نئی دہلی، 5نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے وقف بورڈ میں بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو ٹرائل کورٹ سے دی گئی ضمانت کو چیلنج کرنے والی اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔جسٹس یوگیش کھنہ کی بنچ نے 09 دسمبر تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 28 ستمبر کو دہلی کی راوز ایونیو کورٹ نے امانت اللہ خان کو ضمانت دے دی تھی۔ خصوصی جج وکاس دھول نے ضمانت دینے کا حکم دیا تھا۔ امانت اللہ خان کو اے سی بی نے 16 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔اے سی بی کے مطابق امانت اللہ خان پر وقف بورڈ میں مبینہ طو رپر اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کرنے کا الزام ہے۔
اے سی بی نے عدالت کو بتایا کہ ایک مقامی اخبار میں بھرتی کے لیے اشتہار دیا گیا تھا۔ اوکھلا اسمبلی حلقہ سے 22 لوگوں کو بھرتی کیا گیا جہاں سے امانت اللہ خان ایم ایل اے ہیں۔اے سی بی نے عدالت کو بتایا کہ انٹری درج کی گئی ہے کہ امانت صاحب کو چار کروڑ نقد دیئے گئے۔ اس کے علاوہ 16 ستمبر کو دو جگہوں سے 24 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے۔ اے سی بی نے کہا تھا کہ لی گئی رقم اتراکھنڈ اور تلنگانہ کو بھیجی گئی تھی۔ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ملزم کی آمدنی 4 لاکھ 32 ہزار روپے ہے اور اسے 4 کروڑ روپے نقد ملتے ہیں۔



