سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مکینکل نظام-انسانی جسم کے 8 عجیب افعال

انسانی جسم کا نظام کافی پیچیدہ ہے جسے سمجھنا ہمارے لیے کافی مشکل ہوتا ہے

انسانی جسم کا نظام کافی پیچیدہ ہے جسے سمجھنا ہمارے لیے کافی مشکل ہوتا ہے۔درحقیقت اکثر افراد جسم کے دفاعی میکنزم کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جیسے انہیں معلوم نہیں کہ انگڑائی یا جمائی لینے کا مقصد کیا ہے۔یہ دفاعی نظام انسان کی پیدائش کے بعد سے تحفظ فراہم کرتا ہے آئیے جانتے ہیں کہ وہ کس طرح جسم کا تحفظ کرتے ہیں؟

چھینک

آپ کو چھینک اس وقت آتی ہے جب ناک کی گزرگاہ کسی چیز سے الرجی کا شکار ہو یا کچرہ بھر گیا ہو، درحقیقت یہ اس کچرے کو باہر نکالنے کے لیے انسانی جسم کا ایک میکنیکل نظام ہے۔

انگڑائی لینا

صبح اٹھتے ہی اکثر افراد انگڑائی لیتے ہیں، ایسا کرنے سے طویل وقت تک لیٹنے رہنے کے بعد اٹھنے سے خون بحال ہوتا ہے اور مسلز کام کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

جمائی لینا

اس کے بارے میں متعدد خیالات موجود ہیں کہ لوگ جمائیاں کیوں لیتے ہیں، مگر اس کا بنیادی مقصد دماغ کو بہت زیادہ گرم ہونے سے بچاتا ہے۔

رونگٹے کھڑے ہونا

جب موسم ٹھنڈا ہوتا ہے تو جسم رونگٹے کھڑے کرکے جسم سے حرارت کے اخراج کی شرح کو کم کرتا ہے، اس طرح سرد موسم میں گرم رہنا آسان ہوجاتا ہے۔

یاداشت کھونا

کئی بار اس وقت لوگ یاداشت سے عارضی طور پر محروم ہوجاتے ہیں جب وہ کسی ناخوشگوار واقعے سے گزرتے ہیں، یہ دماغ کی جانب سے آپ کو ٹراما سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔

آنسو

آنسوؤں کے 2 مقاصد ہوتے ہیں، یہ آنکھوں کو بیرونی اشیاء سے تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ جذباتی دفاعی ڈھال بھی ثابت ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انسان اس وقت روتے ہیں جب وہ اپ سیٹ ہوتے ہیں تاکہ خود کو جذباتی تکلیف سے بچاسکیں۔

ہاتھوں میں جھریاں

نم ماحول میں انسانی ہاتھوں پر جھریاں نمودار ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ جسم پھسلنے والے ماحول سے مطابقت پیدا کرسکے، یہ جھریاں ہاتھوں کی گرفت بہتر کرتی اور گرنے یا چوٹ لگنے کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

ہچکیاں

ہچکیاں اس وقت آتی ہیں جب لوگ بہت تیزی سے کچھ کھالیں، اس عمل سے جسم آپ کو تیزی سے کھانے سے روکتا ہے تاکہ غذا ہضم کرنا آسان ہوجائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button