
تلنگانہ کی خبریں
گجرات کے سابقہ وزیر داخلہ ہرین پانڈیا قتل کیس -شہر کے 8 نوجوان 19 سال بعد باعزت بری
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گجرات کے سابقہ وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کے بعد شہر حیدرآباد میں گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو نامپلی کریمنل کورٹ کے ساتویں ایڈیشنل میٹروپولیٹین سیشن جج نے سازش کے مقدمہ میں باعزت بری کردیا ۔ سال 2003 ء میں سنٹرل کرائم اسٹیشن پولیس کی جانب سے ایک ایف آئی آر درج کیا گیا تھا جس میں ہرین پانڈیا کے قتل کے بعد سازش رچنے اور بیرون ملک میں دہشت گردی کی ٹریننگ حاصل کرنے کے سنگین الزامات کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا ۔
سلسلہ وار گرفتاریوں سے پرانے شہر کے علاقہ کرما گوڑہ اور سعیدآباد میں اُس وقت دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔
پولیس نے زبیر شریف ان کے بھائی سید مبشر حسین ، سید اعجاز احمد ، محمد واجد احمد ، محمد مجید ، سید عبدالنعیم ، سید عمر ، سید اعجاز احمد کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعات 121 (ملک سے جنگ چھیڑنا) ، 124A (ملک سے غداری) ، 153A (دو فرقوں کے درمیان منافرت پھیلانے) ، 201 (شواہد کو مٹانے کی کوشش کرنا) اور انڈین پاسپورٹ ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کیا تھا اور ان کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی گئی تھی ۔
واضح رہے کہ مذکورہ نوجوانوں میں بعض نوجوانوں کو گجرات پولیس نے اسی قسم کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا لیکن ان الزامات سے بھی وہ بری ہوگئے ہیں ۔
پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ چند نوجوان بیرون ملک جاکر وہاں پر مبینہ طور پر ٹریننگ حاصل کی تھی اور پاسپورٹ سے بھی چھیڑ چھاڑ کی لیکن استغاثہ ان الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا اور مسلم نوجوان بے قصور ثابت ہوئے ۔ اس کیس کی کامیاب طور پر پیروی شہر کے دو سینئر کریمنل وکلاء محمد مظفر اللہ خاں اور ایم اے عظیم نے کی۔



