جرائم و حادثاتسرورققومی خبریں

پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے سے آتشزدگی، 6 ہلاک ، 60 زخمی

ہردا دھماکہ: سزا یافتہ شخص چلا رہا تھا پٹاخہ فیکٹری، کانگریس نے بنائی جانچ کمیٹی

بھوپال؍ہردا ، 6فروری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے ہردا شہر میں منگل کو پٹاخے کی ایک فیکٹری میں زبردست آگ لگنے سے چھ افراد کی موت ہو گئی اور 60 زخمی ہو گئے۔ فیکٹری میں اور اس کے آس پاس بہت سے لوگوں کے پھنسے ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اس واقعے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔ جس میں جائے وقوعہ پر وقفے وقفے سے دھماکوں کے ساتھ اونچی آگ کی لپٹیں دکھائی دے رہی ہیں اور لوگ خود کو بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ایک اہلکار نے بتایا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے متعلقہ حکام سے بات کی ہے اور واقعہ کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر ادے پرتاپ سنگھ، ایڈیشنل چیف سکریٹری اجیت کیسری اور ہوم گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل اروند کمار کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہردا پہنچنے کی ہدایت کی۔

عہدیدار نے بتایا کہ اندور بھوپال اور ریاستی دارالحکومت میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے اسپتالوں کو ہنگامی صورتحال کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے اندور اور بھوپال سے فائر انجن بھی بھیجے گئے۔ عہدیدار نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اس واقعہ کے حوالے سے ایک میٹنگ بھی بلائی ہے۔ان دھماکوں کی آواز اتنی زوردار تھی کہ شہر میں دور دور تک گھروں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے جھٹکے قریبی ضلع نرمداپورم کے سیونی مالوا علاقے میں بھی محسوس کیے گئے۔ایک لمحے کے لیے لوگوں کو لگا جیسے یہاں زلزلہ آگیا ہو۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے افسران اور ملازمین جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں اور راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔

ہردا دھماکہ: سزا یافتہ شخص چلا رہا تھا پٹاخہ فیکٹری، کانگریس نے بنائی جانچ کمیٹی

۔ اس حادثہ کے بعد کانگریس نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ پٹاخہ کی فیکٹری سزایافتہ شخص چلا رہا تھا۔مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے کے مشرا نے ہردا واقع پٹاخہ فیکٹری میں ہوئے شدید دھماکوں کے بعد سوال اٹھایا ہے کہ فیکٹری کس کے سیاسی تحفظ میں چل رہی تھی؟ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے پہلے اسی فیکٹری میں ہوئے دھماکہ کے بعد فیکٹری مالک راجو اگروال اور اس کے ایک دیگر ساتھی کیخلاف ہردا کے سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج راجندر کمار نے انھیں دفعہ 5 (الف) دھماکہ خیز مادہ ایکٹ 1908 کے الزام میں 10-10 سال جیل اور 10-10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی تھی

۔کے کے مشرا نے اس حادثہ کو بھی گزشتہ سالوں میں قبائلی اکثریت پیٹلاود میں ہوئے خوفناک دھماکہ کے برابر بتایا اور کہا کہ اس وقت بھی حکومت کے مکھیا شیوراج سنگھ چوہان نے نشان زد قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کای تھا جو کہ پورا نہیں ہو سکا اور 100 سے زائد بے قصوروں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا، لیکن قصوروار پاک بتا دیے گئے۔ کیا اس حادثہ کی بھی ایمانداری سے جانچ ہوگی؟ اس درمیان پٹاخہ فیکٹری حادثہ کے حقائق کی جانچ کے لیے مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی صدر جیتو پٹواری کی ہدایت پر ریاستی کانگریس نے ایک جانچ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی اپنی جانچ مکمل کرنے کے بعد رپورٹ پارٹی کے سامنے پیش کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button