بین الاقوامی خبریںسرورق

حماس- اسرائیل جنگ مستقل خاتمہ چاہیے،اسپین میں منعقدہ کانفرنس میں مطالبہ

اسرائیل کیخلاف اسپین کا واضح موقف، جنگ جنگ کیلئے جواز نہیں ہوسکتی

بارسلونا،28نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل اور حماس کی جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد سپین کے دارالحکومت بارسلونا میں ہوا ہے۔کانفرنس میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے وفود شریک ہوئے۔کانفرنس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل اور اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کی۔واضح رہے اسرائیلی نمائندے نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ہے۔ میزبان ملک اسپین کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی ہی مشرق وسطیٰ میں امن لانے کے لیے ممکنہ طور پر واحد قابل بھروسہ شراکت دار ہے۔وزیر خارجہ سپین نے کانفرنس کے آغاز سے پہلے سعودی وزیر خارجہ کے زیر قیادت آئے عرب اور اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے وفد سے ملاقات کی ہے۔ عرب اور اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا وفد پچھلے کئی دنوں سے مختلف اہم ملکوں کے دورے کر چکا ہے تاکہ غزہ میں جاری صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے متوجہ کر سکے۔عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کے اس مسلسل دورے کے حوالے سے سپین پانچویں کڑی ہے۔

اس سے قبل چین، روس، برطانیہ اور فرانس میں ملاقاتیں کر چکے ہیں۔اسرائیل کی اس کانفرنس میں عدم شرکت کو یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے بہت محسوس کیا۔ بوریل نے کہا کہ اسرائیل کی غیر حاضری پر افسوس ہے۔یورپی رہنما نے حماس کی اسرائیل پر حملے کے حوالے سے مذمت کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کو غزہ پر حملے مستقلاً بند کرنے چاہیے کہ غزہ میں 5000 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔جوزپ بوریل نے اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی خوف کو ہولناکی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن یورپ اور بحر متوسط کی کمیونٹی اور اس سے آگے تک کے لوگوں کے لیے ضرورت بن چکا ہے۔اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نے کہا بات چیت سے عرب دنیا اور یورپ کے درمیان فاصلے کم کرنے میں مدد ملے گی۔


غزہ جنگ بندی مکمل جنگ بندی بن جانا چاہیے: مصری وزیر خارجہ

قاہرہ،28نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کو مکمل جنگ بندی میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ سامح شکری نے زور دیا کہ عالمی اتفاق رائے سے دوہرے معیارات کو مسترد کرنا چاہیے۔ مشرق وسطیٰ میں جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعات کو منظم کرنے کے لیے کسی راستے پر پہنچنا نہیں ہے بلکہ اصل ضرورت دو ریاستی حل کو نافذ کرنے پر کام کرنے کی ہے۔سامح شکری نے مزید کہا مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کے شیطانی دائروں میں داخل ہونا صرف اسرائیل کی یک طرفہ پالیسیوں میں توسیع کا باعث بنتا ہے۔ اس سے قبل بدھ کو سامح شکری نے کہا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نقل مکانی پر زور دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر مسترد کیا جا رہا ہے۔

مصری وزیر خارجہ نے پیر کو ہسپانوی وزیر خارجہ کے ساتھ عرب اسلامی وزارتی کمیٹی کی ملاقات کے دوران کہا کہ نقل مکانی کی مخالفت کرنے والے ممالک اسے ہونے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں جنگ بندی کو اس وقت تک حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک اسرائیل کو یہ احساس نہ ہو کہ یہ اس کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کو صرف صرف بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔سامح شکری نے مزید کہا کہ اسرائیل کے رکاوٹیں ڈالنے والے اقدامات کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی امداد کی رقم بہت کمزور ہے اور اسی وجہ سے عرب اور اسلامی ممالک نے سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے۔

یاد رہے مصر نے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے گھر کرنے کو مسترد کیا ہے اور غزہ سے فلسطینیوں کی کسی بھی نقل مکانی کو فلسطینی کاز کو ختم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔واضح رہے پیر کے روز یورپی یونین کے رکن ممالک، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے وفود نے ہسپانوی شہر بارسلونا میں غزہ کی جنگ پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔ یونین فار دی میڈیٹیرینین فورم میں رکن ممالک کے 42 وفود نے شرکت کی اور اکثر وزرائے خارجہ اپنے وفود کی سربراہی کی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کوآرڈینیٹر جوزپ بوریل اور اردنی وزیر خارجہ ایمن صفدی نے بحیرہ روم کے لیے یونین کے آٹھویں وزارتی فورم کی صدارت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button