بین ریاستی خبریں

ہریانہ کی یونیورسٹی میں خواتین صفائی کارکنان کو حیض ثابت کرنے کے لیے کپڑے اتارنے پر مجبور کیا گیا

“اپنے نجی حصوں کی تصاویر لو تاکہ حیض کا ثبوت پیش کیا جا سکے۔” دو خواتین نے انکار کیا تو انہیں گالی گلوچ اور برطرفی کی دھمکی دی

ہریانہ: (اردو دنیا۔اِن/ایجنسیز) مہارشی دیانند یونیورسٹی (ایم ڈی یو)، روہتک میں ایک افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں تین خواتین صفائی کارکنان کو ان کے سپروائزرز نے مبینہ طور پر کپڑے اتارنے اور نجی اعضا کی تصاویر لینے پر مجبور کیا تاکہ وہ "ثابت” کر سکیں کہ وہ حیض میں ہیں۔

یہ واقعہ 26 اکتوبر کو اس وقت پیش آیا جب سپروائزرز نے خواتین کو کام میں سستی کے الزام میں ڈانٹا۔ خواتین نے وضاحت کی کہ وہ حیض کی وجہ سے کمزور ہیں اور پہلے ہی سینئر عملے سے چھٹی کی اجازت لے چکی ہیں، لیکن سپروائزرز وِنوَد اور جتیندر نے ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگا دیا۔

شکایت کے مطابق سپروائزرز نے خواتین کو حکم دیا کہ وہ کپڑے اتاریں تاکہ ثابت کر سکیں کہ وہ واقعی حیض میں ہیں۔ بعد ازاں ایک خاتون ملازمہ کو ان کے ساتھ واش روم بھیجا گیا تاکہ وہ ان کے سینیٹری پیڈز کی تصاویر لے۔

خواتین نے بتایا کہ ان سے کہا گیا کہ “اپنے نجی حصوں کی تصاویر لو تاکہ حیض کا ثبوت پیش کیا جا سکے۔” دو خواتین نے انکار کیا تو انہیں گالی گلوچ اور برطرفی کی دھمکی دی گئی۔ دباؤ میں آکر دو خواتین نے تصاویر فراہم کیں، جنہیں بعد میں سپروائزرز نے دیکھا۔

خواتین نے الزام لگایا کہ یہ حکم رجسٹرار کے اسسٹنٹ شیام سندر کی ہدایت پر دیا گیا تھا۔ جب واقعے کی خبر پھیلی تو دیگر عملہ اور طلبہ تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے ویڈیوز اور تصاویر ریاستی ویمن کمیشن کو بھی بھیجیں۔

پروفیسر ڈاکٹر بھگت سنگھ نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو یقین دلایا کہ مکمل تحقیقات ہوں گی اور قصورواروں کو فوری برخاست کیا جائے گا۔

رجسٹرار کے کے گپتا نے تصدیق کی کہ ایک سپروائزر کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور تادیبی کارروائی زیرِ غور ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر کسی بھی افسر کے خلاف قصور ثابت ہوا تو اس پر ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔”

پولیس کے مطابق دو سپروائزرز کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس میں جنسی ہراسانی، خواتین کی عزت مجروح کرنے، دھمکانے اور غیر اخلاقی حرکتوں کے الزامات شامل ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "کام کی جگہ پر خواتین کی سلامتی اور احترام ہماری اولین ترجیح ہے، کسی بھی نامناسب برتاؤ پر سخت کارروائی کی جائے گی۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button