اسمبلی میں ریونت ریڈی اور کے ٹی آر کے درمیان نوک جھونک
رکن اسمبلی ریونت ریڈی مینجمنٹ کوٹہ میں دہلی کے منتخب چیف منسٹر، کے ٹی آر
حیدرآبا:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی ،بی آر ایس کے رکن اسمبلی کے ٹی آر کے درمیان اسمبلی میں زبردست نوک جھونک ہوگئی ہے۔ کے ٹی آر نے ریونت ریڈی کو عوام کے نہیں دہلی کے منتخب کردہ چیف منسٹر قرار دیا۔ چیف منسٹر نے کے ٹی آر کو این آر آئی قرار دیتے ہوئے مینجمنٹ کوٹہ میں منتخب کردہ رکن اسمبلی قرار دیا۔ آج اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر اظہارتشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کے ٹی آر نے گورنر کے خطبہ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے بی آر ایس کے 10 سالہ حکومت پر کی گئی تنقید پر اعتراض کیا اور کہا کہ کانگریس کا گذشتہ 50 سالہ دورحکومت تلنگانہ کیلئے نقصاندہ قرار دیا اور اس کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس کا کاؤنٹر کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر کی سیاسی زندگی کانگریس کی مرہون منت ہے۔ کانگریس نے کے سی آر کو یوتھ کانگریس کا نائب صدر، کے سی آر کو رکن پارلیمنٹ بنانے میں مدد کی۔ مرکزی وزارت میں شامل کیا۔
کے ٹی آر این آر آئی تھے انہیں مینجمنٹ کوٹہ میں اسمبلی حلقہ سرسلہ سے کانگریس نے ہی رکن اسمبلی بنایا جبکہ کانگریس کے سینئر قائد کے کے مہندر ریڈی کو ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے اتحاد کی بنیاد پر کے ٹی آر کیلئے سرسلہ حلقہ چھوڑ دیا گیا۔ اگر اپوزیشن چاہتی ہے تو بی آر ایس کی غلطیوں پر اسمبلی میں ایک دن مباحث کرنے کیلئے تیار ہے۔ عوام نے کانگریس کو اقتدار حوالے کیا اور بی آر ایس کو اپوزیشن میں بٹھایا ہے۔ بی آر ایس اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے۔ عوامی مسائل کو ایوانوں میں پیش کریں مگر چیخ و پکار کرتے ہوئے اصل موضوع سے عوامی توجہ ہٹانے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ ہم بھی اس کا جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔



