گھریلو پودے کہیں بیمار نہ کردیں✍️پیش کش: فرحین عدنان بنگلور
مارکیٹ میں مختلف طرح کے انڈور پلانٹس ملتے ہیں، جن کے بارے میں لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ فائدہ مند ہیں یا نہیں، وہ بس مارکیٹ جاتے ہیں اور گھر کی سجاوٹ کیلئے انڈور پلانٹس خرید لاتے ہیں۔
گھر میں پودے اس لئے رکھے جاتے ہیں تاکہ گھر میں سجاوٹ کی جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اقسام کے پودوں کو گھر میں لگایا جاتا ہے۔ اب چونکہ زیادہ تر لوگ فلیٹ یا پورشن سسٹم میں رہائش پذیر ہوگئے ہیں، پہلے زمانے کے گھروں کی طرح ان کے گھروں میں لان یا صحن موجود نہیں ہیں لہٰذا اب گھروں میں بڑے بڑے درخت اور پودے لگائے نہیں جاسکتے۔ اب ہریالی دکھانے کا یہ کام ’’انڈور پلانٹ‘‘ کی مدد سے کیا جاتا ہے۔
مارکیٹ میں مختلف طرح کے انڈور پلانٹس ملتے ہیں، جن کے بارے میں لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ فائدہ مند ہیں یا نہیں، وہ بس مارکیٹ جاتے ہیں اور گھر کی سجاوٹ کیلئے انڈور پلانٹس خرید لاتے ہیں۔ جبکہ کچھ انڈور پلانٹس ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہوتے ہیں، اس بارے میں انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ اس مضمون میں ہم لوگوں کو صحت کے لئے نقصان دہ انڈور پلانٹس کے بارے میں بتا رہے ہیں، آئیے آپ بھی جانئے کہ وہ کونسے انڈور پلانٹس ہیں، جن کا گھروں میں رکھنا بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
1۔ ڈائیفن باچیا (Dieffenbachia): اس وقت بھی یہ پودا کئی گھروں میں موجود دکھائی دیتا ہے۔ لوگ اس کے بڑے بڑے خوبصورت ہلکے وگہرے ہرے رنگ کے پتوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ کتنا خوبصورت پودا ہے۔
انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اس پودے کے اندر موجود رطوبت زہریلی ہوتی ہے۔ اس کے پودے کمرے میں بند جگہ پر موجود رہیں تو لوگوں کو ایک عجیب نشے والی کیفیت ہوسکتی ہے۔ اگر غلطی سے اس کا پتہ کھانے میں آجائے یا کسی چیز میں گرکر آپ کے معدے میں پہنچ جائے تو منہ میں چھالے، ڈائریا، متلی اور گلے میں سوجن ہوسکتی ہے۔
2۔ سنسیوریا (Sansevieria): یہ پودا بھی ہمارے یہاں انڈور پلانٹ کے طور پر جا بجا دکھائی دیتا ہے۔ اسے لوگ اسنیک پلانٹ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ اس کے خم دار لمبے ہلکے وگہرے سبز رنگ کے پتے اسے خوبصورت دکھانے میں اہم کردار نبھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متلی رہنے کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔



