سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

عورتوں کا دشمن سیلان الرحم کا گھریلو علاج 

حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی صاحبزادہ ماہر نباض مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی رحیمی شفا خانہ بنگلور

آج اس بیماری کی بہت کثرت ہوگئی ہے، ہر گھر میں اس مرض کی ایک نہ ایک ایک مریضہ ضرور موجود ہے کنواری لڑکیوں سے لیکر بوڑھی عورتوں تک میں سیلان الرحم کی ایک عام شکایت پائی جاتی ہے جس طرح مردوں میں جریان کا عارضہ اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ سو میں سے ایک نوجوان کو بھی مشکل ہی سے تندرست کہا جاسکتا ہے اسی طرح مستوارت میں لیکوریا یعنی سیلان الرحم کا مرض تشویشناک حد تک پھیلتا جارہا ہے۔

دوشیزائیں بھی اس کا شکار ہیں، اور نئی دلہن بھی، بال بچہ دار عورتیں بھی اس کی زد سے محفوظ نہیں، حتیٰ کہ وہ عمر رسیدہ خواتین بھی جو سن ایاس کو پہونچ چکی ہیں، ان کے علاوہ معصوم بچیاں جن کی عمر دس سال بھی نہیں ہوتی آج سیلان الرحم کی تباہ کاری سے نہیں بچ سکیں۔ 

سیلان الرحم کیا ہے؟

سیلان الرحم بذات خود کوئی مرض نہیں بلکہ یہ اعضاء تناسل میں سے کسی ایک بیماری کی علامت ہے۔ عورتوں کے اندام نہانی میں عموماً ان غدودوں کی رطوبت اور چکناہٹ موجود رہتی ہے۔ جو عنق الرحم سے جڑے ہوتے ہیں جب کسی سبب سے یہ غدود ضرورت سے زیادہ مستعد ہوجائیں تو ان کے اندر انڈے کی سفیدی کی مانند رطوبت بھی اپنی مقدار میں بہت بڑھ جاتی ہے۔

چنانچہ جب یہ خوب بڑھ جاتی ہے تب اسی سے ہی یہ سیلان الرحم کا مرض پیدا ہوجاتا ہے، مطلب یہ کہ سیلان الرحم کے اسباب وعلامات پر تفصیلی نظر ڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس بیماری کا عورتوں کے مخصوص اعضاء سے تعلق ہے گویا کہ سیلان الرحم عورتوں کا ایک مخصوص مرض ہے۔ 

جس طرح بے شمار مردوں کو جریان کا مرض اندر ہی اندر گھن کی طرح کھوکھلا کررہا ہے اسی طرح عورتوں کی تندرستی سیلان الرحم کے مرض نے تباہ کردی ہیں۔ 

سیلان الرحم کی اقسام: سیلان الرحم کی حسب ذیل پانچ اقسام شمار کی گئی ہیں۔ 

(۱) سیلان فرحی: یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں کہ اندام نہانی کے بیرونی حصہ سے رطوبت خارج ہوتی ہے، یہ مرض عام طور پر نوجوان مستورات کو ہوا کرتا ہے اور ان کی شرمگاہ کے لب آپ میں چپک جایا کرتے ہیں۔ 

(۲) سیلان مبعلی: اس مرض میں جو رطوبت اندام نہانی سے خارج ہوتی ہے وہ شرمگاہ کے اندر سے خارج ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی قدرے کھجلی بھی ہوتی یہ نئی دلہنوں میں پایا جاتا ہے۔ 

(۳) سیلان عنقی: سیلان کا یہ مرض اکثر اولاد والی مستورات کو ہوتا ہے اور انڈے کی سفیدی کی شکل کی کھاری شفاف اور لیسدار رطوبت رحم کی گردن سے خارج ہوتی رہتی ہے۔ 

(۴) سیلان رحمی: یہ مرض باکرہ نوجوان لڑکیوں یانئی نویلی دلہنوں کو ہوا کرتا ہے جبکہ ایام ماہواری قریب الاختتام ہوتے ہیں اس میں ان کے رحم کے اندر سے رطوبت خارج ہوتی ہے جو کہ انڈے کی سفیدی کی مانند تو ہوتی ہے لیکن اس میں لیس نہیں ہوتی، جب یہ مرض پرانا ہوجاتا ہے تو رطوبت گہرے رنگ کی زردی مائل ہوجاتی ہے۔ 

(۵) سیلان بیضی: یہ خاص قسم کا سیلان ہے جس کی تشخیص عام معالج نہیں کرسکتے بلکہ خاص اور تجربہ کار معالج ہی اس کی مکمل تشخیص کرسکتے ہیں۔ 

مندرجہ بالا پانچ اقسام کے علاوہ سیلان الرحم کی ایک اور قسم بھی مستعمل ہے لیکن درحقیقت اسے سیلان الرحم نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اس میں جو رطوبت خارج ہوتی ہے وہ مردوں کے مذی کے مشابہ ہوتی ہے اور چونکہ یہ سیلان الرحم سے ملتا جلتا ضرور ہے اس لئے ناتجربہ کار معالج اور عام دائیاں اس کو سیلان الرحم ہی تصور کرلیتی ہیں۔ 

مردوں کی طرح مستورات کے بھی غدود ہوتے ہیں جو کہ عورتوں کی اندام نہانی کے اندر ہوتے ہیں اور ان غدودوں میں سے تھوڑی تھوڑی رطوبت ہروقت نکلتی رہتی ہے لیکن اگر مریضہ کی عمر زیادہ ہو تو یہ رطوبت اس وقت دھار باندھ کر نکلنے لگتی ہے جبکہ عورت جماع کے فعل میں مشغول ہو اس مرض کا تشخص کرنا بھی قدرے مشکل ہے۔

ناتجربہ کار طبیب اور عام دایہ اس کی تشخیص نہیں کرسکتی اس لئے نہایت احتیاط سے کسی قابل معالج سے تشخیص کرانی لازمی ہے۔ میرے والد محترم بڑے حکیم حضرت مولانا حکیم ڈاکٹر محمد ادریس حبان رحیمی حفظہ اللہ لیکوریا کے متعلق نہایت آسان نسخہ تحریر فرماتے ہیں جو بے حد مجرب ہے۔ 

نسخہ: کیکر کی پھلی، سنگھاڑہ، تال مکھانہ، دھنیا ثابت، سفید موصلی، گلاب کی پتیاں ان تمام کو پچاس پچاس گرام لے کر اچھی طرح صاف کرلیں اور باریک سفوف بنالیں، سفوف تیار ہونے پر کڑھائی میں ہلکی آنچ پر بھون لیں تاکہ دوا کی نمی ختم ہوجائے اور کڑواہٹ بھی دور ہو ہلکی خوشبو آنے پر چولہے سے اتارکر ٹھنڈا کرلیں، سفوف ٹھنڈا ہونے کے بعد ڈیڑھ سو گرام مصری کا سفوف یاکچی شکر (کھانڈ) کو ملاکر شیشی میں محفوظ کرلیں دوا تیار ہے۔ 

 

ترکیب استعمال: صبح نہار پیٹ ایک چائے کا چمچ اور رات کھانے کے بعد ایک چائے کا چمچ نیم گرم دودھ سے استعمال کریں۔ 

 

فائدہ: ہرقسم کے سیلان، لیکوریا اور کمر درد میں مفید ہے مرد حضرات جو جریان کے مرض میں مبتلا ہوں وہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ 

 

نوٹ: رحیمی شفاخانہ بنگلور ودہلی میں اس مرض کا الحمد للہ تشفی بخش علاج کیا جاتا ہے دوا بذریعۂ ڈاک بھی منگوائی جاسکتی ہے۔ 

ہمارا پتہ

Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039 Phone : 080-23180000/23397836

mobile no 9343712908 

متعلقہ خبریں

Back to top button