
ہاتھرس:رشتہ دار نےایک ہی خاندان کے 4 افراد کا گلا کاٹا،2ہلاک،2زخمی
پولیس نے ڈاگ سکواڈ اور فرانزک ٹیم کی مدد سے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دیں
ہاتھرس،23جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہاتھرس ضلع میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ دیر رات ایک رشتہ دار نے تیز دھار ہتھیار سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کا گلا کاٹ کر قتل کردیا۔ اس وحشیانہ قتل عام میں دو معصوم بچیاںبھی ہلاک ہو گئیں،جبکہ والدین شدید زخمی ہو گئے۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور زخمی میاں بیوی کو علاج کے لیے ضلع اسپتال لے گئی۔ یہاں ڈاکٹروں نے دونوں کو شدید زخمی حالت میں علی گڑھ میڈیکل کالج ریفر کر دیا۔ پولیس نے دونوں معصوم بچیوں کی لاشیں تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیں۔واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع کے ایس پی، اے ایس پی اور دیگر پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔
پولیس نے ڈاگ سکواڈ اور فرانزک ٹیم کی مدد سے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دیں۔چھوٹے لال ولد کالو جو کہ پروفیسر ہیں، صدر کوتوالی علاقے میں آگرہ روڈ پر واقع آشیرواد دھام کالونی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ پروفیسر اصل میں فتح پور ضلع کے رہنے والے ہیں۔ وہ فی الحال کوتوالی چاندپا علاقہ کے گاؤں مٹائی میں واقع جواہر انٹر کالج میں پروفیسر کے طور پر تعینات ہیں۔ الزام ہے کہ بدھ کی آدھی رات کو سوتے ہوئے کزن نے اپنے چچا اور خالہ کو زخمی کر کے ان کی دو معصوم بیٹیوں کو قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔بتایا جا رہا ہے کہ رات کے وقت پروفیسر چھوٹا لال اپنی بیوی ویرنگنا اور دو بیٹیوں شرشتی (12) اور ودھی (6) کے ساتھ گھر میں سو رہے تھے۔ اسی دوران ان کا کزن وکاس دوسرے دوست کے ساتھ گھر پہنچا اور آدھی رات کو سوتے ہوئے پورے خاندان کے گلے کو تیز دھار ہتھیار سے کاٹ دیا۔ اس میں دو معصوم بچیوں شرشتی اور ودھی کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
چھوٹے لال اور اس کی بیوی ویرنگنا کو زخمی حالت میں ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔اس واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ چرانچیو ناتھ سنہا نے بتایا کہ آدھی رات کو پروفیسر چھوٹا لال اپنی بیوی ویرنگنا اور دو بیٹیوں کے ساتھ تھانہ کوتوالی علاقہ کی آشیرواد دھام کالونی میں رہتے تھے۔ پچھلے ایک سال سے ان کی صحت ٹھیک نہیں تھی ،وہ صاحب فراش تھیں۔ان کا ایک کزن اپنے دوسرے دوست کے ساتھ اس کے گھر آیا۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد جب گھر والے سونے گئے تو 1.30 سے بجے کے درمیان اس نے اور ایک اور ساتھی نے مل کر پروفیسر کی دو بیٹیوں کو قتل کر دیا،جبکہ پروفیسر اور اس کی بیوی کی گردن پر چوٹیں آئی ہیں۔اس معاملے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔



