حماس ارکان کو تلاش کریں گے،جیسامیونخ اولمپکس کے بعد کیا تھا: موساد
اس حملے کے پس پشت اسرائیل تھا۔
مقبوضہ بیت المقدس،4 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیل کی انٹیلی جنس سروس موسادکے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایجنسی سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث حماس کے ہر رکن کو تلاش کرے گی، خواہ وہ کہیں بھی ہو۔ ان کا یہ عہد بیروت میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے نائب سربراہ صالح العاروری کی ایک مشتبہ اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔اسرائیل نے ان رپورٹس پر کہ اس نے ہلاکت کی وہ کارروائی کی تھی،کسی تبصرے سے انکار کر دیا ہے، لیکن ڈیوڈ برنیا کے تبصرے بظاہر اس بات کی ٹھوس نشاندہی تھے کہ اس حملے کے پس پشت اسرائیل تھا۔
برنیا نے موساد کے ایک سابق سربراہ زیوی ضمیر کی تدفین کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے 1972 کے میونخ میں قتل عام کے ردعمل کا ذکر کیا جب موساد کے اہلکاروں نے اس سال اولمپک گیمز میں اسرائیلی کھلاڑیوں کی ہلاکت میں ملوث متعدد فلسطینی عسکریت پسندوں کو تلاش کیا تھا اور انہیں ہلاک کر دیا تھا۔
لبنانی دار الحکومت میں ایک حملے میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کی ہلاکت کے بعد لبنان کی طاقتور حزب اللہ ملیشیا کی جانب سے ردعمل کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل بدھ کو انتہائی الرٹ رہا۔لگ بھگ تین ماہ قبل غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد سے یہ حماس کے کسی انتہائی سینئر عہدے دارکی پہلی ہلاکت تھی۔اس ہلاکت کے غزہ جنگ پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے۔ اسرائیل گزشتہ برسوں میں حماس کے کئی چوٹی کے رہنماؤں کو ہلاک کر چکا ہے لیکن اس نے دیکھا ہے کہ ان کی جگہ جلد ہی کوئی متبادل لے لیتا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حزب اللہ کے جنوبی بیروت کے گڑھ پر حملہ لبنان کی سرحد کے ساتھ کم تر شدت کی لڑائی کی وجہ بن سکتا ہے جو پھیل کر ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔



