حزب اللہ نے لبنانی سرحد پر اسرائیل کے متعدد نگران کیمرے تباہ کردیئے
سرحد کے ساتھ اسرائیلی فوج کی متعدد چوکیوں پر نگرانی کے لیے نصب کیمروں کو تباہ کرنا شروع کر دیا
بیروت، 17اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) لبنان کے عسکریت پسند حزب اللہ گروپ نے کہا کہ اس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کی جنگ سے کشیدگی میں اضافے کے بعد،اپنی سرحد کے ساتھ اسرائیلی فوج کی متعدد چوکیوں پر نگرانی کے لیے نصب کیمروں کو تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔حزب اللہ کے ملٹری میڈیا ونگ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسنائپرز کو لبنان اسرائیل سرحد کے ساتھ پانچ پوائنٹس پر لگائے گئے نگرانی کے کیمروں کو فائرنگ کرکے تباہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں سے ایک کیمرہ اسرائیلی قصبے میتولا کے باہر تھا۔جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اسرائیلی فوج کو لبنان کی جانب نقل و حرکت کی نگرانی کرنے سے روکنا چاہتا ہے کیونکہ کئی دنوں کے فائرنگ کے تبادلے کے بعد لبنان کی طرف سے حزب اللہ کے چار جنگجوؤں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
لبنان کے نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے اور اپنے چھوٹے ملک کو کسی نئی جنگ میں دھکیلے جانے سے بچنے کے لیے کوشاں ہے۔7 اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر طوفان الاقصیٰ حملے کے بعد سے جس میں 13 سو سے زیادہ اسرائیلی شہری اور فوجی ہلاک ہو گئے تھے، لبنان۔ اسرائیل سرحد پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر ٹینک شکن میزائل داغے اور اسرائیلی فوجیوں نے لبنان کے سرحدی علاقوں پر گولہ باری کی۔اسی اثنا میں فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا بیروت پہنچ گئیں ہیں جہاں وہ سرحدی کشیدگی پر بات کرنے کے لیے حکام سے ملاقات کریں گی۔
فرانسیسی نیٹ ورک چینل-24 نے بتایا ہیکہ وہ اس سے قبل تل ابیب گئی تھیں جس کا مقصد اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد اس ملک سے یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔کولونا نے بتایا کہ اس حملے میں 19 فرانسیسی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 13 لاپتہ ہیں۔کولونا نے حملے میں تباہ شدہ ایک اسپتال کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانس اسرئیل کے دکھ کو سمجھتا ہے کیونکہ وہ خود بھی اسلامی انتہا پسندی کا شکا ر ہے۔اسرائیل اور حزب اللہ کٹر حریف ہیں جنہوں نے 2006 کے موسم گرما میں ایک ماہ طویل جنگ لڑی تھی۔اسرائیل ایران کے حمایت یافتہ اس شیعہ عسکریت پسند گروپ کو اپنا سب سے سنگین فوری خطرہ سمجھتا ہے۔
رفح کراسنگ پر ایک نیا حملہ، اقوام متحدہ کے ایندھن کے 6 ٹرک غزہ میں داخل
غزہ، 17اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کے قریبی علاقے کو پیر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دسویں دن ایک نئے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ 7 اکتوبر سے اس علاقے پر تین مرتبہ حملہ کیا گیا ہے۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق رفح کراسنگ پر سینکڑوں فلسطینیوں کا ہجوم جمع ہے۔ یہ افراد رفح کراسنگ عبور کرنے کی اجازت کے منتظر ہیں۔دریں اثنا سی این این کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ایندھن کے 6 ٹرک رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوئے ہیں۔ اسرائیل کو رفح کراسنگ سے تمام امدادی ٹرکوں کے داخلے پر تحفظات ہیں اور اس نے ان کی تعداد میں کمی کی درخواست کی ہے۔مختلف قومیتوں کے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کے ساتھ ساتھ دوہری شہریت والے فلسطینی بھی پیر کی صبح سے ہی رفح کراسنگ کے دروازے کے سامنے جمع تھے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام کو امید ہے کہ غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو پیر کو چند گھنٹوں کے بعد کھول دیا جائے گا تاکہ متوقع اسرائیلی زمینی حملے سے قبل کچھ لوگوں کو پٹی سے نکلنے کی اجازت دی جا سکے۔غیر ملکیوں کو نکالنے اور امداد پہنچانے کے لیے جنوبی غزہ میں 5 گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد رفح کراسنگ کو کھولنے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 100 سے زیادہ ٹرک غزہ میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔ یہ ٹرک العریش سے رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی نہ ہونے کی وجہ سے غزہ کے لیے امدادی قافلہ العریش سے آگے نہیں بڑھا۔ انہوں نے جنوبی غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے جاری سیاسی مشاورت کا بھی اشارہ دیا۔
دوسری طرف حماس کے ایک رہنما نے کراسنگ کھولنے کے لیے کسی بھی معاہدے کے وجود سے انکار کردیا۔اس سے قبل دو مصری سیکورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ امریکہ، اسرائیل اور مصر کے درمیان جنوبی غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ہی جی ایم ٹی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوگا۔ تاہم بعد میں اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی کی تردید کردی۔اسرائیل میں امریکی سفارت خانے نے پیر کو کہا کہ میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے رفح کراسنگ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے کھول دی جائے گی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ مسافروں کو اسے عبور کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔ اور یہ کراسنگ کتنے وقت کے لیے کھولی جائے گی۔
امریکی سفارت خانے نے غزہ میں اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ رفح کراسنگ کو محفوظ سمجھتے ہیں تو اس غزہ سے نکلنے کے لیے اس کی طرف جائیں۔قبل ازیں ایک ذریعے نے امریکی اے بی سی نیٹ ورک کو بتایا تھا کہ رفح کراسنگ پیر کو چند گھنٹوں کے لیے کھلے گی پھر شام کو دوبارہ بند ہو جائے گی۔رفح کراسنگ کے ایک سرکاری سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ رفح راہداری کو پیر کے روز دوبارہ کھولنے کی تیاری پر کام جاری ہے۔امریکی وزیر خارجہ بلینکن نے اتوار کو تصدیق کی کہ انہیں یقین ہے کہ انسانی امداد مصر سے غزہ تک پہنچ جائے گی۔بلینکن نے قاہرہ کے اپنے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ رفح کراسنگ کھل جائے گی۔ امریکہ اقوام متحدہ، مصر اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک طریقہ کار تیار کر رہا ہے تاکہ ان لوگوں تک امداد پہنچائی جا سکے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔
اسرائیل کا غزہ پر حملہ دُنیا کیلئے وحشت ناک ہوگا: برطانوی وزیر
لندن، 17اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) برطانیہ کی مسلح افواج کے وزیر نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی متوقع زمینی، فضائی اور بحری کارروائی دہشت ناک ہو گی اور اس میں کچھ خوفناک چیزیں بھی شامل ہوں گی۔انڈیپنڈنٹ اخبار نے پیر کو رپورٹ کیا ہے کہ برطانوی وزیر جیمز ہیپی کا یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل فلسطینی خطے پر بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور شمالی غزہ کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کی تنبیہ کر رہا ہے۔برطانوی وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز فلسطینی آبادی کو نقل مکانی کا کہہ کر شہریوں کو ہلاکت سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس کی جانب سے ’انسانی ڈھال کا استعمال‘ شہریوں کی جان کی حفاظت ناقابل یقین حد تک مشکل بنا دے گا۔
جیمز ہیپی نے کہا مجھے پورا یقین ہے کہ اسرائیل اپنے ہدف کو درست نشانہ بنائے گا اور ان کے پاس اس بارے میں انٹیلی جنس کی مکمل اطلاع ہو گی کہ نشانہ کہاں باندھنے کی ضرورت ہے۔برطانوی وزیر نے مزید کہا کہ کسی کو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ خوفناک دہشت کے علاوہ کچھ اور ہونے والا ہے۔مجھے ڈر ہے کہ ہم آئندہ چند دنوں میں کچھ انتہائی خوفناک صورتحال دیکھنے جا رہے ہیں۔برطانوی وزیر جیمز ہیپی نے کہا کہ یہ بات اچھے طریقے سے سمجھ آ رہی ہے کہ اسرائیل حماس کو ’تباہ‘ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن وہ اپنے ایسے مخالف کا پیچھا کر رہا ہے جو جان بوجھ کر شہری آبادی میں چھپا ہوا ہے اور آبادی کے درمیان ہی اپنا سب کچھ رکھتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا انتباہ، ’اصل تباہی‘سے قبل صرف 24 گھنٹے بچے ہیں
مقبوضہ بیت المقدس، 17اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صرف ’24 گھنٹوں کا پانی، بجلی اور ایندھن‘ بچا ہے جس کے بعد اصل تباہی شروع ہو گی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے لیے ریجنل ڈائریکٹر احمد المنظری نے کہا ہے کہ بمباری اور محاصرے کی زد میں آنے والے علاقوں میں فوری طور پر امدادی سامان لانے والے قافلوں کو اجازت دی جائے جو اس وقت مصر کے ساتھ رفح کراسنگ پر پھنسے ہوئے ہیں۔انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر امداد نہیں پہنچتی ہے تو ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تیار کرنا ہوں گے۔اقوام متحدہ کے ادارہ عالمی ادارہ صحت کے علاقائی سربراہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صرف 24 گھنٹوں کے لیے پانی، بجلی اور ایندھن رہ گیا‘ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے بمباری میں تیزی آ گئی ہے۔خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر احمد المنظری نے کہا کہ اگر زیر محاصرہ خطے میں امداد کی اجازت نہیں دی گئی تو ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تیار کرنا ہوں گے۔
بجلی منقطع ہونے سے لائف سپورٹ نظام، فوڈ ریفریجریشن اور ہسپتالوں کے انکیوبیٹرز کا نظٓم درہم برہم ہونے کا خطرہ ہے۔رپورٹ کے مطابق شہریوں کو روزمرہ زندگی کے معمولات ٹوائلٹ، صفائی اور کپڑے دھونا بھی ناممکن ہوگیا ہے۔احمد المندھاری نے کہا کہ ایمرجنسی خدمات انجام دینے والے کم پڑگئے ہیں، ڈاکٹر 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں اور جگہ بھی کم پڑ رہی ہے جہاں لاشوں کو محفوظ نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بھر چکے ہیں جہاں انتہائی نگہداشت یونٹ، آپریٹنگ رومز، ایمرجنسی سروسز اور دیگر خدمات تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔
اس سے قبل اسرائیل کے وزیرتوانائی اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ جنوبی غزہ کے لیے اشیا کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے جہاں اسرائیل نے حماس کے حملے کے بعد غزہ کا مکمل محاصرہ کرتے ہوئے پانی، بجلی اور ایندھن کی فراہمی روک دی تھی۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے کہا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کو زندگی بچانے والی انتہائی اہم اشیائے سے محروم رکھنا منع ہے۔
اسرائیل نے سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں 23 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ تک خوراک اور ایندھن پہنچنے سے روکنے کے لیے علاقے کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے، اسرائیلی حکام کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران اب تک 1300 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے اپنی تاریخ کے مہلک ترین راکٹ حملے کا سامنا کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری شروع کر دی اور تقریباً دو ہزار 750 افراد مار ڈالے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، وزارت صحت کے مطابق حملوں میں نو ہزار 700 فلسطینی زخمی ہوئے۔



