بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

اتر پردیش:شوہر نے پولیس اسٹیشن کے اندر بیوی کو گولی مار کر قتل کردیا

عاشق کے ساتھ فرار پر ناراض شوہر نے سرعام گولی مار دی

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع ہردوئی سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پالی تھانے کے اندر ایک شوہر نے اپنی ہی بیوی کو گولی مار کر قتل کردیا۔ اس واردات نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور پولیس کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پولیس کے مطابق راما پور اٹاریہ کے رہنے والے انوپ کی شادی تقریباً 17 سال قبل سونی سے ہوئی تھی۔ 7 جنوری کو سونی اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنے عاشق سرجیت کے ساتھ فرار ہوگئی تھی۔ کافی تلاش کے بعد پولیس نے خاتون کو بازیاب کرایا اور اسے پالی تھانے میں پولیس کی تحویل میں رکھا گیا تھا۔

بدھ کی صبح جب سونی پولیس اسٹیشن کی کینٹین سے کھانا لینے جا رہی تھی، اسی دوران اس کا شوہر انوپ پہلے سے وہاں موجود تھا۔ موقع پا کر اس نے غیر قانونی اسلحہ سے سونی پر فائرنگ کر دی۔ گولی لگتے ہی سونی زمین پر گر پڑی اور شدید خون بہنے لگا۔ پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر اسے ضلع اسپتال پہنچایا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔

پولیس اسٹیشن جیسی محفوظ جگہ میں غیر قانونی اسلحہ لے جانا اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں قتل کا واقعہ سیکیورٹی نظام کی بڑی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ فائرنگ کی خبر پھیلتے ہی پولیس اسٹیشن کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور حالات کشیدہ ہو گئے۔

اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران اور فرانزک ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ جائے واردات سے شواہد اکٹھے کیے گئے اور تھانے کے احاطے کی باریک بینی سے جانچ کی گئی۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم شوہر انوپ کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ بیوی کے فرار اور مبینہ بے وفائی سے شدید ناراض تھا اور اسی غصے میں اس نے یہ قدم اٹھایا۔

ہردوئی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اشوک کمار مینا نے بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانے کے اندر سیکیورٹی میں ہوئی کوتاہی کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اگر کسی بھی پولیس اہلکار کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندانی سانحہ ہے بلکہ پولیس نظام کے لیے بھی ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے، جس پر فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button