
بیوی کاالزام: ان کے علاج کے ساتھ کیاجارہاہے کھلواڑ
ہاتھرس، 27 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہاتھرس میں ایک دلت #لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی #زیادتی کے بعد #قتل کے معاملے میں احتجاج اور رشتہ داروں سے ملنے جا رہے ، عتیق الرحمن کو 5 اکتوبر کو یوپی پولیس نے 3 دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیاتھا، جو ابھی تک متھرا میں جیل میں بند ہیں۔عتیق الرحمٰن کو اورٹک ریگرجٹیشن نامی دل کی بیماری ہے اور ان کی حالت نازک ہے، تاہم جیل میں انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ عتیق الرحمن کی اہلیہ اور ان کے وکیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہر ایک کو جینے اور انسانی حقوق کے تحت صحت کی بہتر سہولیات حاصل کرنے کاحق ہے۔
عتیق الرحمن کو بہتر طبی سہولیات دی جائیں اور انہیں #ضمانت دی جائے۔کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری اشوان صادق نے کہاکہ عتیق الرحمن کو 5 اکتوبر 2020 کو #گرفتار کیا گیا تھا۔ 6 تاریخ کو یو اے پی اے لگادیاگیا ۔ 10 ماہ سے زائد ہو چکے ہیں، #عتیق الرحمن جیل میں ہیں۔ اسے جیل میں ڈالنے کے پیچھے ایک بڑی سازش ہے۔ عتیق الرحمن سی اے اے کے خلاف کام کر رہے تھے، اس لیے انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔
عتیق الرحمن کی اہلیہ سنجیدہ کا کہنا ہے کہ وہ متھرا جیل میں بند ہے۔ وہ گزشتہ 11 ماہ سے جیل میں ہے۔ ان کو دل کی بیماری ہے اور انہیں بہتر علاج کی ضرورت ہے۔ اگر علاج نہ کرایا تو ان کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ کیاجو ان کے ساتھ ہو رہا ہے ٹھیک ہے؟۔عتیق الرحمٰن کے وکیل مدھوون دت چترویدی نے کہاکہ سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا کیمپس فرنٹ آف انڈیا یا کسی اور سیاسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں عتیق الرحمن کا وکیل ہوں، میں سی ایف آئی کے جنرل سیکرٹری کے ساتھ ایک وکیل کی حیثیت سے پریس کانفرنس کروں گا۔ ہمارے آئین میں زندگی اور آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔
ہاتھراس واقعہ کے دوران یوپی پولیس کی طرف سے ایک بیان آیا کہ اس کیس کی آڑ میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر گڑبڑ پھیلانے کی سازش کی گئی ہے۔ ایف آئی آر ایک ایس آئی نے چاندپا تھانے میں درج کی تھی۔ یہ ایف آئی آر 4 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ ایف آئی آر پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ پولیس اس کیس کے ملزم کو جانتی ہے لیکن اس کے باوجود ملزم کو نامعلوم بتایا گیا تھا۔ 3 ساتھیوں کو ایس ڈی ایم نے گرفتارکرکے جیل بھیج دیا ۔ 7 اکتوبر کو ان پر یو اے پی اے بھی لگادیا گیا۔



