سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مجربات رحیمی-صحت خراب کرنے والے ہوائی اجزاء

ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفاخانہ بنگلور

حرارت: انسانی دماغ حرارت عزیزی قائم رکھنے کا مرکز ہے ۔ انسانی دماغ کی ساخت اس طرح کی ہے کہ انسان کا جسم بیرونی حرارت کی کمی اور زیادتی سے مرتب ہونے والے اثرات کو قابو میں رکھتا ہے جو صحت کی خرابی سے کمزوری پیدا ہوجاتی ہے یا نشہ آور چیزوں کے استعمال اور دوسری بد احتیاطیوں سے دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اور حرارت عزیزی کی کمی کبھی کبھی موت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ گرم ممالک میں رہنے والے گرمی کے موسم میں سخت جسمانی اور دماغی محنت نہیں کرسکتے۔ بیماری کی وجہ سے دماغ ، دل او رجسم سست ہوجاتے ہیں۔

رطوبت: ہوا میں کچھ نہ کچھ رطوبت ہمیشہ ہوتی ہے لیکن بارش کے زمانہ میں نمی بڑھ جانے کی وجہ سے ہوا میں خشک کرنے کی طاقت کم ہوجاتی ہے ۔ حرارت کو دور کرنے کا ذریعہ پسینہ کی تبخیر ہے لیکن جب جسم میں گرمی اور رطوبت بڑھ جاتی ہے تو تبخیر بھی کم ہوجاتی ہے اور اس وقت جسمانی گرمی کو دور کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ اسی لئے مانسون (بارش لانے والی ہوائیں) کے آنے سے پہلے اکثر لوگ لو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور ابخارات نہ نکلنے کی وجہ سے گندے مادے جسم میں جمع ہوکر زہر پھیلادیتے ہیں او راکثر بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے۔

لُو لگنے کے خاص اسباب: ہوا کا گرم، مرطوب اور ساکن ہونا،منشیات کا استعمال، فاسٹ فوڈ ، فٹ پاتھ پر فروخت ہونے والی غیر معیاری اشیائے خوردنی، صحت کی خرابی اور ورزش نہ کرنا۔

لُو لگ جانے کے بعد احتیاطی تدابیر :

(۱) بدن کو ٹھنڈا اور صاف رکھا جائے۔

(۲) ٹھنڈا پانی بہت کافی مقدارمیں پینا چاہئے۔

(۳) شدید گرمی میں پانی میں ذرا سا نمک ملا کر پینا چاہئے۔ اس سے جسم میں نمک کی مقدار بڑھ کر پسینہ زیادہ آئے گا اور اس کے ساتھ فاسد رطوبت خارج ہوجائے گی۔

(۴) سر، گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو دھوپ کی تیزی سے بچانا چاہئے۔

(۵) آنکھوں کو سورج کی تیزی سے بچانے کیلئے رنگین چشمہ لگانا چاہئے۔

خراب ہوا کے نقصانات

اگر انسان کو صاف ہوا نہ ملے تو رنگ زرد، جسم دبلا اور کمزور ہوجاتا ہے۔ بھوک نہیں لگتی۔ معدہ کمزور ہوجاتا ہے۔ معقول غذا اور صحت بخش ہوا نہ ملنے سے جسمانی ترقی اور کام کرنے کی صلاحیت پر بھی اثر پڑتا ہے اور جاڑا، بخار، کھانسی، دق اور ہیضہ جیسی موذی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔

گندی ہوا سے محفوظ رہنے کی تدابیر

گندی ہوا سے محفوظ رہنے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔

(۱) کمرہ بند کرکے نہ سونا چاہئے۔

(۲) گنجان آبادی اور گندے علاقہ میں نہ رہنا چاہئے۔

(۳) رہائش کے مکانات میں جانوروں کو نہ رکھنا چاہئے۔

(۴) بند کمرے میں پتھر کا کوئلہ او رمٹی کے تیل کا لمپ جلا کر نہ رکھا جائے۔

(۵) مکان کے فرش او ردیوار پر نہ تھوکنا چاہئے۔

(۶) مکان میں کھڑکیاں اور روشندان بہتر طریقے پر لگائے جائیں۔

(۷) اور ان کی تمہید اس طرح ہو کہ ان میں دھوپ اور تازہ ہوا خوب آتی ہو۔ ہوا کے آلودہ اور گندہ ہونے کے اسباب اوپر بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اگر ہوا کے اندر مضر صحت اجزا شامل ہوتے رہیں اور اس کے صاف ہونے کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو بہت تھوڑے عرصہ میں ہمارے گرد وپیش کی فضا اتنی زہریلی ہوجائے گی کہ اس میں سانس لینا اور زند ہ رہنا کسی بھی جاندار کے لئے ناممکن ہوجائے گا۔

ہوا صاف کرنے کے طریقے

فطرت نے ہوا کی صفائی کے بہت سے قدرتی طریقے بنائے ہیں جن کی وجہ سے ہوا بہت زیادہ آلودہ نہیں ہوپاتی۔ اس کے علاوہ انسان خود بھی ہوا کو صاف رکھنے کی تدابیر کرسکتا ہے۔

ہوا کو صاف کرنے کے قدرتی ذرائع

(۱) بارش کے ذریعہ سے ہوا کے اند ربکھرے ہوئے کیمیائی مادوں کے ذرّات اور مضر صحت گیس جو ہوا میں شامل ہوجاتی ہے سطح زمین میں پیوست ہوجاتی ہیں اور اس طرح فضا صاف ہوجاتی ہے۔

(۲) سورج کی روشنی اور گرمی میں جراثیم کو ختم کردینے والی شعاعیں ہوتی ہیں اور بہت سے جراثیم سورج کی گرمی اور روشنی سے ختم ہوجاتے ہیں۔

(۳) پیڑ پودے دن کے وقت ہوا میں آکسیجن چھوڑتے ہیں اور ساتھ ہی کاربن ڈائی آکسائڈ اپنے اندر جذب کرکے ہوا سے کم کردیتے ہیں۔

(۴) ہوا (خواہ وہ اتنی نرم ہو کہ محسوس نہ ہوسکے) بھی اپنی حرکت سے فضا کی مضر گیسوں کو منتشر کردیتی ہے۔ اور اس طرح وہ ایک جگہ جمع ہوکر فضا کو بہت زیادہ گندہ نہیں ہونے دیتی۔ اسکے علاوہ تیز ہوا اور آندھی کے ذریعہ گندی ہوا کی جگہ تازہ ہوالے لیتی ہے۔

ہوا کو صاف کرنے کے انسانی ذرائع

(۱) گندی ہوا کو کسی محیط جگہ سے باہر پھینکنے کیلئے ہوا کھینچنے والے پنکھے (Exhaust Fan) کا خارنوں، سنیما گھروں اور ایسے مقامات پر جہاں بہت سے آدمی جمع ہوتے ہوں لگائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری قسم کی مشینیں بھی ہوا کو صاف کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔

(۲) گھروںمیں ہوا کی صفائی کے لئے روشن دان، کھڑکیاں، وغیرہ بنائی جاتی ہیں او را س طرح ہوا کی فطری حرکت میں سہولت ہوتی ہے اور گندی ہواکے باہر نکلنے اور تازہ اور صاف ہوا کے اندر آنے کا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button