سرورققومی خبریں

پی ایف آئی کے آٹھ اراکین کو ملی ضمانت کیخلاف 30 اکتوبر کو سماعت

مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ خلاف این آئی اے کی درخواست پر سماعت کرنے پر راضی ہوگیا ہے

نئی دہلی،20اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ جمعہ کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کیس میں کالعدم قرار دیئے گئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے آٹھ ارکان کو ضمانت دینے کے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلہ خلاف این آئی اے کی درخواست پر سماعت کرنے پر راضی ہوگیا ہے۔ عدالت عظمی 30 اکتوبر کو اس کیس کی سماعت کرے گی۔ این آئی اے نے اپیل میں دعویٰ کیا ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) ایک انتہا پسند اسلامی تنظیم ہے اور اس کو ‘خطرناک عزائم’ کے ساتھ تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد وژن انڈیا 2047 کے تحت شرعی قانون کو نافذ کرکے ملک میں مسلم حکمرانی قائم کرنا ہے۔جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل بنچ میں این آئی اے کی درخواست فوری سماعت کے لئے لسٹ کیا گیا ہے۔

این آئی اے کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ رجت نائر نے سپریم کورٹ سے آج دن میں اس کیس کی سماعت کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو آٹھ ملزمان کو ضمانت دے دی۔بنچ نے ان سے پوچھا کہ اگر کسی کو ضمانت ملی ہے تو اس میں جلدی کیا ہے؟’ جب نائر نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایس ایل پی رات بھر میں تیار کی گئی ہے اور عدالت سے اس پر مناسب ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس کے بعد بنچ نے کیس کی سماعت 30 اکتوبر کو مقرر کی۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار یونین آف انڈیا (این آئی اے)، مدراس ہائی کورٹ کی طرف سے دئے گئے حتمی حکم کے خلاف موجودہ ایس ایل پی دائر کرنے کا پابند ہے،جس سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 کے تحت پی ایف آئی کے اراکین کے خلاف درج ایک سنگین جرم میں ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ احترام کے ساتھ درخواست کی جاتی ہے کہ پی ایف آئی کے رہنماؤں اور کیڈروں نے وژن انڈیا 2047 کے خطرناک مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تنظیم کی تشکیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button