بین الاقوامی خبریںسرورق

حماس ایک نظریہ ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا، اسرائیلی فوجی ترجمان کا اعتراف

اگر ہم نے کوئی متبادل نہ پیش کر سکے تو حماس پھر سے ہمارے ساتھ ہی۔۔۔

مقبوضہ بیت المقدس ، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے اسرائیل کی حماس کے خاتمے کے اسرائیلی عزائم کے حوالے سے کہا ہے کہ حماس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی اسرائیل کی طرف نے اس پیدا ہوئے تاثرکہ اسرائیل نے حماس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ،کا ازالہ کرنے کے لیے کہا کہ اسرائیل حماس کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔اسرائیل پر سات اکتوبر کو حماس نے ایک بے مثال حملہ کیا تھا، لیکن اس کے بعد اسرائیل کی طرف سے ساڑھے آٹھ ماہ سے جاری بد ترین جنگ کے باوجود حماس کے حوالے سے اپنے اہداف کو پورا نہیں کر سکی ہے۔ حتیٰ کہ تمام تر کی گئی ہلاکتوں اور تباہی کے باوجود اپنے یرغمالیوں کو بھی حماس کی قید سے چھڑانے میں ناکام ہے۔ریئر ایڈمرل ہگاری نے کہا کہ یہ کہنا ہے کہ ہم ہم حماس کو مٹانے جارہے ہیں لوگوں کی آنکھوں میں ریت جھونکنے کے مترادف ہے۔

اگر ہم نے کوئی متبادل نہ پیش کر سکے تو حماس پھر سے ہمارے ساتھ ہی موجود ہو گی۔ فوجی ترجمان ڈینئیل 13 سے بات کر رہے تھے۔ایڈمرل ہگاری نے کہا ‘ حماس ایک نظریہ ہے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس بیان کے سامنے آنے کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے فوری جواب دیا اور اس بیان کو مسترد کر دیا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہم حماس کو تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں، یقینا اس میں اسرائیلی فوج بھی پر عزم ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے رد عمل کے بعد کہا ہے ہے ایڈمرل ہگاری نے حماس کو ایک نظریے کے طور پر بیان کیا ہے جو واضح ہے اور بالکل صاف بات ہے۔ ‘گویا فوج نے حماس کو ایک نظریے کے طور پر ہگاری کے بیان کرنے کی تائید مزید کی ہے۔واضح رہے غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 37396 فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ تقریباً 23 لاکھ کی آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ پورا غزہ تباہی کا منظر پیش کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود ابھی جنگ جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button