وزیراعلیٰ کو ہندو مخالف دکھانا چاہتے تھے: پولیس کا دعویٰ
ممبئی، 29 اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شیوسینا سربراہ اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی ذاتی رہائش گاہ ماتوشری کے باہر ہنومان چالیسا پڑھنے کیلئے ممبئی میں گرفتار نونیت اور روی رانا جوڑے کی ضمانت پر سماعت آج ملتوی کر دی گئی۔ ممبئی کی سیشن عدالت اب ان کی درخواست پر کل سماعت کرے گی۔ ضمانت کی درخواست کے جواب میں پولیس کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رانا جوڑے اور بی جے پی نے ہنومان چالیسا کے پروگرام کو ایم وی اے حکومت کو چیلنج کیا اور ایک بڑی سازش تھی۔
اس کے ذریعے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو ہندو مخالف کے طور پر پیش کیا جانا تھا۔ عدالت رانا جوڑے کی درخواست ضمانت کی سماعت 30 اپریل کو دوپہر 2.45 بجے کرے گی۔ سرکاری وکیل پردیپ گھرت نے بتایا کہ ممبئی پولیس نے عدالت میں اپنا جواب داخل کر دیا ہے۔
اس میں ایم پی نونیت رانا اور ایم ایل اے روی رانا کو ضمانت نہ دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ پولیس نے ان کی درخواست ضمانت کی سخت مخالفت کی ہے۔ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے خصوصی عدالت میں دعویٰ کیا کہ وزیراعلی ٹھاکرے کے گھر کے باہر ہنومان چالیسا پڑھنے والا رانا جوڑا بے قصور لگ سکتا ہے، لیکن یہ مہاراشٹرا میں حکمراں مہا وکاس اگھاڑی حکومت کو چیلنج کرنے کی ایک بڑی سازش تھی۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن بی جے پی اور ٹھاکرے کے سیاسی مخالفین اسے ہندو مخالف ثابت کرنے کیلئے ماحول بنانا چاہتے ہیں اور یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہندوؤں کے مفاد کے لیے کام نہیں کررہے ہیں۔