بین الاقوامی خبریں

حماس کے اعلیٰ ترین ’دماغ ‘اسرائیل کے نشانے پر سر فہرست

اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ جب وہ غزہ پر حملہ کرے گا تو حماس کے ہر رکن کو موت کا سامنا کرنا ہوگا

مقبوضہ بیت المقدس،21اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)  اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ جب وہ غزہ پر حملہ کرے گا تو حماس کے ہر رکن کو موت کا سامنا کرنا ہوگا لیکن 7 اکتوبر کے حملوں کے دو ملزم منصوبہ ساز اس کے نشانے پر سرِفہرست ہیں۔فوجی حکمت عملی ساز محمد ضیف اور سیاسی رہنما یحییٰ سنوار پہلے ہی اسرائیلی یا فلسطینی جیلوں میں وقت گزار چکے ہیں اور کئی بار قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔محصور غزہ کی پٹی میں حماس کے دو سینئر ترین رہنماؤں کی تلاش اس دفعہ بہت غضبناک ہوگی۔لفظی جنگ میں جو کہ عنقریب زمینی حملے کی طرف لے جا رہی ہے، اسرائیل نے کہا ہے کہ سنوار ایک چلتا ہوا مردہ ہے ،جبکہ حماس کے جنگجوؤں نے تقریباً 1400 افراد کو ہلاک اور 200 سے زیادہ کو اغوا کر لیا ہے۔

75 سال قبل اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سے یہ اب تک کا بدترین حملہ ہے۔حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے حماس کے حملوں کا جواب غزہ پر جانکاہ بمباری سے دیا ہے جس میں 3,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ساتھ ہی وہ مہلک انتباہات بھی دیتا رہا ہے۔وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ حماس کے پا س دو راستے ہیں: قتل ہو جائیں یا غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں۔ کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔حماس کے ترجمان نے جواب دیا ہے کہ فلسطینی اسلامی گروپ خوفزدہ نہیں ہے۔

غزہ سے باہر سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ ضیف اور سنوار اب سرنگوں کے اس نیٹ ورک میں سرایت کر گئے ہیں جو سرحد کے قریب کمیونٹیز اور فوجی اڈوں پر وحشیانہ حملوں کے بعد شروع کی گئی بمباری کی مہم کے خلاف مزاحمت کے لیے تعمیر کی گئی ہیں۔ اور اس نیٹ ورک نے اسرائیل کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔لیکن اس جوڑے نے سائے کی شکل میں کام کرتے ہوئے برسوں گذارے ہیں۔اسرائیل نے 61 سالہ سنوار کو منتخب کیا ہے جو 2017 میں اسماعیل ھنیہ کے حماس تحریک کا سپریم لیڈر بننے کے بعد غزہ میں حماس کے رہنما منتخب ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button