سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

حضرت اُویس قرنی ؒ

روزِ قیامت کوئی حضرت اویس قرنی ؒکو نہیں دیکھ سکے گا، کیونکہ حضرت اویس قرنیؒ نے دنیا میں اس لئے چُھپ کر اللہ کی عبا دت کی کہ دنیا میں کوئی بندہ انہیں پہچان نہ لے، سو اللہ تعا لیٰ ستر ہزار فرشتے اویس قرنی ؒ کی شکل میں داخل ِبہشت فرمائے گا، تاکہ مخلوق انہیں نہ دیکھ پائے، سوائے اُس شخص کے جسے اللہ چاہے، اُسے آپ کی زیارت نصیب ہوگی۔

عا شقِ رسولﷺ حضرت اویس قر نی ؒکو خیرالتابعین کا لقب حضور اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے عطا ہوا۔آپ بیت المقدس میں پیدا ہوئے اور بعد ازاںقر ِن یمن میں سکونت اختیار کی۔ آپ ؒ کے والد محترم آپ کی اوائل عمر ی میں وفات پاگئے تھے۔بحالتِ یتیمی آپ کی والدہ نے آپ کی پرورش و دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، جب حضرت اویس قرنی ؒ نے ہوش سنبھالا تو اپنی والدہ کو بیمار اور نابینا پایا، لہٰذا اُسی وقت سے آپ نے اپنی والدہ کی خدمت و اطاعت کو اپنا فریضہ بنا لیا اور اس میں کبھی کسی قسم کی کمی و کوتاہی نہ کی،والدہ کی فرماںبر داری اور خدمت کی بناء پر ہی آپ کو بار گاہِ الٰہی اور بار گاہ ِ نبوی میں مقبولیت ملی۔

آپ کا نام ِنامی اویس بن عامر اور دوسرا نام عبد اللہ بھی بیان ہوا ہے، لیکن احادیث میں آپ کا تذکرہ اویس کے نام سے ہی ملتا ہے، دیگر کتُب سے بھی آپ کے نام اویس کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔ آپ کی کنیت ابو عمرو تھی، آپ کے القاب میں سب سے اچھا لقب’’خیرالتا بعین‘‘ہے، جو روایت کے مطابق آپ کو بارگاہ رسا لت سے عطا ہوا۔آپ کے القا بات میں ’’سید التا بعین‘‘ بھی ہے۔

حضرت اویس قرنی ؒکی شہرت ِدوام عاشق رسول ؐکی نسبت سے ہے، باقی نسبتیں اویس قرنی ؒ سے تعلق کی بنیاد پر قابل ذکر ِتو ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا اصل نسب نامہ عشق ِرسول ہے، رہتی دنیا تک جب کبھی عشق رسول کا تذکرہ ہو گا،وہ آپ کے نامِ نامی کے تذکرے کے بغیر ادھورا رہے گا۔

عشق رسول اورفنا فی الرسول کی بات ہوگی توحضرت اویس قرنی ؒ کا تذکرہ لازمی ہوگا۔تاریخِ اسلام میں علمائے کرام نے حضرت اویس قرنیؒ کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے آپ کی نیکی، تقویٰ و پرہیزگاری اور زہد کے بہت سے واقعات تحریر کیے ہیں، حضرت اویس قرنی ؒ کا اپنی ماں کی خد مت، اُن کی اطاعت و محبت میں فریفتہ رہنا اورخصوصاََماں کی محبت میں مشغول رہنا قابل ِ رشک ہے، اسی بے مایہ عشق اور محبت ِمادر اور اُن کی خدمت میں مستغرق رہنے نے آپ کو عاشق فنا سے عاشق بقاء بنادیا۔ آپ کا شمار اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں میں ہوتا ہے۔

آپ کا شمار تا بعین ِکِبار میں ہوتا ہے،آپ نے عہد نبوی کا دورپا یا، لیکن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دیدار سے فیض یاب نہ ہوسکے، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ اپنی والدہ کی ضعیفی اور نابینا ہونے کی وجہ سے اِنہیں چھوڑ کر سفر نہیں کر سکتے تھے، لہٰذا اویس قر نی ؒ تابعی ہیں، صحابی نہیں، لیکن دو جہانوں کے سر دار حضرت محمد مصطفیﷺ نے آپ کی محبت اور ماں کی خد مت کو فریضہ بنانے کو خراجِ تحسین پیش فرمایا۔

حضرت اویس قر نی ؒکا ذکر کرکے رسول اکرمﷺ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ تم میں سے جوبھی اویس قرنی ؒ سے ملے، اس سے دعا کرائے۔ایک روایت کے مطابق حضرت عمر فاروق ؓ کو خاص طور پر یہ حکم دیا کہ اے عمرؓ، جب تم اویس قرنی ؒ سے ملو تو اُسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کرے،کیونکہ وہ قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔دوسری روایت میں امیر المومنین،حضرت عمر فاروق ؓ اور امیر المو منین حضرت علی المرتضیٰ ؓ دونوں کو حضرت اویس قرنی ؒسے طلبِ دعا کا حکم دیا تھا اور دونوں صاحبان نے حضرت اویس قرنی ؒ سے اپنے لیے دعا کروائی۔

روایت بیان کی جاتی ہے کہ روزِ قیامت کوئی حضرت اویس قرنی ؒکو نہیں دیکھ سکے گا، کیونکہ حضرت اویس قرنیؒ نے دنیا میں اس لئے چُھپ کر اللہ کی عبا دت کی کہ دنیا میں کوئی بندہ انہیں پہچان نہ لے، سو اللہ تعا لیٰ ستر ہزار فرشتے اویس قرنی ؒ کی شکل میں داخل ِبہشت فرمائے گا، تاکہ مخلوق انہیں نہ دیکھ پائے، سوائے اُس شخص کے جسے اللہ چاہے، اُسے آپ کی زیارت نصیب ہوگی۔حضرت اویس قرنی ؒکے بارے میں شیخ فرید الدین عطار ؒ روایت بیان کرتے ہیں، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میں یمن کی طرف سے نسیم ِرحمت آتی ہوئی محسوس کر تا ہوں۔ وصا ل رسول اکرمﷺ کے دس سال بعد تک حضرت اویس قر نی ؒکی تلاش جاری رہی، حضرت ابو بکر صدیق ؓکا دور گز ر گیا، حضرت اویس قر نی ؒکو تلاش نہ کیا جا سکا۔

حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت بلال بِن رباح ؓکو حضرت اویس قرنیؒ کی تلاش کا حکم دیا، حضرت بلال ؓ کی ملا قات حضرت اویس قرنی ؒ سے ہوگئی،آپ نے فرما یا: اے اویس،حضرت عمرؓ آپ سے ملاقات کے متمنی ہیں، جس پر حضرت اویس قر نیؒ کی حضرت عمر ؓ اورسیدناعلی المرتضیؓ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا: اے اویس، آپ نے رسول خدا e کی زیارت کیوں نہ کی؟ جواب میں حضرت اویس قرنی ؒنے فرمایا: آپ دو حضرات نے زیارت کی ہے، بتائیے حضرت محمدe کے ابرومبارک پیوستہ تھے یا نہیں؟آپ جواب میں خاموش رہے۔

حضرت اویس قرنی نے سوال کیا؟

جنگِ اُحد کے دنِ حضورِاکرم ﷺ کے کون سے دندانِ مبارک شہید ہوئے؟ اس کے بعد حضرت اویس قرنیؒ نے اپنا منہ کھول کر دکھایا تو آپؒ کے تمام دانت ٹوٹے ہو ئے تھے۔حضرت اویس قرنی ؒ نے کہا کہ میرے علم میں نہیں تھا کہ آنحضرت eکے کون سے دندان مبارک شہید ہوئے، اس لئے میں نے اپنے سب دانتوں کو توڑ ڈالا، تب جاکر مجھے قرار آیا۔

حضرت اویس قرنیؒ کی یہ باتیں سن کر حضرت عمر ؓ اور حضرت علی المرتضی ؓ پہ رقّت طاری ہوگئی۔ہمارے لئے حضرت اویس قرنی ؒکی زندگی مشعلِ راہ ہے اورہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اپنی خواہش کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، والدین کی خدمت میں رکاوٹ نہیں بننی چاہییے،ساتھ ہی عُشّاق رسول کو اویس قرنی ؒ نے حضور اکرمﷺ کی اطاعت و محبت اور ادب کی لا منتہامنز لوں سے آشناء کرایا ہے،حضرت اویس قر نی ؒ جسمانی طور پر لاکھ دور صحیح، لیکن جو فضل و کرم حضور e کا آپ ؒ پر ہوا،وہ یقیناقابل ِرشک و ستائش ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عشق رسول کا حقیقی شعور عطا فرمائے۔

حضرت اویس قرنی ؒاور ماں کی خدمت

حضرت اویس قرنی ؒکو اسلامی تاریخ میں ماں کی خدمت، اطاعت اور حُسنِ سلوک کے حوالے سے خاص شہرت حاصل ہے۔ ایک موقع پر ماں کے سوال کرنے پرکہ اویس، تم مدینے جاکر رسولِ اکرمe کی زیارت اور صحبت سے شرف یاب کیوں نہیں ہوتے؟حضرت اویس قرنیؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ کا ارشادِ گرامی ہے ’’ماں‘‘ کے قدموں تلے جنت ہے۔‘‘ میں اس جنت کو کس طرح چھوڑ دوں؟ آخر کار والدہ کے بے حد اصرار پر یہ مدینۃ النبی ﷺ میں حاضر ہوئے۔

رسول اللہ ﷺ ان دنوں مدینے میں موجود نہیں تھے،انہوں نے اس موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر میرے اختیار میں ہو تو میں پوری زندگی مدینے میں رہوں اور آپ ﷺ کے دیدار اور صحبت سے شرف یاب ہوں،لیکن یہ میرے اختیار میں نہیں،میری ماں بوڑھی اور خدمت کی طلب گار ہیں۔ انہوں نے مجھے آپ e کی خدمت میں حاضر ہونے اور جلد واپس یمن آنے کی تاکید کی تھی۔

لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے یہ عاشقِ صادق اور آپﷺ کی زیارت کے طالب حضرت اویس قرنیؓ والدہ کے حکم پر فوراً یمن روانہ ہوگئے اور زندگی بھر ماں کی خدمت کرتے رہے،اسی بناء پر انہیں اسلامی تاریخ میں بلند اور منفرد مقام حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button