سرورققومی خبریں

نسخے پر ملنے والی دواؤں کے اشتہارات پر سختی کی تیاری، میڈیکل اسٹورز اور دواؤں کے سپلائرز پر بھی ہوگی نگرانی

ڈاکٹر کے نسخے پر ملنے والی دواؤں کے اشتہارات کے لیے سخت قوانین بنانے کی تجویز۔

نئی دہلی، 9 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): مرکزی وزارت صحت نے ڈاکٹر کے نسخے پر فروخت ہونے والی دواؤں کے اشتہارات سے متعلق قوانین سخت کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے تحت دوا بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ میڈیکل اسٹورز اور بڑی مقدار میں دوائیں خرید کر دوسرے دکانداروں کو فروخت کرنے والے کاروباری افراد کو بھی نئے ضابطوں پر عمل کرنا پڑ سکتا ہے۔

شیڈول H، H1 اور X میں شامل دواؤں کے اشتہارات کے لیے مرکزی حکومت سے پہلے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ ان زمروں میں ایسی دوائیں شامل ہیں جنہیں مقررہ ضابطوں کے مطابق ڈاکٹر کے نسخے پر ہی فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اب تک اشتہارات سے متعلق یہ پابندیاں بنیادی طور پر دوائیں بنانے والی کمپنیوں پر لاگو ہوتی رہی ہیں۔

وزارت صحت نے ڈرگس رولز 1945 میں تبدیلی کی تجویز دی ہے۔ اس کے تحت دوائیں فروخت کرنے، اپنے پاس رکھنے، دکان میں نمائش کے لیے رکھنے یا دوسروں تک پہنچانے کا لائسنس رکھنے والے افراد اور ادارے بھی اشتہارات سے متعلق ضابطوں کے دائرے میں آئیں گے۔ اس طرح میڈیکل اسٹورز اور دوسری دکانوں کو دواؤں کی تشہیر کرتے وقت مقررہ قواعد کا خیال رکھنا ہوگا۔

حکومت کا مقصد ایسی دواؤں کے اشتہارات پر نظر رکھنا ہے جن کے استعمال کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت ضروری ہوتی ہے۔ بغیر مناسب طبی مشورے کے دوائیں استعمال کرنے سے صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر اینٹی بایوٹکس جیسی دواؤں کا غلط استعمال علاج میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

شیڈول H، H1 اور X میں کئی طرح کی اینٹی بایوٹکس، ذہنی اور اعصابی مسائل کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض دوائیں اور دیگر ادویات شامل ہیں۔ ان کی فروخت کے لیے متعلقہ قوانین کے مطابق ڈاکٹر کا درست نسخہ ضروری ہوتا ہے۔ شیڈول H میں 500 سے زیادہ دوائیں شامل بتائی جاتی ہیں، جو مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

یہ تجویز ڈرگس ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ کے 93ویں اجلاس میں ہونے والی بحث کے بعد سامنے آئی ہے۔ رواں سال فروری میں منعقدہ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا تھا کہ دوائیں بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ انہیں فروخت کرنے اور دوسری جگہوں تک پہنچانے والے کاروباری افراد کے لیے بھی واضح قوانین ہونے چاہئیں۔

وزارت صحت نے مجوزہ قواعد پر عوام اور متعلقہ اداروں سے اعتراضات اور تجاویز طلب کی ہیں۔ مسودے کے مطابق گزٹ میں ان قواعد کی نقول دستیاب ہونے کی تاریخ سے 30 دن کے اندر اپنی رائے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد حکومت قواعد کے بارے میں حتمی فیصلہ کر سکتی ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ وزارت صحت نے میڈیکل اسٹورز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے اور ان کی ریکارڈنگ کم از کم تین ماہ تک محفوظ رکھنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ اس کا مقصد مخصوص ادویات کی غیر مجاز فروخت روکنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ایسی دوائیں فروخت نہ ہوں جن کے لیے نسخہ ضروری ہے۔

اگر حکومت اس نئی تجویز کو منظوری دے کر نافذ کرتی ہے تو دواؤں کے اشتہارات سے متعلق پابندیاں مزید سخت ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں دوائیں بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ میڈیکل اسٹورز اور دواؤں کی خرید و فروخت کرنے والے دوسرے کاروباری افراد کو بھی نئے ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا۔ فی الحال یہ ایک تجویز ہے، حتمی قانون نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button