ہریانہ: 12 سالہ لڑکی کے قتل کے درندہ نما انسان کی حیوانیت- نعش کے ساتھ کی گئی تھی جنسی حیوانیت ، 2دَرندوں کو ملی سزائے موت
پانی پت،19فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہریانہ کے پانی پت میں 12 سالہ معصوم کے قتل کے بعد نعش کے ساتھ عصمت دری کیس میں عدالت نے دو مجرموں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس قتل میں مجرموں نے لڑکی کی نعش کو نالے میں پھینک دیا تھا،یہ معاملہ پانی پت کے متلوڈہ نامی گاؤں کے تحت 2018میں پیش آیا تھا ۔
تفصیلات کے مطابق ایک 12 سالہ معصوم بچی اپنے ماموں کے گھر رہتی تھی، 13 جنوری 2018 کو معصوم گھر سے کچرا پھینکنے نکلی تھی۔ مجرم ساگر اور پردیپ متأثرہ لڑکی کے گھر کے باہر کھڑے تھے، دونوں درندوں نے لڑکی کا پیچھا کیا اور راستے سے اُسے اٹھا لیا،
اس کے بعد پردیپ اپنے کمرے میں لے گیا، جہاں دونوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی، لڑکی کے شور مچانے پر دونوں نے مل کر اسے قتل کر دیا۔ قتل کے بعد دونوں نے باری باری لاش کے ساتھ جنسی درندگی انجام دی ۔
بعدازاں لاش کو برہنہ حالت میں والمیکی چوپال کے قریب نالے میں پھینک کر دونوں درندے واردات کے بعد فرار ہو گئے۔گھر والے بیٹی کو ڈھونڈتے رہے ،واقعے کے دو دن بعد 14 جنوری کی صبح معصوم کی نعش گندے نالے سے ملی۔
اہل خانہ کو کسی پر شک نہیں تھا ،تاہم تفتیش میں پولیس ملزم تک پہنچ گئی تھی۔ ریمانڈ میں پردیپ اور ساگر نے اپنے گناہ کو تسلیم کیا۔پانی پت کی عدالت نے دونوں درندوں کو موت کی سزا سنائی۔
پانی پت کی مجرمانہ تاریخ میں POCSO ایکٹ کے تحت سزائے موت کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ عدالت کے فیصلے پر متأثرہ کے لواحقین نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بچی کو انصاف ملا ہے ،لیکن اس انصاف میں بہت دیر ہو چکی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ کسی بچی کے ساتھ کوئی غلط نیت سے آنکھ اٹھاکر دیکھ نہ سکے ۔
اہل خانہ نے کہا کہ اگر مجرم سزائے موت سے بچنے کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ جاتے ہیں، تو وہ وہاں بھی جاکر مقدمہ لڑیں اور اِن درندوں کو کیفر کردارتک پہنچائیں گے ۔



