بین الاقوامی خبریں

حزب اللہ -اسرائیل جنگ : حزب اللہ کو اب مالی بحران کا بھی ہے سامنا

حزب اللہ -اسرائیل جنگ : حزب اللہ کو اب مالی بحران کا بھی ہے سامنا

نیویارک ،13اکتوبر (اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)

اسرائیلی بمباری کے بعد لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو وسائل کی قلت کا سامنا ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری لڑائی کے باعث ایران نواز گروپ کو فنڈز ملنے کے راستے بھی محدود ہو گئے ہیں۔لبنان اور امریکہ کے ریسرچرز اور امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق حزب اللہ کا قائم کردہ بینک القرض الحسن اسے فنڈنگ فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ یہ بینک لبنانی حکومت کے لائسنس کے بغیر قائم کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق تنظیم کے دوسرے فنڈنگ ذرائع میں لبنان کے دیوالیہ لیکن کمرشل بینک اور بیروت ایئرپورٹ پر نقدی لانے والے طیارے شامل ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں جب کہ جنوبی لبنان میں اس کی زمینی کارروائی بھی جاری ہے۔ اس عرصے کے دوران حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سمیت تنظیم کے کئی اہم عہدے دار اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں۔اسرائیل کے میر امیت انٹیلی جنس اینڈ ٹیررازم انفارمیشن سینٹر (آئی ٹی آئی سی) کے مطابق حزب اللہ نے ‘القرض الحسن’ بینک خیراتی مقاصد کے لیے 1982 میں قائم کیا تھا۔ اس کے ذریعے مستحق لبنانی شہریوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے تھے جن میں اہل تشیع کمیونٹی کو ترجیح دی جاتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بعد ازاں یہ ایک بڑے ادارے کی شکل اختیار کر گیا جس کی شاخیں جنوبی بیروت میں حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں دحیہ سمیت لبنان کے مختلف شہروں میں بھی قائم کی گئیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے 2007 میں اس بینک اور پھر 2021 میں اس کے ملازمین پر بھی پابندی عائد کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ بینک میں تقریباً 50 کروڑ ڈالرز جمع کیے گئے۔

ستمبر میں ایم ٹی وی لبنان نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں حزب اللہ کی جانب سے کیش جمع کرنے کے سینٹرز اور القرض الحسن بینک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔بیروت کی امریکن یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے پروفیسر بلال خاشان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اسرائیل نے اپنی کارروائیوں میں بینک کی زیادہ تر شاخیں تباہ کر دی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے گھروں سے نکلنے والے افسران اور سپاہیوں کو ادائیگیوں سے بھی قاصر ہے اور یہ اپنے خاندان کا پیٹ پالنے سے بھی قاصر ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق بینک کے چھ ملازمین لبنان کے لائنسیس یافتہ بینکس میں اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے حزب اللہ کے بینک میں رقوم کی منتقلی کر رہے تھے اور اسی بنیاد پر ان پر پابندی لگائی گئی۔رپورٹ کے مطابق ان چھ افراد نے 10 برس کے دوران لگ بھگ 50 کروڑ ڈالرز ‘القرض الحسن’ میں منتقل کیے اور اسی وجہ سے حزب اللہ کے اس بینک کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی ملی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button