سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

صحت مند اور گھنے بال-ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفاخانہ بنگلور

گھنے اور صحت مند بال ہونا ہر مرد اور عورت کی فطری خواہش ہوتی ہے

بال گھنے اور صحت مند بال ہونا ہر مرد اور عورت کی فطری خواہش ہوتی ہے، حقیقت بھی یہ ہے کہ گھنے اور صحت مندبال ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔ صحت مند بالوں کی پہچان یہ ہے کہ ان میں کسی قسم کا کوئی کھردرا پن نہ ہو۔ خشکی اور سوکھا پن نہ ہو بالوں کی قدرتی رنگت اُڑی ہوئی نہ ہو ،دیکھنے میں چمکدار معلوم ہوں ہاتھ لگانے سے یوں لگے جیسے ریشم کی طرح ملائم ہیں۔ عورتیں اپنے صحت مند بالوں کا اندازہ اس طرح کرسکتی ہیں کہ ایک بال کو جڑ کے قریب سے اپنے ہاتھ کی دونوں انگلیوں میں پکڑیں او ردباتے ہوئے بال کو کھینچیں اگر وہ بال کسی ریشمی دھاگے کی مانند آسانی اور ملائمت سے کھینچا چلا آئے تو پھر سمجھ لیں کہ بال صحت مند ہیں۔

بالوں کی تمام اقسام میں سے گھنے اور صحت مند بال ہی سب سے بہترین بال ہوتے ہیں ایسے بال جس کسی کے بھی ہوں اس کو بالوں کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی، صحت مند بال چہرے کی رونق اور خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں صحت مند بالوں کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ یہ کم گرتے ہیں اسلئے گھنے اورمضبوط ہوتے ہیں۔ چونکہ بالوں کی صحت مندی کا دارومدار بہت حد تک ان کی فطری خاصیت پر ہوتا ہے اور ایسے بال قدرت کی طر ف سے ایک بہترین عطیہ ہوتے ہیں لیکن اگر کسی کے بال قدرتی طور پر صحت مند نہیں ہیںتو اپنی خوراک کی طرف توجہ دی جائے خوراک کا درست انتخاب کیا جائے کیونکہ اچھی خوراک بالوں کی پرورش میں بھی اچھا کردار ادا کرتی ہے۔

اس کیساتھ ساتھ ورزش انتہائی ضروری ہے اسلئے کہ بالوں کو ورزش کے ذریعے جلد اور مناسب خوراک میسر آجاتی ہے جو ورزش آپ کو یہاں بالوں کو صحت مند رکھنے کیلئے بتائی جارہی ہے وہ آپ تقریباً ہر روز کرسکتے ہیں روزانہ رات کو بستر پر سونے سے پہلے الٹے لیٹ جائیں پھر اپنے سر کو چار پائی سے نیچے اسطرح لٹکائیں کہ باقی جسم بستر پر رہے اور سر نیچے لٹکا ہوا ہو اس سے آپ کے سر کی جانب خون کا دوران تیز ہوگا اور بالوں کی جڑوں کو مطلوبہ خوراک بھی حاصل ہوجائے گی جو بالوں کی صحت مندی کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ ورزش آپ رات کے علاوہ دن میں بھی کرسکتے ہیں۔

ہر روز تین سے چار منٹ تک بالوں کی یہ ورزش آپکے بالوں کو بہت جلد کئی بیماریوں سے نجات دلادیتی ہے۔ بال صحت مند اور قدرتی طو رپر چمکدار ہوجاتے ہیں آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہوگا کہ جس پودے کو خوراک نہ ملے وہ سوکھ جاتا ہے اس کی رونق ماند پڑجاتی ہے اگر بالوں کو ٹھیک طرح سے خوراک میسر نہ آئے تو بالوں کی قدرتی چمک اور رنگت بھی ماند پڑجاتی ہے ہر قسم کی بیماریاں بالوں کو گھیر لیتی ہیں اپنی روز مرہ کی خوراک میں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صحت مند اور گھنے بالوں کیلئے خوراک پروٹین سے بھر پور ہونی چاہئے بالوں کی مضبوطی اور صحت مندی کا کافی حد تک دارومدار پروٹین پر ہے۔ اگر آپکی روز مرہ کی غذا میں پروٹین کی مقدار کم پائی جاتی ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ آپکے جسم کی دیگر ضروریات کو تو پورا کردے گی لیکن اسکا اثر بالوں پر منفی پڑے گاکیونکہ اسکی مقدار بالوں کیلئے انتہائی کم رہ جائے گی جو کہ بالوں کی صحت مندی کیلئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔

تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ان مرد اور عورتوں کے سر کے بال زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں جن کی عمر سترہ او رچوبیس سال کے درمیان ہوتی ہے۔ جن علاقوں کی آب وہوا گرم ہوتی ہے وہاں کے رہنے والوں کے بال بہ نسبت ان لوگوں کے جو سرد آب وہوا والے ملکوں میں رہتے ہیں زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اسی طرح موسم سرما کی نسبت موسم گرما میں بال زیادہ جلدی بڑھتے ہیں انسان کے سر پر بالوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہوتی ہے سر کے ایک مربع انچ حصہ میں اندازاً بالوں کی تعداد تقریباً بارہ سوہوتی ہے یہ کہنا غلط ہے کہ بالوں پر انسان کی عمر ، صحت اور ذہنی پریشانیوں کا کوئی اثر نہیں پڑتا تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں لوگوں کے سر کے بال اچانک کسی صدمے یا خوف کی وجہ سے اپنی رنگت تبدیل کرگئے عمر کے لحاظ سے سر کے بالوں میں رنگت کی تبدیلی ہوتی ہے بعض اوقات صحت کی خرابی اور ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے بھی بالوں کے رنگ کی تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔

بالوں سے جوئوں کا مکمل خاتمہ

ایک لیموں لے کر درمیان سے کاٹ لیں اور اس کا رس بالوں کی جڑوں میں لگائیں،دو گھنٹے لگا رہنے دیں پھر نیم کے پتے ابال کر اس کے پانی سے سر دھوئیں۔خیال رہے کہ یہ پانی آنکھوں میں نہ جائے،اس سے جوئوں کا مکمل خاتمہ بھی ہو جائے گا اور بالوں میں چمک بھی آ جائے گی۔


سفید بال کالے کرنے کا آزمودہ نسخہ

اگر کسی کے بال وقت سے پہلے سفید ہوگئے ہوں تو اسطخدوس چھ گرام ایک کپ پانی میں پانچ منٹ پکاکر صبح و شام پئیں ان شاء اللہ آہستہ آہستہ بال واپس کالے ہونا شروع ہوجائیں گے۔ یہ نسخہ کچھ عرصہ مستقل مزاجی سے استعمال کریں۔

 

 مشہور واقعہ ہے کہ قیصر روم کے دربار میں ایک شخص کو گرفتار کرکے لایا گیا اور اس کو حوالات میں قید کردیا گیا اس شخص کے دل پر اپنے قتل ہونے کا ایسا خوف طاری ہوا کہ ایک رات کے اندر اندر اس کے سر کے تمام بال سفید ہوگئے۔ صبح کو جب اسے قیصر روم کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مجرم کے سر کے بال خوف اور دہشت کی وجہ سے اپنی رنگت تبدیل کرگئے چنانچہ قیصر روم نے ترس کھاکر اس شخص کو رہا کردیا۔

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک شخص ٹرین کے نیچے آگیا جس سے اس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں عین اسی وقت ایک دوسرا نوجوان وہاں آیا اس نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے برداشت نہ ہوسکا اور وہ غش کھاکر گر پڑا جب اسے ہوش آیا تو اس کے سر کے بال سفید ہوچکے تھے۔ ایسے بے شمار واقعات آپ کو اپنے ارد گرد ضرور نظر آئیں گے کہ کسی ذہنی صدمے یا بیماری کی وجہ سے سر کے بال جلد سفید ہوگئے یا بہت جلد گر گئے ایسی صورت حال میں بالوں کی نشوونما میں خلل واقع ہوجاتا ہے ، جب سر کے غدودوں کو کم خون حاصل ہو توبالوں کی رنگت میں بھی فرق آجاتا ہے چونکہ موسم سرما میں سردی کی وجہ سے سر کی کھال سکڑ جاتی ہے اسی لئے اس موسم میں بالوں کی نشوونما زیادہ نہیں ہوتی دن کی نسبت رات کو بال زیادہ بڑھتے ہیں۔

بالوں کو مضبوط اور توانا بنائیں

سر کے بالوں کی مضبوطی کے لئے ایک کلو سرسوں کے تیل کو کڑاہی میں گرم کریں، اس میں 750 گرام کٹی ہوئی لوکی ڈال کر درمیانی آنچ پر لوکی گندمی ہونے تک پکاکر چولہا بند کردیں، ٹھنڈا ہوجائے تو اسے چھان کر بوتل میں بھرلیں اور ہفتے میں دو مرتبہ بالوں کی جڑوں میں اس تیل سے مالش کریں۔


گنج پن کا علاج

گنجے پن کیلئے پیاز چھیل کر کچل لیں اور اسے شہد میں ملاکر خوب اچھی طرح مکس کرکے جہاں بال اگانے ہوں اس جلد کو کھردرے کپڑے سے رگڑ کر لیپ کریں گنج کا عارضہ ختم ہوجائے گا اس مقصد کیلئے مفید نسخہ ہے۔


کالی کھانسی کا گھریلو علاج

یہ ایک متعدی مرض ہے۔ جو زیادہ تر بچوں کو ہوتی ہے۔ بچہ مسلسل کھانسی کے دوران تھوک کے ساتھ سانس اندر لیتا ہے۔ کھانستے وقت چہرہ سرخ ہوجاتا ہے اور اکثر قے ہوجاتی ہے۔ اس قسم کے دورے بار بار یا کچھ وقفہ سے ہوتے ہیں۔

نسخہ: کاکڑا سنگھی 6گرام، سونٹھ 6گرام ، پیپل 6 گرام۔

ترکیب تیاری: تمام اجزاء کا باریک سفوف بناکر اچھی طرح مکس کرلیں۔

ترکیب استعمال : ایک گرام سفوف میں 6گرام شہد ملاکر دن میں تین بار استعمال کریں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button