’وہ بے ضرر لگتا تھا‘، صحافی نے فرانس کے ’سیریل کِلر چارلس سوبھراج‘ کو کیسے گھیرا؟
نیپالی جیل سے 78 سالہ ماسٹر مائنڈ بکنی قاتل کی رہائی کا اب چرچا ہو رہا ہے
کھٹمنڈو، 23دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نیپالی جیل سے 78 سالہ ماسٹر مائنڈ بکنی قاتل کی رہائی کا اب چرچا ہو رہا ہے۔ اسی چارلس سوبھراج کو ان کی جوانی میں پھانسی دی جانی تھی۔ شیطانی ذہن کے مالک چارلس سوبھراج نے خود کو پھانسی ہونے سے بھی صاف بچایا تھا۔نیپال کی سپریم کورٹ نے سیریل کلر چارلس سوبھراج کو عمر کی بنیاد پر 19 سال جیل میں گزارنے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
Journalist Joseph Nathan صحافی جوزف ناتھن 2003 میں ایک رات کھٹمنڈو کے کسینو میں کھانا کھانے گئے جب انہیں اپنی زندگی کی سب سے بڑی خبر مل گئی۔فرانس کے سیریل کلر چارلس سوبھراج بھی اسی کسینو میں کارڈز کھیلنے میں مشغول تھے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نیپال کے اخبار ہمالین ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون سوبھراج کی گرفتاری اور ان کی قید کا سبب بنا۔جوزف ناتھن نے اے ایف پی کو انٹرویو میں چارلس سوبھراج کے حوالے سے بتایا کہ ’وہ ایک بوڑھے شخص کی طرح دِکھتا تھا۔ آپ اس پر دوسری نگاہ نہ ڈالتے۔ وہ بے ضرر لگ رہے تھے۔ یہ خوش قسمتی تھی کہ میں نے انہیں پہچان لیا۔
چارلس سوبھراج 20 سے زائد قتل کے جرائم میں ملوث تھے جن میں سے اکثر مارے جانے والے ایشیائی ہپی ٹریل پر نوجوان غیر ملکی تھے۔بالآخر 1976 میں انڈیا میں انہیں گرفتار کر کے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کر دیا گیا۔لیکن وہ جیل کے محافظوں کو نشہ آور اشیا دینے کے بعد فرار ہو گئے تاہم انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔جوزف ناتھن نے بتایا کہ ’رہائی کے بعد وہ فرانس چلے گئے اور پھر یہ سوچ کر 2003 میں نیپال کا سفر کیا کہ وہاں کے حکام انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔وہ اب بھی 1975 میں دو سیاحوں کے قتل میں مطلوب تھے اور یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ انڈین صحافی نے انہیں پہچان لیا۔
ہمالین ٹائمز کے ایڈیٹوریل ایڈوائزر جوزف ناتھن نے بتایا کہ ’کسینو مینیجر میرا دوست تھا اور ہم نے انہیں (سوبھراج) سکیورٹی کیمرے پر ایک ساتھ دیکھا۔ میں نے ایک فوٹوگرافر کو 24 گھنٹے اس کے ہوٹل میں تعینات کیا جو ایک سستا ہوٹل تھا۔ ہر رات وہ کسینو میں کارڈز کھیلتے تھے۔اس دوران ناتھن نے ہوٹل کے منیجر سے سوبھراج کے پاسپورٹ کی ایک کاپی حاصل کر لی۔ انہوں نے ایک جعلی نام سے چیک اِن کیا تھا۔ناتھن نے بتایا کہ 12ویں یا 13ویں دن میں نے ان کا پیچھا کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ چارلس سوبھراج ہیں۔



