قومی خبریں

ہائی کورٹ کی ہدایت: رام رحیم کو جب پیرول مل سکتا ہے، تو دیگر قیدیوں کی درخواستوں پر بھی غور ہو

پیرول پر رہا کیے جانے کیخلاف پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے

چنڈی گڑھ؍نئی دہلی، 14دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) نے ڈیرا سچا سودا کے سربراہ اور فرضی مذہبی پیشوا گرمیت رام رحیم کو ہریانہ حکومت کی طرف سے پیرول پر رہا کیے جانے کیخلاف پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس پر سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ جن قوانین کے تحت رام رحیم کو پیرول مل رہی ہے، حکومت باقی قیدیوں کی درخواستوں پر بھی غور کرے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یہ بتائے کہ کیا رام رحیم جیسے جرائم والے جیل کے قیدیوں کو قواعد کے تحت پیرول دی گئی ہے۔ اس حوالے سے عدالت نے قیدیوں کی درخواستوں پر حکام کی جانب سے کیے گئے فیصلوں سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس ریتو بہری اور جسٹس نیدھی گپتا کی ڈویژن بنچ نے ایس جی پی سی کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کئے۔فروری میں داخل کی گئی ایس جی پی سی کی عرضی کے مطابق، اسی مہینے میں رام رحیم کی پیرول کے لیے منظور کیے گئے ڈویژنل کمشنر کے حکم پر ایک نظر ڈالنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ایک ایسے معاملے میں عارضی رہائی دی گئی تھی جس میں انہیں سزا سنائی گئی تھی۔ جس کے بارے میں کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔

رام رحیم کو قتل کے دو الگ الگ مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جس کے لیے اسے 17 جنوری 2019 اور 18 اکتوبر 2021 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔دریں اثنا رام رحیم ریاستی حکومت کی طرف سے دی گئی 21 دن کی فرلو حاصل کرنے کے بعد بدھ کو روہتک کی سناریا جیل پہنچ گئے۔،اس سے پہلے وہ کل 70 دنوں کے لیے جیل سے رہا ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button