ناریل کا صحت بخش پانی
ناریل کے پانی میں بڑھاپے کے اثرات روکنے والی اور سرطانوں سے محفوظ رکھنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں
سرطان سے محفوظ رکھتا ہے: ناریل کے پانی میں بڑھاپے کے اثرات روکنے والی اور سرطانوں سے محفوظ رکھنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اسے پینے سے جلد پر جھریاں اور شکنیں نہیں پڑتیں اور جلد سے متصل ٹشوز سیراب اور مضبوط رہتے ہیں۔
چربی تیزی سے گھلتی ہے: ناریل کا پانی اگر باقاعدگی سے پیا جائے تو جسم میں غذا کا انجذاب بھی بہتر ہوجاتا ہے۔ میٹا بولزم کی شرح بہتر ہونے سے جسم میں شکر استعمال ہوتی رہتی ہے اور چربی تیزی سے گھلتی ہے۔
پتھری گھلتی ہے: ناریل کا پانی پینے سے گردے کی پتھری کی تحلیل میں مدد ملتی ہے کیونکہ اس میں پوٹاشیم شامل ہوتا ہے جو پیشاب میںالقلی کے ترشوں کو نیوٹرلائز کر کے پتھری کی تشکیل کو روکتا ہے۔
کھانا ہضم کرتا ہے: ناریل کا پانی بے حد ہاضم ہے یعنی کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس پانی میں کیلشیم، مینگانیز اور زنک جیسے معدنیات ہوتی ہیں جن سے جسم میں توانائی کا احساس ابھرتا ہے۔
طاقت اور توانائی کا ذریعہ: ناریل کے پانی میں شکر اور سوڈیم کی مقدار کم جبکہ پوٹاشیم ، کیلشیم اور کلو رائیڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لہٰذا اس کے پینے سے جسم میں جہاں تازگی آتی ہے اور پانی کی کمی دور ہوتی ہے وہیں طاقت اور توانائی کا احساس بھی نمایاں ہوتا ہے۔
شگر کیلئے مفید: ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بھی ناریل کا پانی مفید ہے۔ اس سے ان کی بیماری قابو میں رہتی ہے۔ اس پانی کے پینے سے خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں دوران خون بہتر ہوجاتا ہے۔
بی پی کیلئے مفید: ناریل کا پانی ان لوگوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے جو ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔ اس سے بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔



