بین الاقوامی خبریں

ہارورڈ یونیورسٹی بحران:غیرملکی طلبہ کی بڑی تعداد نے یونیورسٹی چھوڑنے کی درخواستیں دینا شروع کر دیں

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں غیرملکی طلبہ کی تعلیم پر منفی اثر ڈال رہی ہیں

نیویارک، 30 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہارورڈ یونیورسٹی کے ایسے طلبہ ایک سیلاب کی مانند سامنے آرہے ہیں جنہوں نے یونیورسٹی سے درخواست کی ہے کہ انہیں دوسری یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت دی جائے۔ امریکہ کی قدیم ترین اور ممتاز ترین یونیورسٹی کو پہلی بار ایسی صورتحال کا سامنا ہے، جب ٹرمپ انتظامیہ نے یونیورسٹی کے خلاف سخت اقدامات کیے اور اس کے فنڈز روک دیے۔ علاوہ ازیں غیر ملکی طلبہ کی تعلیم روکنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی دنیا بھر کی جامعات کے لیے ایک ماڈل سمجھی جاتی ہے، جہاں نہ صرف بہترین پوزیشن ہولڈر طلبہ بلکہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے سکالرز بھی تعلیم حاصل کرنا اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ امیگریشن سروسز کی ڈائریکٹر مورین مارٹن نے بتایا کہ غیر ملکی طلبہ کی بہت بڑی تعداد نے معلوم کیا ہے کہ وہ کس طرح ہارورڈ سے اپنی مائیگریشن کسی دوسری یونیورسٹی میں کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دنیا بھر میں تقریباً 10 لاکھ غیر ملکی طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو روک کر امریکی شہرت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ امریکی یونیورسٹیاں، طلبہ اور اساتذہ ان کے "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے” کے مشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر سے آنے والے سکالرز کو ہارورڈ میں داخلے سے روک دیا ہے، مگر اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے یونیورسٹی کیمپسز میں فلسطین کے حق میں مظاہرے کرنے والے طلبہ کو ڈی پورٹ کرنے اور ان کی تعلیم معطل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان اقدامات نے یونیورسٹی میں خوف، تشویش اور الجھن کا ماحول پیدا کر دیا ہے، خاص طور پر ان طلبہ اور اساتذہ کے درمیان جو ایلیٹ جامعات سے تعلق رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی طلبہ اور سکالرز نے اس امریکی اقدام پر جذباتی مایوسی اور بداعتمادی کا اظہار کیا ہے، جس نے انہیں ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا اور تعلیم جاری رکھنے کے ہدف کو مشکل بنا دیا ہے۔ ڈائریکٹر مارٹن کی رپورٹ کے مطابق، بہت سے طلبہ خوف کے باعث اپنی گریجویشن کی تقریبات میں شرکت نہیں کر رہے اور اپنا سفر منسوخ کر چکے ہیں۔

اسی طرح، امریکی طلبہ کی بھی ایک بڑی تعداد نے اس معاملے میں دلچسپی لی ہے کہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی چھوڑ کر کہیں اور تعلیم حاصل کریں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی طلبہ کی کمی یونیورسٹی کے معیار اور شہرت کو متاثر کرے گی۔

یاد رہے کہ ایک امریکی جج نے حال ہی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی طلبہ کی انرولمنٹ روکنے کے اقدام کو معطل کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا، جو ہارورڈ یونیورسٹی اور دیگر جامعات کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button