قومی خبریں

ہاردک پٹیل نے کانگریس اعلیٰ قیادت پر سنگین الزام لگاکر پارٹی کو الوداع کہہ دیا

احمد آباد ، 18 مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کانگریس کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے، ہاردک پٹیل نے آج کانگریس چھوڑ دی جنہیں راہل گاندھی کو 2019 میں پارٹی میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے ایک دھماکہ دار خط میں کہا کہ سرکردہ لیڈران اپنے موبائل فون سے مشغول تھے اور گجرات کانگریس کی قیادت چکن سینڈوچ میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔راہل گاندھی کے دورہ گجرات کے چند دن بعد جب دونوں کے درمیان ملاقات نہیں ہوئی۔

ہاردک پٹیل نے لکھا کہ جب میں اعلیٰ رہنماؤں سے ملا، تو وہ گجرات کے مسائل سننے کے برعکس اپنے موبائل فون اور دیگر مسائل سے پریشان نظر آئے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گجرات کے سینئر لیڈر اس بات کو یقینی بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ یاترا کے دوران لوگوں کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے دورے پر آنے والے لیڈروں کو چکن سینڈویچ ملے۔ہمارے رہنما بیرون ملک میں تھے جب انہیں نازک وقت میں ہندوستان میں ضرورت تھی۔

کانگریس کی قیادت گجرات کو سخت ناپسند کرتی ہے اور اسے ریاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کوعملی طور پر ہر ریاست میں مسترد کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ ہاردک پٹیل کی ناراضگی کے بعد کانگریس ہائی کمان سرگرم ہوگئی۔راہل نے ہاردک کو میسج کرکے ان کی ناراضگی کی وجہ بھی جانی، لیکن اس کے بعد انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہاردک نے امید ظاہر کی تھی کہ چنتن شیویر کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

ہاردک نے حال ہی میں ٹویٹر، انسٹاگرام اور ٹیلی گرام پر اپنے بائیو سے کانگریس کو ہٹا دیا تھا۔ہاردک کو 13 سے 15 مئی تک ادے پور میں منعقد ہونے والے کانگریس کے چنتن شیویر کے لیے بھی مدعو کیا گیا تھا، لیکن اس نے شرکت نہیں کی۔گزشتہ ماہ انہیں سپریم کورٹ سے الیکشن لڑنے کی اجازت بھی مل گئی تھی۔ پٹیل پر پاٹی دار تحریک کے دوران تشدد پھیلانے کا الزام تھا۔

ہاردک پٹیل جلد ہی بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق وہ اگلے ماہ پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں، کیوں کہ اس سلسلے میں انہوں نے اشاریئے بھی دیئے ہیں۔ خیال رہے کہ گجرات میں 6 ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی سیاست محض حکومت کے ہر کام کی مخالفت تک محدود تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button