قومی خبریں

اگر میں نے بھائی کو ایک دن پہلے بھیج دیا ہوتا تو وہ آج زندہ ہوتا

ہریانہ کے نوح میں 31 جولائی کو لگی فرقہ وارانہ تشدد کی آگ نے گروگرام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

نئی دہلی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہریانہ کے نوح میں 31 جولائی کو لگی فرقہ وارانہ تشدد کی آگ نے گروگرام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گروگرام کے سیکٹر 57 میں واقع ایک زیر تعمیر مسجد پر پیر اور منگل کی درمیانی شب 100 سے زیادہ لوگوں کے ہجوم نے حملہ کیا۔ مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ شرپسندوں کے حملے میں حافظ سعد نامی 26 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔حافظ سعد مسجد کے نائب امام تھے۔ اذان دیتے تھے اور امام کی غیر موجودگی میں نماز پڑھاتے تھے۔ سعد جس رات شرپسندوں کے ہجوم کا شکار ہوئے۔سفر کےلئے اگلےہی دن ٹرین کا ٹکٹ تھا۔ سعد کو بہار جانا تھا لیکن نصیب میںشاید کچھ اور تھا اور وہ اسے ایسی جگہ لے گیا جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آ سکے گا۔ سعد کے بڑے بھائی شاداب انور یہ سب یاد کر کے رو پڑے۔

ٹرین کا ٹکٹ منگل کو ہی بک کیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹ میں شاداب انور کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سعد بھائی کا سیتامڑھی کا ٹکٹ بک ہوا تھا، انہوں نے منگل (یکم اگست) کو ہی ٹرین پکڑنی تھی، لیکن اب ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ اپنے بھائی کی نعش کا انتظار کرنے والے شاداب بہت سی چیزوں سے پریشان ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو آخری بار بھی ٹھیک سے نہیں دیکھ سکے۔ انور نے کہا کہ جن لوگوں نے ایسا کیا انہیں مسجد کے لوگوں سے دشمنی کرنی چاہیے امام سے نہیں۔ اگر کوئی شکایت ہوتی تو مسجد انتظامیہ سے بات کرتے۔ میرے بھائی کا کیا قصور تھا۔ وہ صرف وہاں کام کرتا تھا۔

موبائل میں ٹرین کے ٹکٹ کا میسج ہے، جسے وہ بار بار دیکھتا ہے اور پچھتاتا ہے کہ اگر اس نے اپنے بھائی کا ٹکٹ ایک دن پہلے بک کروایا ہوتا تو آج وہ زندہ ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ سعد کے پاس یکم اگست کا ٹکٹ تھا۔شاداب نےاس حملہ سے ایک گھنٹہ قبل اپنے چھوٹے بھائی کو فون کیا تھا اور ان کی خیریت دریافت کی تھی۔ اس نے بھائی سعد سے بھی تشدد کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا تھا، لیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ ان کی اپنے بھائی سے آخری گفتگو ہوگی۔

11.30 بجے سعد سے بات ہوئی اور تقریباً 1.30 گھنٹے بعد ان کا فون آیا، جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کا بھائی اسپتال میں ہے۔ اسپتال لے گئے لیکن سعد تب تک دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔شاداب کو اپنے بھائی سے بہت سی باتیں کرنی تھیں جو اب کبھی نہیں ہوں گی۔ سعد سیتامڑھی میں اپنے آبائی گھر جا رہے ہیں، لیکن سب سے ملنے اور بات کرنے کے لیے نہیں، یہ انکا اپنے آبائی گھر میں آخری سفر ہوگا۔سعد کی نعش کو ایمبولینس میں لے جایا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button