سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ایک عبقری شخصیت-حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

آپ کی ذات مجموعہ کمالات اور جامع انواع فضائل تھی

آپ کی ذات مجموعہ کمالات اور جامع انواع فضائل تھی حافظ،قاری مدرس،مفسر،محدث،فقیہ،واعظ،صوفی متکلم،مناظر،ناظم،ناشر اور خانقاہ نشیںیہ سب کچھ تھی جس کی شہادت آپ کے آثار علمیہ سے ملتی ہے، لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اپنے تمام فضائل و کمالات کو فن تصوف کی اصلاح وت کمیل میں صرف فرمایا۔

آپ کی تعلیم وتربیت تصنیف وتالیف وعظ وتبلیغ کی بدولت عقائد حقہ کی تبلیغ ہوئی مسائل صحیحہ کی اشاعت عمل میں آئی رسوم و بدعات کا قلع قمع ہوا،سنن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا احیاء ہوا،غافل چونکے، سوتے جاگے،بھولوں کو یاد آئی،تعلق مع اللہ کا ماحول گرمایا،اور وہ فن جو جوہر سے خالی ہوچکا تھا شبلیؒ وجنیدؒ بسطامی ؒ وجیلانی،سہروردی ؒ اور سرہندی بزرگوں کے خزانے سے معمور ہوگیا یہ وہ شان تجدید تھی جو اس صدی میں مجدد وقت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے لئے اللہ تعالیٰ نے مخصوص فرمائی، آپ کے تجدیدی کارنامے اور اصلاحی خدمات پر روشنی ڈالنے کے لئے ایک دفتر بھی ناکافی ہے۔

آپ کا علم و عمل،تدبر و حکمت،تفقہ و تقوٰی، دینی،ملی،علمی،خانقاہی اور تعلیم وارشاد کے میدان میں آپکی ایسی لازوال اور عدیم الفطرت خدمات ہیں۔کہ اس مختصر تحریر میں ان کا اجمالی تعارف بھی بہت مشکل ہے۔ حضرت تھانویؒ جیسی شخصیت مدتوں میں پیدا ہوتی ہیں، لیکن ان کے کردار وعمل،خلوص واستقامت اور زہدوتقوٰی کے روشن کئے ہوئے چراغ صدیوں تک آ نے والی نسلوں کو منزل کا پتہ دیتے رہیں گے۔ اس لئے حضرت تھانویؒ کے متعلق یہ سطور تحریر کرنے سے پہلے آثم راقم الحروف سوچ رہاتھا کہ ؎

بیان بھی ہوسکے گا تجھ سے حسن یار کا
عالم تو دیکھ اپنے دل بے قرار کا

حقیقت یہ ہے کہ جن حضرات کے علم وعرفان اور تقویٰ و تفقہ کی شہرت چہاردانگ عالم میں ہے۔ان میں حضرت تھانویؒ کا مقام سب سے نمایاں اور منفرد ہے۔

جب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گئے تارے
تو مجھکو بھری بزم میں تنہا نظر آیا

حضرت تھانویؒ کی تعداد تصانیف

حضرت تھانویؒ کا ذکر کرتے ہوئے دل ڈرتا ہے کہ ایک ذرہ آفتا ب کے بارے میں کیا کہے، اورٹمٹماتاہوا چراغ سورج کا سامنا کیسے کرے،ہم جیسے عامیوں کایہ منھ نہیں کہ آپ کے مقام ومرتبے کو بیان کرسکے، اپنی حیثیت تو اس بڑھیا کی سی ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کو خریدنے کے لئے سوت کی اٹی لیکر آئی تھی۔ اس طرح امید ہے کہ کم از کم حضرت کے نام لیواؤں میں نام تو شمار ہوہی جائے گا،حضرت تھانویؒ کی زندگی اور آپ کے ملفوظات ومواعظ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو برائیاں پیدا ہوگئی ہیں ان کے سد باب کی جانب حضرت تھانویؒ نے پیہم جدوجہد کی،حکیم الاسلام مولانا قاری طیب صاحبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند ’’دارالعلوم کی پچاس مثالی شخصیات‘‘ میں فرماتے ہیں’’حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ نے اپنے فیض علمی وروحانی سے ایک عالم کو مستفید کیا۔

لاکھوں گمراہ انسانوں کو دیندار اور پرہیز گار بنایا،سلوک وتصوف کے  ذریعہ ایسی اصلاح عقائد واعمال کی کی کہ حیرانی ہوتی ہے، گزشتہ صدی میں ہندوستا ن میں کسی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادان سے بے نیاز نہیں رہے،ہندوستا ن کے دوبڑے تعلیمی ادارے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور ندوۃ العلماء لکھنؤکے اکثروبیشترعمائدین حکیم الامت حضرت تھانویؒ سے اور دوسرے اکابرین دیوبندمستفیض ہوئے ان میں سید سلیمان ندویؒ،مولانا عبدالباری ندویؒ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

جو حکیم الامت ؒ سے فیضیاب ہوئے۔’’حکیم الامتؒ کی محفل ارشاد‘‘حضرت تھانوی ؒ کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات علم وحکمت کی در بیش بہاہوا کرتی تھی،اس لئے حضرت تھانویؒ کے مواعظ وملفوظات کی جس قد راشاعت ہوئی ہے، ماضی قریب میں کسی بزرگ کے مواعظ وملفوظات کو اس درجہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی،حضرت تھانوی ؒ کو اللہ تعالیٰ نے علوم ومعارف کا گنجہائے گرانمایہ عطافرمایاتھا،آپؒ کی تحریرات کی طرح آپؒ کے ملفوظات ومکتوبات بھی انتہائی معنیٰ خیز اور علوم ومعارف سے لبریز ہیں۔اور یہ ملفوظات و مکتوبات نہ صرف وقتی ضرورت اور تقاضے پور ے کرتے ہیں۔ بلکہ ہر دور میں ان کی اہمیت اور افادیت مسلم ہے۔

اسی لئے حضرت تھانوی ؒ کے ملفوظات کو جمع کرنے کا حد درجہ اہتمام کیا گیا،حضرت تھانوی ؒ ہمار ے بزرگوں میں سب سے زیادہ کثیر التصانیف ہیں،بلکہ تاریخ اسلام کے چند ممتاز ترین کثیر التصانیف مصنفین کی مختصر سے مختصرفہرست بنائی جائے تو اس میں حضرت تھانویؒ کا نام ضرور شامل ہوگا،پھر حضرت تھانوی ؒ کاامتیازتصانیف کی تعداداور کمیت ہی کے بارے میں ہی نہیں، بلکہ کیفیت کے بارے میں بھی ہے، ہر تصنیف شاہکار اور بیش بہاعلوم ومعارف کا ذخیرہ ہے، جماعت دیوبندکے ایک ممتاز فقیہ وعالم دین اورمعروف دانشور ومصنف مو لانا عتیق احمد قاسمی بستوی مدظلہ العالی(مقیم لندن) اپنے ایک مضمون میں حضرت تھانویؒ کی تعداد تصانیف سے متعلق رقم طراز ہیں(اشرف السوانح جو حضرت تھانوی ؒ کی سب سے مستند سوانح ہے)میں خواجہ عزیزالحسن مجذوب ؒ نے حضرت ؒ کی تصنیفات او ر مواعظ کی تعداد ۶۶۶لکھی ہے اور ان کی پوری فہرست درج فرمائی ہے۔(ملاحظہ ہو؛ اشرف السوانح حصہ سوم؛۵۴۳تا۹۵۳)

وہ فہرست حضرت تھانویؒ کی حیات تک کی ہے،اس کے بعد بھی کچھ اضافہ ہوا ہوگا،لیکن تمام سوانح نگاروں کے مطابق تصنیفات ’مجموعہ ’مواعظ ’مجموعہ ملفوظات ’اور مجموعہ مکتوبات سب کی تعدادملاکر ایک ہزار کے اندر ہے، بعض حضرات کا ایک ہزار کتابوں کاحضرت تھانوی ؒ کی طرف منسوب کرناتسامح ہے جس کا ازالہ کیا جانا چاہئے۔ (ماخوز الفرقان ماہ دسمبر)

سید سلیمان ندویؒ کے قول کے مطابق بھی حضرت تھانوی ؒ نے اپنی تصنیفات جن کی تعداد ایک ہزا ر کے قریب ہیں،اپنے بعد اپنی یادگا ر چھوڑٰی ان میں چھ سو کے قریب مواعظ ہیں ان تصنیفات میں سب سے بڑی کتاب تفسیر بیان القرآن ہے جو بارہ جلدو ں میں ہے،اس کے بعد فقہ میں فتا ویٰ امدادیہ کی جلدیں ہیں۔سب سے مشہور کتاب بہشتی زیور ہے جس کافائدہ عام ہوا،ان کے علاوہ تصحیح عقائد’ردبدعات ’اور مسائل تصوف میں کثیر تالیفات ہیں۔ جن حضرا ت کو حضرت تھانویؒ ؒ کی تصنیفی کمالات کاعلم ہوتا ہے،تو وہ یہ پوچھتا ہے کہ جس شخص نے اتنی کتابیں لکھی ہوں اس نے خو د لاکھوں کتا بوں کا مطالعہ کیا ہوگا،ان کے مطالعہ واستفادہ’اخذ واستنباط اور اوقات میں برکات کاطریق کار کیا ہوگا،میرے ذہن میں بار بار یہ سوال بن کر سامنے آتا رہا،مگر ایک دن دوران مطالعہ یہ عقدہ بھی حل ہوگیا،جس میں مولانا اشرف علی تھانویؒ نے فرمایاکہ’’مجھے زیادہ کتب بینی کا شوق نہیں ہوا،کیونکہ نفس علم کو مقصو د نہیں سمجھا،علم کے لئے جتنے علم کی ضرورت ہے۔ اس میں اپنے بزرگوں پر مکمل اعتماد و انقیاد تھا،جو کچھ کتاب وسنت کی تعبیر میں انہوں نے فرمایاتھا،اس پر دل مطمئن تھا،اور جن تصنیفات کا ذکر آیا،تو عرض کیاگیا کہ آپ کی جب اتنی تصنیفات ہیں تو ان کے لئے آپ نے ہزاروں کتابیں بھی دیکھی ہوں گی، توحضرت تھانویؒ نے ارشادفرمایا’’چند کتابیں ضرور دیکھی ہیں،جن کے نام یہ ہیں،

(۱)حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ

(۲)حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب ؒ

(۳)حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ان کتابوں نے مجھے سب کتابوں سے بے نیاز کردیا ہے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی محرالعقول خدمات

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدہ کی کیا عجیب شان رہی ہے،اللہ تعالیٰ نے مسلمانان برصغیرپر خاص نظر رحمت فرمائی تھی کہ انہیں دیوبند جیسے علمی ادارے اور اس ادارے سے وابستہ دیگر متبرک شخصیات کے ساتھ حضرت تھانویؒ جیسی جامع الکمالات علمی وروحانی شخصیت سے فیض اٹھانے کاموقع دیا۔ ظاہری علم کی طرف جائیں تو کونسا فن ہے، جس میں آپ کا تحقیقی کام نہیں، اور علم باطن کی جانب نگاہ دوڑائیں تو اصلاح وارشاد اور تربیت وتزکیہ کی کون سی جہت ہے، جس میں حضرتؒ کی محیرالعقول خدمات صدقہ جاریہ کے طور پر چہار سو پھیلی نظر نہیں آتی۔تفسیر وحدیث ہو یافقہ وفتاویٰ،سیرت طیبہ کا دل گداز موضوع ہویامنطق وفلسفہ کی سنگلاخ زمین،کوئی فن ایسا نہیں جس میں آپ کے عبقری الصفت قلم نے وقیع  نگارشات یادگار نہ چھوڑی ہو،ان بلند پایہ علمی کاموں کی کثرت اور تنوع کو دیکھ کر آپ کو مجدد ملت کا خطاب بھی دیاگیا،اور یہ بھی کہاگیا کہ اگر آپ کے علمی کاموں کوآپ کی زندگی کے برابرکے دنوں پر تقسیم کیا جائے تو فی دن کئی صفحات بنتے ہیں۔

حضرت ؒ کا بہشتی زیور ایک لازوال شاہکار

مذکورہ تمام تبصرے بجا طور پر درست اور برمحل ہیں،لیکن بہشتی زیور کی شکل میں جوتحفہ آپ نے عوام الناس کودیا،وہ بلاشبہ ایک منفرد شاہکار اور لازوال یادگا ر ہے، علما ء ہوں یاعوام،سات پردوں میں رہنے والی گھریلو خواتین ہوں یاجدید تعلیم یافتہ طبقہ کے روشن خیال حضرات، آج سب کے سب اس سے یکساں طور پر مستفید ہوتے رہے ہیں۔

اور اس کتاب نے گھرداری کے اصولوں اور گھریلو چٹکلوں سے لیکر پیچیدہ دینی مسائل میں محقق اور مستنداقوال تک راہنمائی میں وہ بے مثال کردا ادا کیاہے کہ اگر پوچھا جائے وہ کونسی کتاب ہے؟جس نے گزشتہ صدی میں اردو خواں طبقہ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟تو جواب میں بہشتی زیورکا مقابلہ شاید ہی کوئی کتاب کرسکے،ایک زمانہ ایسا تھا کہ کوئی مسئلہ دیکھنا ہوتا یاتعویذ دیناہوتا تو بہشتی زیور ہی پہلا اور آخری مرجع ہوتا تھا، یعنی بہشتی زیو ر متعدد المقاصدکتاب تھی، اور قرآن کریم کے بعد اسی کا مقام ومنصب تھا بر صغیر میں کون سا گھر ہوگا جہاں جس کی دینی وروحانی ضرورت کامرجع و منبع اور عقیدت کا محور یہ کتاب نہ رہی ہودراصل بہشتی زیور بنیادی طور پرخواتین اور بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے لکھی گئی تھی لیکن اس کی مقبولیت اور اس سے استفادہ اس درجہ کا تھاکہ رفتہ رفتہ ’’عوامی دینی نصاب‘‘ بن گئی بر صغیر کا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوجو اردو پڑھ سکتا ہو، اسے دین کی شدبد ہواور اس نے اس کتاب کا مطالعہ نہ کیا ہو۔’’وقت بدل جاتا ہے مگر کتابیں زندہ رہتی ہیں۔’’اس مقولہ کا مصداق بہشتی زیور سے بڑھکر اور کونسی چیز ہوگی؟خدا جانے اس کے کتنے ایڈیشن چھپے؟کہاں تک یہ کتاب پہونچی کتنی زبانوں میں چھپی او رکب تک اس کافیض پہونچتا رہے گا۔ بہشتی زیوراردو جیسی زندہ تابندہ زبان میں ہے۔

اور زندہ زبانوں کی تعبیرات، محاورات،اور اسلوب بیان کی تبدیلی نیارنگ وروپ عطاکرتی ہے،یہی تبدیلی اور تغیربولیوں اور زبانوں کا حسن ہے،کچھ کتابیں ایسی لازوال ہوتی ہیں کہ زمان ومکان کی تبدیلی ان پر اثر نہیں کرتی،بہشتی زیوربھی ایسا ہی لازوال شاہکار ہے،چونکہ بنیادی طور پر یہ عوام کے لئے لکھی گئی ہے، اور عوامی دینی نصاب کی پہلی اینٹ ہے، اس لئے بہت سے علماء کرام نے خصوصاًجن کو معاشرے میں دینی تعلیم عام کرنے اور عامۃ المسلمین کو دینی معلومات سے روشناس کرانے کا ذوق ہے اس پر مختلف انداز سے تسہیل واضافات کے کام کئے، دراصل ان کوششوں کے پیچھے یہ ذہن کار فرما ہے،کہ حضرت حکیم الامت قدس سرہ نے خود اس کی تسہیل وترتیب کی اجازت دی تھی۔

(اصلاح خواتین:ص۴۲۸بحوالہ وعظ اصلاح الیتامی ملحق حقوقوفرائض:ص۴۰۲)

حضرت تھانویؒ کی وصیت اور نظام الاوقات

یوں تو حضرتؒ نے جو وصیتیں فرمائی ہیں وہ سب کی سب حرزجان بنانے کے لائق ہیں۔ لیکن یہاں ان میں سے صرف تین باتیں نقل کی جاتی ہے،فرمایاحتی الامکان دنیاومافیھا سے جی نہ لگاویں اورکسی وقت فکر آخرت سے غافل نہ ہوں ہمیشہ ایسی حالت میں رہیں کہ اگر اسی وقت پیام اجل آجائے تو فکر اس تمنا کامقتضی نہ رہے اور علی الدوام دن کے گناہوں سے قبل رات کے اوررات کے گناہوں سے قبل د ن کے استغفار کرتے رہیں۔

حضرت تھانوی ؒ نے اپنی زندگی میں اس طرح کا نظام الاوقات مقرر کررکھا تھاکہ جن حضرات کو آپ سے ملاقات کرنے کااتفاق ہوتا تو ان کو معلوم ہوتا کہ حضرت تھانوی ؒ ؒ اس وقت کوئی کام انجام دیرہے ہونگے اور فلاں کام فلاں مقررہ وقت پر انجام دینگے،ایک مرتبہ خود فرمایا:میں نے نظام الاوقات کے سلسلہ میں کبھی کسی کو پریشانی میں نہیں ڈالا،جوانتظام ایک دفعہ ہوگیا اس کے خلاف کبھی نہیں کیا،اسی واسطے لوگوں کو میری تجاویز پر اعتماد ہے،وقت کی قدر وقیمت کے متعلق فرمایابے کار وقت کا کھونا بہت براہے، اگر کچھ بھی کام نہ ہو تو بھی انسان گھر کے کام میں لگ جائے گھر کے کام میں لگنے سے دل بھی بہلتا ہے اور عبادت بھی ہے یہ مجمعوں میں بیٹھنا خطروں سے خالی نہیں،پابندی وقت کے متعلق فرمایا:ہر شخص اپنے وقت کا حساب کرے توثابت ہوجا ئے گاکہ نصف سے زیادہ وقت خراب ہوتاہے،وقت کو خراب نہ کیاجائے تو بہت کام ہوجائے۔

مگر پابندی وقت ہم لوگوں نے ایسی چھوڑی ہے کہ اس کا کرنا نئی بات معلوم ہوتی ہے،بعض باتیں قومی شعار ہوجاتی ہیں پھر سب اس کے خلاف کو عیب سمجھتے ہیں مسلمانوں کے لئے تضیع اوقات شعار ہوگئی ہے ا ب کوئی وقت کی پابندی کرے تو اس کو نکوبتا یاجاتا ہے۔ (حسن العزیز)

اس بلند پایہ شخصیت کی ولادت ۵ر بیع الالثانی ۱۲۸۰ھ ؁کو صبح صادق کے وقت قصبہ تھانہ بھون ضلع مظفر نگر میں ہوئی آپ ددھیا ل کی طرف سے فاروقی اور ننھیال کی طرف سے علوی تھے ۱۲۹۵ھ ؁میں دارالعلوم میں بھیجے گئے اور ۱۳۰۱ھ ؁میں درسیات سے فراغت حاصل کی، اس وقت آپ کی عمر۷ا اور۲۰برس کے درمیان تھی۔ تعلیم سے فارٖغ ہوکر آپ صفر ۱۳۰۱ھ ؁ھ بسلسلہ ملازمت مدرسہ جامع العلوم کانپو رتشریف لے گئے اور وہاں چودہ سال تک درس تدریس میں مشغول رہے، دیوبند میں مولانایعقو ب صاحب ؒ آپ کے استاد خاص رہے ان ہی کی زیر نگرانی آپ نے اس زمانے میں افتاء کی مشق بھی کی،ا س زما نے میں آپ کو مناظرے سے دل چسپی بھی تھی اور آریوں کے مقا بلے میں کئی معرکے سرکئے،آپ کی اعلی علمی استعدا د کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد یعقوب صاحبؒ ؒ نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ’جہاں جاؤگے بس تم ہی تم رہوگے باقی سارا میدان صاف‘آپ کی دستار فضیلت حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے متبرک ہاتھوں سے ہوئی، حضرت شیخ الھند مولانا محمودحسن صاحب کی توجہات خصوصی آپ کے ساتھ وابستہ رہیں، حضرت تھانویؒ کے مجازین کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب پہونچتی ہے، جو آپ کے بعد بھی اس کام میں مصروف رہے، اور اس دائرہ فیض کا اثرنہ صرف ہندوستان وپاکستا ن کے طول وعرض تک پہونچا بلکہ حجاز و افریقہ اور ان تما م ملکوں میں جہاں ہندوستا نی مسلما ن پھیلے ہیں مگر اب حضرتؒ کاکوئی بھی خلیفہ بقید حیات نہیں۔

حضرت ؒ کاسانحہ ارتحال

تاریخ وفات سے پانچ سال قبل ہی معدے وجگر کی خرابی نے عاجزکر دیا تھا کبھی قبض اورکبھی اسہال کئی کئی دن تک جاری رہتے،علاج میں کوئی دقیقہ اٹھانہیں رکھاگیا’ع‘مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی، نحیف و ناتواں اور صاحب فراش ہوگئے، اور غنودگی کی کیفیت طاری رہنے لگی لیکن جتنی دیر ہو ش رہتاحاضرین کوبرابر ملفوظات سے مستفیض فرماتے رہتے تھے۔اور اس وقت پتہ بھی نہ چلتا کہ آپ کے دماغ کوبیماری نے کچھ متاثر بھی کیاہے اور اس کیفیت کودیکھ کر یہ عقدہ کھلاکہ یہ غنودگی کے دورے نہ تھے بلکہ’’ربودگی‘‘کی کیفیت تھی،دوشنبہ ۱۵رجب ۱۳۶۲ھ ؁کو صبح سے مسلسل دست آنے لگے اور دن اس طرح گزارا رات آئی تو اپنی چھوٹی اہلیہ کو بلاکر دریافت فرمایاکہ آیا دونوں کا خرچ ادا ہوچکا ہے جب جواب تسلی بخش ملا تو فرمایا’’آج تو ہم جارہے ہیں،اس کے سوا گھنٹے تک غشی طاری رہی،سانس تیز تیز چلتارہا اور کتنی مستورات نے دیکھا کہ جب سانس اوپر آتا تو آپ کی درمیانی اور شہادت کی انگلی کے بیچ میں ہتھیلی کی پشت سے ایک ایسی تیز روشنی نکلتی کہ جلتے ہوئے قمقمے ماند پڑجاتے تھے، روشنی سانس کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ آتی جاتی رہی،اور جب سانس آخر ہوا تو یہ نور بھی چھپ گیا،کیا عجب کہ جن انگلیوں سے حقائق ومعارف ایک عرصہ تک معرض تحریر میں آتے رہے یہ نور اسی کا ہو،بالآخر۶۱۔۷۱رجب ۱۳۶۲ھ ؁ھ مطابق ۲۰؍جولائی ۱۹۴۳ء ؁سہ شنبہ کی شب بوقت نماز عشاء ۸۲سال ۳ماہ۱۱دن کی عمر میں سواد ہندکانیر اعظم تقریباًنصف صدی تک دین مبین کی ضوفشانی کے بعد غروب ہوگیا۔

اس سانح عظیم کی اطلاع ہوا کی طرح پھیلی اوربرق بن کر عشا ق کے قلوب پر گری، دہلی اور اس کے اطراف سے اسپیشل ٹرینیں چھوٹی،اور ہزاروں عقیدت مند صبح ہوتے ہوتے تھانہ بھون پہونچ گئے ان ہزاروں شیدائیوں کے ساتھ مولانا تھانویؒ کا جنازہ نکلا،عید گاہ میں نماز جنازہ اد اکی گئی اور پھر خود آپ ہی کے وقف کردہ قبرستان میں جس کا تاریخی نام ’’قبرستان عشق بازاں‘‘ہے اس عاشق صادق کے جسم کو سپرد خاک کیاگیا۔نوراللہ مرقدہ ٭

متعلقہ خبریں

Back to top button