے ایک وفد کو مصری دارالحکومت بھیجنا یرغمالیوں کے معاہدے کے فریم ورک کے حوالے سے مثبت پیشرفت دیکھنے کے لیے منحصر ہے۔

سات اکتوبر کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ نے اسرائیل کو گولہ بارود کی ترسیل بند کی

مقبوضہ بیت المقدس،6 مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دو اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کو گولہ بارود کی ترسیل معطل کر دی تھی۔ حکام نے ’’ایکسیوس‘‘ کو بتایا کہ اس قدم نے اسرائیلی حکومت کے اندر شدید تشویش پیدا کردی ہے اور حکام اس کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش پر مجبور ہوئے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ نے فروری 2024 میں اسرائیل سے اس بات کی گارنٹی فراہم کرنے کو کہا تھا کہ غزہ میں بین الاقوامی قانون کے مطابق امریکی ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔ تل ابیب نے مارچ میں ضمانتیں فراہم کی تھیں۔ اس ضمن میں وائٹ ہاؤس نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ پینٹاگون، امریکی محکمہ خارجہ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا ہے۔

یاد رہے یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے لیے ہتھیاروں کی کھیپ روکی ہے۔ ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ اسرائیل غزہ کے انتہائی جنوبی شہر رفح پر حملہ کرے گا۔ رفح میں غزہ کی پٹی کے دیگر علاقوں سے آکر 11 لاکھ کے قریب افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اتوار کو ایک بیان میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ تناؤ کا اشارہ دیا۔منگل کو نیتن یاہو نے کہا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ ہو یا نہ ہو اسرائیلی فوج ہر حال میں رفح پر زمینی حملہ کرے گی۔

یہ خیال کہ ہم جنگ کو اس کے تمام اہداف حاصل کرنے سے پہلے روک دیں گے ناقابل تصور ہے۔ یاد رہے تل ابیب کے اہم اتحادی امریکہ کی قیادت میں بہت سے بین الاقوامی اور امدادی اداروں کے ساتھ ساتھ بیشتر مغربی ملکوں نے رفح پر ممکنہ حملے کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بارہا کہا ہے کہ رفح کے لوگوں کے لیے پناہ لینے کے لیے پوری پٹی میں کوئی بھی محفوظ جگہ موجود نہیں ہے۔

جلد رفح میں داخل ہوں گے،اسرائیلی وزیر دفاع، نیتن یاھو دیر نہ کرو: وزیر قومی سلامتی

مقبوضہ بیت المقدس ،6 مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک طرف حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں تو دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلہ کے معاہدہ نہ کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ حماس نے ایسے اشارے دے دیے ہیں کہ وہ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ معاہدہ نہ ہوا تو اسرائیل اس کی حمایت کرے گا اور جلد ہی ہم رفح اور دیگر علاقوں میں داخل ہوجائیں گے۔

ادھر اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی بین گویر نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اب رفح میں داخل ہوجاؤ!بن گویر نے ’’ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا ہم نے غزہ پر حملہ نہیں کیا اور ہمیں 7 اکتوبر مل گیا، ہم نے فوری حملہ نہیں کیا تو ہمیں ایک سخت حملے کا سامنا کرنا پڑا، نیتن یاھو اب رفح کی طرف جاؤ۔اسرائیلی وزیر کا ٹویٹ اسرائیلی وزیر اعظم کے ان بیانات سے مطابقت رکھتا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اسرائیل حماس کے جنگ کے خاتمے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

واضح رہے بین گویر کے یہ الفاظ نیتن یاہو کے دفتر کے سامنے اتوار کو ہونے والے مظاہروں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ قیدیوں کے معاہدے کو ختم نہ کریں۔ اتوار کو ہی اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے غزہ کی پٹی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے لیے ایک مظاہرے میں رفح شہر پر حملے کو تیز کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ سموٹریچ نے کہا ہر کوئی قیدیوں کو واپس لانا چاہتا ہے لیکن ہتھیار ڈالنا نہیں۔

ہم نے آئینہ دکھایا تو برا مان گئے :اسرائیل میں ’الجزیرہ ‘پر پابندی عائد، دفاتر پراسرائیلی فوج کی چھاپہ ماری

مقبوضہ بیت المقدس ،6 مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل میں الجزیرہ پر پابندی عائدکردی ہے، نیز دفاتر پراسرائیلی فوج کی چھاپہ ماری بھی کی گئی ہے۔ الجزیرہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ الزام کہ الجزیرہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، ایک خطرناک اور مضحکہ خیز جھوٹ ہے،فیصلہ افسوسناک ہے۔آزادی اظہار اہم انسانی حق ہے۔اسرائیلی حکام نے یروشلم میں اس ہوٹل کے کمرے پر چھاپہ مارا ہے جسے الجزیرہ ٹی وی اپنے آفس کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ایک اسرائیلی افسر اور الجزیرہ کے ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ کارروائی اتوار کو حکومت کے اس فیصلے کے بعدکی گئی ہے کہ اسرائیل میں الجزیرہ ٹی وی کے آپریشن کو بند کر دیا جائے۔

آن لائن پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افسر کیمرے کے الیکٹرونک سامان کو ہوٹل کے کمرے سے باہر لے جا رہے ہیں۔ الجزیرہ کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ مقام مشرقی یروشلم میں ہے۔وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کی کابینہ نے الجزیرہ ٹی وی پر غزہ میں جنگ کے جاری رہنے تک پابندی عائد کی ہے۔ کابینہ کے مطابق یہ فیصلہ الجزیرہ ٹی وی سے ملک کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہونے کے باعث کیا گیا۔الجزیرہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس اقدام کو مجرمانہ قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ الزام کہ الجزیرہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، ایک خطرناک اور مضحکہ خیز جھوٹ ہے، اور نیٹ ورک کے مطابق اس کے نتیجے میں اس کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ وہ اس ایکشن کے خلاف تمام قانونی اقدامات کرے گا۔قطری حکومت کی ملکیت الجزیرہ ٹی وی غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل پر تنقید کرتا آیا ہے۔

نیتن یاہو نے اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہیکہ الجزیرہ کی جانب سے جاری اشتعال انگیزی اسرائیل میں بند رہے گی۔حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے کمیونی کیشن کے وزیر نے فوری طور پر لاگو ہونے والے احکامات جاری کیے ہیں، لیکن رائٹرز کے مطابق ایک قانون ساز کا کہنا ہے کہ الجزیرہ عدالت میں حکومت کے احکامات کو چیلنج کر سکتا ہے۔ان احکامات میں الجزیرہ ٹی وی کے اسرائیل میں آفس بند کرنے، سامان ضبط کرنے، اس کی نشریات کیبل اور سیٹلائیٹ سے ہٹانے اور اس کی تمام ویب سائٹس کو بلاک کرنا شامل ہے۔ نیٹ ورک کے غزہ میں جاری آپریشن کے بارے میں ان احکامات میں تذکرہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کے سیٹلائیٹ اور کیبل ٹی وی آپریٹرز نے الجزیرہ کی نشریات کو حکومتی احکامات کے بعد بند کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آفس نے نیٹ ورک پر اسرائیل میں عائد کردہ پابندی پر تنقید کی ہے۔ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری کیے جانے والیاپنے بیان میں کہا کہ الجزیرہ پر اسرائیل میں پابندی افسوس ناک ہے۔ادارے کے بقول آزاد اور غیر جانبدار میڈیا، احتساب اور شفافیت کے لیے ضروری ہے، خصوصاً اب جب کہ غزہ میں رپورٹنگ پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

آزادی اظہار اہم انسانی حق ہے۔ ہم حکومت سے اس پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔خیال رہے کہ الجزیرہ ہی وہ واحد چینل ہے، جس نے اسرائیلی کی ریاستی دہشت گردی کے ہولناک چہرے کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے، اور نہتے فلسطینیوں کے اوپر ڈھائے جا رہے اسرائیلی مظالم سے پوری دُنیا کو با خبر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button