بین الاقوامی خبریںسرورق

غزہ جنگ کے 9 ماہ: 16 ہزار بچے شہید، 17 ہزار یتیم ہوگئے

غزہ میں اسرائیلی بربریت کے 9 ماہ مکمل حماس کو جنگ بندی کی تجویز پر اسرائیل کے جواب کا اب بھی انتظار

غزہ ، 8جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حماس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی سے متعلق اپنی تجویز کے بارے میں اسرائیل کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔ فلسطینی گروپ کے دو عہدے داروں نے یہ بات غزہ میں نو ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے کا ایک کلیدی حصہ قبول کرنے کے پانچ روز کے بعد کہی ہے۔حماس کے دو عہدیداروں میں سے ایک نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ہم نے ثالثوں کو اپنے جواب سے آگاہ کر دیا ہے اور اب ہم قابض فورسز کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن نے تین مرحلوں پر مشتمل یہ منصوبہ مئی کے آخر میں پیش کیا تھا اور قطر اور مصر اس منصوبے کی ثالثی کر رہے ہیں۔منصوبے کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور 120 اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی ہے۔جنگ بندی کی بات چیت سے آگاہی رکھنے والے ایک فلسطینی عہدے دار نے بتایا ہے کہ اسرائیل قطری ثالثوں سے بات چیت کر رہا ہے۔

حماس کے ایک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ انہوں نے حماس کے جواب پر ان (اسرائیل) سے بات کی ہے اور انہوں(ثالثوں) نے وعدہ کیا ہے کہ وہ چند روز میں انہیں اسرائیل کے ردعمل سے آگاہ کر دیں گے۔حماس نے، جس کا غزہ پر کنٹرول رہا ہے، اپنے اس کلیدی مطالبے سے دستبردار ہو گئی ہے کہ اسرائیل معاہدے پر دستخط سے قبل مستقل جنگ بندی کا وعدہ کرے۔ اس کی بجائے حماس نے کہا ہے کہ وہ چھ ہفتے کے پہلے مرحلے میں مذاکرات کو یہ مقصد حاصل کرنے کی اجازت دے گی۔حماس کے ایک ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہفتے کے روز یہ بات ’رائٹرز‘ کو بتاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات چیت پرائیویٹ ہے۔امن کی کوششوں سے آگاہی رکھنے والے ایک فلسطینی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل اسے قبول کر لیتا ہے تو معاہدے کا ایک طریقہ کار طے ہو سکتا ہے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر ولیم برنز آئندہ ہفتے مذاکرات کے لیے قطر جائیں گے۔

اسرائیل اور حماس کا حالیہ تنازع سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اب تک 38 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔خیال رہے کہ اتوار کو غزہ میں جنگ کو نو ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔اسرائیل میں اتوار کے روز مظاہرین حکومت پر یہ زور دینے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے کہ وہ غزہ میں قید یرغمالوں کو واپس لانے کے لیے کوئی معاہدہ کرے۔مظاہرین نے ملک بھر میں رش کے اوقات میں چوراہوں پر ٹریفک کو روک دیا، سیاست دانوں کے گھروں کے باہر دھرنا دیا اور تل ابیب یروشلم ہائی پر ٹائروں کو آگ لگا کر بند کر دیا جسے بعد ازاں پولیس نے کھول دیا۔

غزہ جنگ کے 9 ماہ: 16 ہزار بچے شہید، 17 ہزار یتیم ہوگئے

 فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کو 9 ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے جنگ کے 9 ماہ کے دوران ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک کم از کم 38 ہزار 153 افراد شہید ہوچکے ہیں، 87 ہزار 828 افراد زخمی ہیں جبکہ 10 ہزار افراد لاپتا ہیں۔7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں تقریباً 16 ہزار بچے شہید ہوچکے ہیں جن میں سے 34 بچے خوراک کی قلت کے باعث شہید ہوئے۔سرکاری میڈیا آفس کے مطابق غزہ میں 17 ہزار بچے ایسے ہیں جن کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک شہید ہوچکا ہے۔اسرائیلی حملوں میں اب تک 10 ہزار 637 خواتین بھی شہید ہوچکی ہیں۔

غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک طبی عملے کے 500 اہلکار اور سول ڈیفنس کے 75 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 158 صحافی بھی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کے اسپتالوں کے اطراف سے اب تک 7 اجتماعی قبروں سے 520 لاشیں مل چکی ہیں۔سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کے 157 کیمپوں پر حملے کرچکی ہے۔غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والوں میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button