قومی خبریں

نوح میوات فساد میں 6 افراد ہلاک، 116 گرفتار: ہریانہ سرکار

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے بدھ کو کہا کہ نوح میں تشدد کی وجہ سے 6 لوگوں کی موت ہوئی

چنڈی گڑھ،2اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے بدھ کو کہا کہ نوح میں تشدد کی وجہ سے 6 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں 116 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دریں اثنا وزیر اعلیٰ کھٹر نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں ہوم گارڈ کے دو جوان اور چار عام شہری شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہریانہ پولیس کی 30 کمپنیاں اور مرکزی نیم فوجی دستوں کی 20 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں سے 14 کمپنیاں نوح میں تعینات کی گئی ہیں جہاں کوئی نیا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا، ’’تشدد کے مرتکب افراد کی جلد ہی شناخت کر لی جائے گی۔وہیں، ریاست کے وزیر داخلہ انل وج نے میڈیا کو بتایا کہ حالات قابو میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہریانہ پولیس کی 30 کمپنیاں اور مرکزی فورسز کی 20 کمپنیاں تعینات کی ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک 41 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ صرف نوح میں ہی 116 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تشدد پر کھٹر سے بات کی، عہدیداروں نے آئی اے این ایس کو بتایا۔خیال رہے کہ مسلم اکثریتی ضلع نوح میں دو فرقوں کے درمیان تشدد کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ پولیس نے بتایا وشو ہندو پریشد کی برج منڈل جل ابھیشیک یاترا کھیڑلا موڑ کے قریب پہنچی تو تشدد بھڑک اٹھا۔کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ پہلے اشتعال انگیز پوسٹ کیا گیا تھا، اور مسلم طبقے کو شرمناک گالیاں دی گئی تھیں۔ بلوائیوں کے وہاں پہنچنے کے بعد نوک جھونک ہوئی، پھر یہ نوک جھونک توڑ پھوڑ میں بد ل گئی ۔ جس میں پولیس کی کچھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچاہے۔ اس کے بعد منگل کو گروگرام کے بادشاہ پور علاقے میں دکانوں کو آگ لگا دی گئی،نیز گڑگاؤں کے انجمن مسجد کے امام حافظ سعد کوسفاکانہ طریقے سے چھریوں اور راڈ سے حملہ کرکے شہید کردیاگیا ، نیز مسجد میں بھی آگ زنی کی گئی تھی، خیال رہے کہ شہید حافظ سعد کی تجہیز و تکفین ان کے آبائی گاؤں سیتامڑھی میں ہزاروں کی بھیڑ میں اشکباری آنکھوں سے سپرد خاک کردیا گیا۔

نوح تشدد: ریاستی حکومت کے وزراء کی متضاد آراء

ہریانہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے بعد ماحول میں تناؤبڑھ رہا ہے اور عوام میں زبردست دہشت ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی شوبھا یاترا کے منتظمین کو اس تشدد کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے جس میں اطلاع ہے کہ ریاست میں اب تک 6 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ہریانہ کے نوح میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پر بات کرتے ہوئے دشینت چوٹالہ نے دعویٰ کیا کہ یاترا کے منتظمین نے ضلع انتظامیہ کو یاترا کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دی تھیں۔ چوٹالہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’یہ واقعہ اس لئے پیش آ یا کیونکہ یاترا کے منتظمین نے یاترا میں شریک ہونے والوں کی صحیح تعداد نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔تاہم، ا یک دوسرے بیان میں دشینت کے کابینہ کے ساتھی اور ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج نے کہا ہے کہ پورے معاملے کے پیچھے ایک ’سازش ‘نظر آتی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جس طرح سے پتھر، ہتھیار اور گولیاں ملی ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک سازش ہے۔

دونوں برادریاں عرصہ دراز سے پرامن طریقے سے نوح میں رہ رہے ہیں اور ایسا یہاں ہونا ایک سازش کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ وزیر داخلہ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم اس کی تفصیلی تحقیقات کریں گے اور اس میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔وی ایچ پی شوبھا یاترا پر پتھروں سے مبینہ حملے کے بعد پیر کو ہریانہ کے نوح ضلع میں پرتشدد تصادم شروع ہوگیا۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر گائے کی حفاظت اور لنچنگ کے ملزم مونو مانیسر کی مبینہ ویڈیو سے ہوا۔ تاہم مونو مانیسر نے تشدد میں حصہ لینے یا اکسانے میں اپنے کردار سے انکار کیا۔ خیال رہے کہ وزیرداخلہ نے کہا کہ میں نے مونو مانیسر کی ویڈیو دیکھی ہے، اس میں بھڑکانے والی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

نوح میوات تشدد:اگر حکومت نے کارروائی نہیں کی تو صورتحال خراب ہوگی، وی ایچ پی لیڈر کی دھمکی

وی ایچ پی کے شعبہ سکریٹری وجے کانت پانڈے نے میڈیا کو بتایا کہ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) ہریانہ کے نوح ضلع میں ’ہندو مخالف‘ تشدد کیخلاف ملک بھر میں سات دن طویل احتجاج اور مختلف عوامی ریلیوں کا اہتمام کر رہی ہے۔ آج سے شروع ہونے والے مظاہرے دہلی میں 30 مقامات پر دیکھے گئے۔ تقریباً 50 افراد مدر ڈیری کے احتجاجی مقام پر اور 200 افراد کو نرمان وہار میں دیکھا گیا۔وجئے کانت پانڈے نے کہا کہ اگر انتظامیہ ہماری بات نہیں مانتی یا کارروائی نہیں کرتی ہے، تو اگلے سات دنوں میں احتجاج بڑھے گا اوریہ احتجاج خطرناک شکل اختیار کرسکتا ہے ۔ ودھرمیوں ( مسلمانوں ) کی طرف سے ہندوؤں پر یہ حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تمام متاثرین ہندو ہیں۔وجے کانت پانڈے مزید کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی کوئی غلطی نہیں ہے، وہ کیوں ڈریں گے؟ ہندو خوفزدہ نہیں ہیں، ہندوؤں پر لاتعداد حملے ہو رہے ہیں۔

یہ احتجاج (دہلی میں) آنے والے دنوں میں اس سے زیادہ بڑی ریلیوں کی علامت ہے جسے ہندو منعقد کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں کہ نوح میں جو کچھ ہوا، جس میں 6 لوگ مارے گئے، 100 گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا، محرم کے جلوسوں کے دوران دہلی میں کیا ہوا، حکومت کو مجرموں کو سزا دینے کی ضرورت ہے، ذمہ داری معاشرے پر نہیں ہے، لیکن اگر حکومت نے کچھ نہیں کیا تو ہندو سماج سڑکوں پر آئے گا۔یہ پوچھے جانے پر کہ ہریانہ میں بی جے پی کی ریاستی حکومت کیا کر رہی ہے، پانڈے نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی ریاست میں حکومت کر رہی ہو، جب ہندوؤں کیخلاف تشدد کی بات آتی ہے تو ریاست اور مرکزی حکومت کی طرف سے واضح بے عملی دکھائی دیتی ہے

کھٹرحکومت نے کارروائی کیوں نہیں کی؟ نوح فساد پر سرجے والا کا حملہ

ہریانہ کے نوح میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد پر کانگریس لیڈر رندیپ سرجے والا کا بڑا بیان آیا ہے۔ انہوں نے ریاست کی منوہر لال کھٹر حکومت کو گھیراؤ کیا ہے، اور الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کو معلوم تھاکہ تشدد ہونے والا ہے۔ سرجے والانے فرقہ وارانہ تشدد کو حکومت کی سازش قرار دیا۔بی جے پی اور جے جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تشدد ریاستی حکومت کی سازش کا حصہ ہے۔ خبر کے مطابق سرجے والا نے سوال کیا اور کہا کہ انٹیلی جنس ان پٹ کھٹر حکومت کے پاس تھا، کھٹر حکومت نے کارروائی کیوں نہیں کی؟

حکومت سازش کا حصہ بن کر خاموش بیٹھی رہی؟’انہوں نے ریاستی حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ نوح کے ایس پی کو اسی وقت چھٹی پر کیوں بھیجا گیا؟ سرجے والا نے کہا کہ مونو مانیسر پر قتل کا الزام ہے، انہوں نے اشتعال انگیز پوسٹ کیا، حکومت نے انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا اور انل وج انہیں کلین چٹ دے رہے ہیں، یہ نہایت ہی مضحکہ خیز ہے۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ تشدد میں اب تک 6 افراد ہلاک اور 116 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں 2 ہوم گارڈز اور 4 عام شہری شامل ہیں۔ ریاست میں حالات پر قابو پانے کے لیے سیکورٹی کے نظام میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور پولیس کے ساتھ مرکزی سیکورٹی فورسز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بدھ کو گرفتار 116 افراد کا ریمانڈ لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت تشدد میں ملوث افراد کا پتہ لگانے کے لیے گرفتار افراد کا ریمانڈ لے گی۔ وزیر اعلیٰ نے لوگوں کو یقین دلایا کہ سیکورٹی ایجنسیاں اور ہریانہ پولیس عام شہریوں کی حفاظت کے لیے چوکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اب صورتحال معمول پر ہے۔ انہوں نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button