ستیاناسی اکسیر صحت
درد سر میں پیشانی پر روغن ستیاناسی کی مالش کریں۔ فوراً آرام آ جاتا ہے۔ بے خوابی کی حالت میں ستیاناسی کے پانچ سات قطرے گائے کے دودھ میں ڈال کر پئیں۔ یہ نیند لانے کے لیے مجرب ہے۔آنکھ دکھنے کی حالت میں ستیاناسی کا دودھ سلائی سے دن میں دو تین بار لگائیں۔ ایک دو روز میں آرام ہو جائے گا۔
کان کے دردمیں مفید
ستیاناسی کے پتوں کو لے کر کوٹیں اور ان کا پانی نچوڑ کر ہم وزن تلوں کا تیل ملا کر آگ پر پکائیں۔ جب تمام پانی جل کر باقی تیل رہ جائے تو اس کو صاف کر کے شیشی میں رکھیں۔ بوقت ضرورت نیم گرم چند قطرے کان میں ٹپکائیں کان کا درد رفع ہو جاتا ہے۔اسی طرح روغن ستیاناسی (جو کولہو میں دبا کر نکالا ہو) کو نیم گرم دو چار قطرے کان میں ٹپکانے سے کان کے درد کو آرام ہو جاتا ہے۔
نمک کے فوائد
ستیاناسی سے نمک حاصل کرنے کی ترکیب یہ ہے کہ ستیاناسی کو لے کر خشک کر کے جلائیں۔ اس کے بعد راکھ پانی میں حل کر کے تھوڑی دیر رکھ چھوڑیں۔ اس کے بعد اوپر کا صاف نتھار لے کر کڑھائی میں پکائیں، یہاں تک کہ تمام پانی اڑ جائے۔ آخر میں نمک باقی رہ جائے گا۔ یہ نمک کھانسی اور دمہ کے علاوہ پیٹ کے درد، بدہضمی، قبض، بواسیر، ورم طحال، درد جگر نفخ شکم اور ہیضہ میں مفید ہے۔ خوراک دو رتی سے تین رتی ہمراہ پانی، بچوں کو آدھی رتی تک شہد میں چٹائیں۔
کھانسی میں مفید
کھانسی کے لیے ستیاناسی کی جڑ کو باریک پیس کر سفوف بنائیں اور یہ سفوف ایک تولہ ہو تو اس میں نمک لاہوری، پیپل ہر ایک ایک تولہ باریک پیس چھان کر شامل کریں اور شہد میں گوندھ کر چنے کو برابر گولیاں بنائیں، ایک ایک گولی صبح و شام کھلائیں۔
بواسیر میں مفید
بواسیر خونی ہو یا بادی ترپھلہ تین تولہ، ہلیلہ سیاہ دس تولہ، مغز تخم نیم دس تولہ، تخم مولی دس تولہ، رسونت مصفیٰ بیس تولہ، ستیاناسی کا رس اڑھائی سیر۔پہلے ستیاناسی کے رس کو ہلکی آنچ پر پکائیں جب وہ نصف رہ جائے تو اس میں دواؤں کا سفوف ڈال کر جلائیں اور برابر پکاتے رہیں۔ یہاں تک کہ غلیظ ہو جائے اور اس کی گولیاں بن سکیں۔ چنے کے برابر گولیاں بناکر رکھیں۔ صبح کے وقت دو گولیاں توڑ کر آدھی چھٹانک مکھن اور مصری کے ہمراہ کھلائیں۔
گٹھیا میں مفید
گٹھیا میں روغن ستیاناسی اور روغن بادام تلخ ہم وزن ملا کر مالش کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
زخموں میں مفید
کیسے ہی سخت ہوں اور خواہ کتنی مدت گزر گئی ہو، ستیاناسی کی شاخوں اور پتوں کا رس نچوڑ کر اس میں شکر سفید ملا کر شربت کاقوام بنالیں۔ روزانہ پانچ پانچ تولہ شربت صبح و شام پئیں۔ غذا مرغن کھائیں۔ تیل، ترشی اور مچھلی سے پرہیز رکھیں چند ہی روز میں مرض دور ہو جائے گا۔
زہریلے زخموں میں ستیاناسی کی جڑ ایک تولہ، مرچ سیاہ سات عدد کو ٹھنڈے پانی میں کوٹ چھان کر صبح کے وقت پئیں۔ ہفتہ عشرہ کے استعمال سے آرام ہو جاتا ہے۔
دنبل وداد میں مفید
ستیاناسی کے پتوں کو کوٹ کر تھوڑا نمک شامل کر کے گیلے کپڑے میں لپیٹ کر اوپر تھوڑی مٹی لگا کر آگ میں دبا دیں۔ جب مٹی پک جائے آگ سے نکال کر اندر سے بھجیا نکالیں اور گرم گرم دنبل پر باندھیں۔ دنبل کو پکاتا اور جلد ہی اس کو توڑ ڈالتا ہے۔داد کے لیے ستیاناسی کے بیج ایک تولہ، سرکہ میں پیس کر لگانے سے داد دور ہو جاتے ہیں۔
کتے کے کاٹے کا علاج
ستیاناسی کے بیج ایک تولہ، سیاہ مرچ سات عدد کے ہمراہ پانی میں گھوٹ کر چھان کر بار بار پلانے سے قے آئے گی اور جسم سے تمام زہر خارج ہو جائے گا۔
قبض میں مفید
روغن ستیاناسی ڈیڑھ ماشہ کی مقدار میں دودھ کے ہمراہ پلانے سے دست لے آتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی شاخوں اور پتوں کا رس بھی مسہلہ تاثیر رکھتا ہے۔ دودھ میں ملا کر پلانے سے دست لاتا ہے اور خون کو صاف کرتا ہے۔ اگر اس سے بطریق معروف شربت بنا لیا جائے تو بھی قبض کشا ہے۔ اس کے علاوہ ایک صاحب نے اس کے ذریعے اختیاری مسہل کی ترکیب بھی لکھی ہے اور وہ مندرجہ ذیل ہے:تخم ستیاناسی ایک تولہ کونڈی میں ڈال کر پانچ تولہ پانی میں خوب گھوٹیں اور دوگلاس لے کر ایک گلاس میں چھانیں اور پھر یہی کپڑا جس میں چھانا گیا ہے، بعینہٖ دوسرے گلا س پر پہلا چھانا ہوا پانی ڈالیں، اسی طرح یکے بعد دیگرے چھانیں، جتنی مرتبہ چھان کر پئیں گے اتنی مرتبہ ہی دست آئیں گے۔
کدو دانہ کو ہلاک کرنے کے لیے چار قطرے شام بتاشہ میں ڈال کر کھائیں اوپر سے چند گھونٹ پانی پئیں چند روز کے استعمال سے کدو دانے ہلاک ہو کر خارج ہو جائیں گے، کدو دانے کے علاوہ دوسرے کرموں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔
بخارمیں مفید
ستیاناسی کی جڑ دو تولہ، مرچ سیاہ ایک تولہ کو الگ الگ کو ٹ کر ستیاناسی کے پتوں کے رس میں کھرل کر کے چنے کے برابر گولیاں بنائیں۔ ایک گولی پانی کے ساتھ کھائیں اگر بخار زیادہ ہو تو دو گولیاں دیں۔ تین روز کے استعمال سے ہر قسم کا بخار دور ہو جاتا ہے۔
پیشاب کی سوجن میں مفید
ستیاناسی کا رس چھ ماشے گائے کے دودھ کی لسی کے ساتھ کھائیں۔ پیشاب کی نالی کی سوجن دور ہوجاتی ہے۔
کشتہ ہڑتال گئو دنتی
ہر قسم کے بخار کو دور کرتا ہے ہڑتال کی اچھی اچھی ڈلیاں لے کر ستیاناسی کے عرق میں کھرل کر کے ٹکیاں بنائیں اور ستیاناسی کے پتوں کی لبدی میں رکھ کر دس سیر اپلوں کی آگ دیں، سفید رنگ کا نہایت اچھا کشتہ تیار ہو جاتا ہے۔ بخاروں کو دور کرنے کے لیے ایک دو رتی پان یا تلسی کے پتے میں رکھ کر کھلائیں۔
کشتہ طوطیائے سبز
طوطیائے سبز کی ایک بہت بڑی ڈلی لے کر چینی کی پلیٹ میں رکھیں اور اسے ستیاناسی کے دودھ میں اچھی طرح تر کر کے کسی ہموار ٹھیکری پر رکھ کر چار پانچ سیر اوپلوں کے درمیان رکھ کر آگ دیں۔ نہایت ملائم سفید رنگ کا کشتہ تیار ہو گا۔ آنکھ کے پھولے اور جالے کو کاٹتا ہے، نہایت احتیاط سے لگائیں۔
کشتہ چاندی
چاندی ایک تولہ لے کر پترہ بنائیں۔ اس کو آگ میں سرخ کر کے ایک سو ایک مرتبہ بجھائیں۔ اس کے بعد ستیاناسی کی شاخوں اور پتوں کی لبدی میں رکھ کر گل حکمت کر کے پندرہ سیر اوپلوں کی آگ دیں۔ تین چار آنچ میں نہایت عمدہ اور ملائم کشتہ تیار ہو گا اس کا باریک پیس کر شیشی میں رکھیں بوقت ضرورت ایک رتی کشتہ ملائی میں رکھ کر کھائیں۔ کھانسی اور جریان کو دور کرتا ہے۔ اور قوت کو بڑھاتا ہے۔
پھول ستیاناسی کے فوائد
اس کے پھول کی پتیاں سایہ میں خشک کر لیں، پھر خوب مثل سرمہ پیس کر چار گنا شہد ملا کر چھوڑیں یا خشک ہی رکھ لیں۔ بوقت ضرورت ایک چاول، شہد یا شربت بنفشہ کے ہمراہ چٹائیں۔فوائد: کیسی ہی کھانسی کیوں نہ ہو، انشااللہ دن میں چار بار دینے سے ہی آرام ہو جائے گا۔
شاخ نرم جو پودے کے درمیان نکلتی ہے، جس کو گانٹھ کہتے ہیں۔ چاقو سے چھوٹی چھوٹی سایہ میں خشک کر لیں، سفوف بنا کر چینی سفید ہم وزن ملا کر خوراک دو ماشہ صبح گائے کے دودھ کے ساتھ اکیس روز تک کھلائیں۔
فوائد: پرانے سے پرانے جریان کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
کشتہ سم الفار
بیج ستیاناسی کا سفوف تیار کریں، اور ایک سم الفار کی سائدہ ڈلی کو کڑاہی میں ڈال کر آگ پر رکھیں، اور سفوف کی برکی ڈالتے جائیں، لیکن دھوئیں سے نگاہ کو بچائیں۔ آگ ملائم رہے، جب تیل نکلنے لگے آگ موقوف کر دیں۔ سرد ہونے پر دیکھیں اگر کشتہ برنگ سفید ہو گیا ہو تو ٹھیک ورنہ دوبارہ آنچ پر رکھ کر چٹکی ڈالتے جائیں، جب کھل ہو جائے تو کشتہ محفوظ کر لیں۔ خوراک 1/8 چاول سے 1/2 چاول مسکہ یا ملائی میں ایک ہفتہ تک دیں۔ فوائد: زہریلے امراض، وجع المفاصل، دمہ اور کمزوری کو ازحد مفید ہے۔
کمزوری نظرمیں مفید
سرمہ سیاہ خالص ایک تولہ، مرچ سیاہ ایک ماشہ باریک پیس کر ستیاناسی کے دودھ چھ ماشہ کے ہمراہ خوب باریک پیس کر سرمہ تیار کریں اور شیشی میں رکھ دیں۔ رات کے وقت ایک دو سلائی آنکھوں میں لگائیں۔ یہ ممیرے کا بدل ہے۔ کمزوری نظر کے لیے ازحد مفید ہے۔
لکنت میں مفید
لکنت کے لیے ہر روز ستیاناسی کا دودھ انگلی پر لگا کر زبان پر ملتے رہیں چند روز کے استعمال سے لکنت جاتی رہے گی۔
کمزوری میں مفید
چھلکا ستیاناسی کو سایہ میں خشک کر کے پیس لیں، اس میں سے چار ماشہ لے کر ابلے دودھ پر چھڑک کر بقدر ضرورت چینی ملا کر دیں، کمزوری میں مفید ہے۔
ہیضہ میں مفید
چھلکا جڑ ستیاناسی ایک تولہ، مرچ سیاہ چھ ماشہ، باریک پیس کر گولیاں بقدر نخود بنائیں اور دو گولی ہمراہ گرم پانی کھائیں، ہیضہ، پیٹ درد کے لیے مفید ہے۔
ملیریائی بخارمیں مفید
جڑ ستیاناسی دو تولہ، کالی مرچ ایک تولہ، علیحدہ علیحدہ کوٹ کر ستیاناسی کے پتوں کے پانی سے گولیاں بقدر نخود بنائیں ہر قسم کے ملیریائی بخاروں کے لیے مفید ہے۔
خوراک: ایک گولی ہمراہ پانی، تیسرے اور چوتھے روز آنے والے بخاروں کے لئے بھی خاص طور پر مفید ہے۔



