بین الاقوامی خبریںسرورق

46 دن کی خونریزی کے بعد : حماس -اسرائیل میں محض 4 روزہ جنگ بندی پر اتفاق

اسرائیل کے ساتھ ’فائربندی معاہدے‘ کے قریب ، حماس کا بھی عندیہ

 دبئی، 22نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے غزہ پٹی کے علاقے میں 46 دن کی خونریز جھڑپوں کے بعد قطر-مصر کی ثالثی کے تحت اسرائیل کے ساتھ چار روزہ جنگ بندی کا معاہدہ کیا ہے۔دوسری طرف اسرائیل کے سرکاری کان ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے بدھ کے روز حماس کے ذریعہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور مزید انسانی امداد کے داخلے کے لیے قطر کی ثالثی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔اسرائیل اور حماس منگل کے روز غزہ کی پٹی میں قید درجنوں یرغمالیوں کو اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے رہا کرنے کے لیے چھ ہفتے سے جاری تباہ کن جنگ کو عارضی طور پر روکنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب نظر آئے تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ووٹنگ کے لیے اپنی کابینہ کا اجلاس بلایا جس میں انھوں نے کہا کہ جنگ بندی ختم ہوتے ہی حماس کے خلاف اسرائیلی حملے دوبارہ شروع کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہم جنگ جاری رکھیں گے،ہم اپنے تمام اہداف حاصل کرنے تک جاری رکھیں گے۔


حماس – اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پچاس اسرائیلیوں کے بدلے300 فلسطینیوں کی رہائی

 دبئی، 22نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) العربیہ ڈاٹ کام کے دعویٰ کے مطابق اسرائیل نے قیدیوں کے معاہدے کے حتمی مسودے کا جواب دینے کے لیے ڈیڈ لائن کی درخواست کی ہے، کیونکہ قیدیوں کی ڈیل کے حوالے سے باقی ماندہ نکات اس وقت حل کیے جا رہے ہیں جن میں قیدیوں کی رہائی اورانکی حوالگی کا طریقہ کار شامل ہے۔یہ بات حماس کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے قریب آنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں، جس میں مخصوص مدت کے لیے جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ اور امداد کا داخلہ شامل ہے۔فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ معاہدے میں 5 دن کے لیے جنگ بندی اور تقریباً 300 فلسطینی اسیران کے بدلے تقریباً 50 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

رائیٹرز نے بتایا کہ حماس تحریک نے قطری بھائیوں اور ثالثوں کو اپنا جواب پہنچا دیا ہے۔ یہ کہ جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے قریب تھا۔آج منگل کو حماس کے ایک عہدیدار نے توقع ظاہر کی کہ قطری ثالث چند گھنٹوں کے اندر معاہدے کی تفصیلات کا اعلان کر دے گا، جو کہ جنگ بندی کے مذاکرات میں پیش رفت اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا اشارہ دے گا۔اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کل پیر کو کہا کہ اسرائیلی حکومت نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔

اس سے قبل مصری ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ مصری اور امریکی حکام کے درمیان غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر پہنچنے کے لیے بات چیت ہوئی تھی۔ذرائع نے قاہرہ نیوز چینل کو بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت اس بات پر مرکوز رہی کہ کس طرح پرامن رہتے ہوئے قیدیوں کو رہا کیا جائے۔گذشتہ جمعرات کی شام حماس کے رہ نماؤں کے ایک وفد نے قاہرہ میں مصری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر میجر جنرل عباس کامل سے ملاقات کی اور ان تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔مصری ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حماس کے وفد نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی حملوں اور قتل عام کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ جنگ بندی ہو جائے گی اور امدادی قافلے غزہ کی پٹی میں داخل ہوں گے۔


اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کیلئے مذاکرات ’آخری مرحلے‘ میں ہیں: قطر

دوحہ، 22نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)قطر نے کہا ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات معاہدے کے ’قریب ترین مقام‘ پر ہیں اور ’آخری مرحلے‘ میں پہنچ چکے ہیں۔اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد یرغمال بنائے گئے چار اسرائیلیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ’ہم معاہدے کے جتنے قریب اب پہنچ چکے ہیں اس سے پہلے نہیں تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات ’آخری مرحلے‘ میں پہنچ چکے ہیں۔قطر نے عارضی جنگ بندی کے بدلے 240 اسرائیلی مغویوں میں سے کچھ کو آزاد کرنے کے لیے مذاکرات میں مدد کی ہے اور چار مغوی پہلے ہی رہا کیے جا چکے ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ ہم مذاکرات کے بارے میں بہت پر امید ہیں۔ماجد الانصاری نے کہا کہ اس ثالثی کے لیے ہم بہت زیادہ خواہش مند ہیں کہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ ترعام شہری تھے جس کے جواب میں حماس کے متعدد ٹھکانوں پر تباہ کن حملے کئے گئے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے حماس کے زیر اقتدار علاقے پر مسلسل جوابی بمباری اور زمینی جنگی کارروائیوں میں 13300 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ فریقین کم از کم پانچ دنوں کے لیے جنگی کارروائیاں روکیں گے جس کے دوران کچھ یرغمالیوں کو مرحلہ وار رہا کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس نے ایکس(ٹوئٹر)اکاؤنٹ سے ایک پیغام کے ساتھ ہفتے کی شام فوری طور پر جواب میں کسی بھی اہم پیش رفت کی تردید کی۔وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ہم نے یہاں اور وہاں بہت سارے بیانات دیکھے ہیں لیکن ہم معاہدے پر حتمی فیصلہ ہونے تک اپنے بیانات برقرار رکھنے کو ترجیح دیں گے۔


اسرائیل- حماس کے درمیان یرغمالوں کی رہائی پر جلد معاہدہ کا امکان: بائیڈن

واشنگٹن، 22نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے جلد ایک معاہدہ ہونے کا امکان ہے جب کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق قطر کی معاونت سے اسرائیل اور حماس میں معاملات طے کرنے کا عمل جاری ہے جس کے تحت ممکنہ طور پر عارضی جنگ بندی کے بدلے کچھ یرغمالوں کو رہا کیا جائے گا۔وائٹ ہاؤس میں پیر کو ایک تقریب کے دوران جب امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے یرغمالوں کی رہائی کے لیے معاہدے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایسا ہی ہے۔انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اس طرح نشان بنایا کہ انہیں سب اچھا ہونے کی امید ہے۔

خبر مطابق حماس کے سیاسی مرکز کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بمباری جاری ہے اور علاقے ے اسرائیل پر میزائل داغے جا رہے ہیں۔حماس نے ان مذاکرات میں معاونت کرنے والے ملک قطر کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے۔تاہم اس نے معاہدے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔قبل ازیں پیر کو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی صدر ماریانا نے قطر میں اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی تھی۔ریڈ کراس نے بیان میں کہا تھا کہ وہ یرغمالوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شامل نہیں البتہ وہ مستقبل میں یرغمالوں کی رہائی کے لیے ہونے والے اقدامات میں معاونت کر سکتی ہے۔


اسرائیل نے جنگ میں وقفے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو دی منظوری

اسرائیلی حکومت نے غزہ جنگ میں وقفے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دے دی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق حماس کی قید سے 50 خواتین اور بچوں کو چار دنوں میں رہا کیا جائے گا، اس دوران جنگ میں وقفہ ہوگا۔عرب میڈیا کے مطابق اس دوران اسرائیلی قید سے 150 فلسطینی بھی رہا کیے جائیں گے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے وقفے کے بعد حماس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ مشکل لیکن درست ہے۔دوسری جانب حماس نے اپنے بیان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button