زیادہ پروٹین کھانے سے دل کی بیماری کا خطرہ 70 فیصد تک بڑھ سکتا ہے: تحقیق
گوشت، دودھ، پنیر سے حاصل شدہ پروٹین سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ دگنا
اگر آپ جسمانی فٹنس کے شوقین ہیں تو یہ بات ضرور جانتے ہوں گے کہ پروٹین انسانی جسم کے لیے نہایت اہم غذائی جز ہے، جو بالوں، جلد، ناخنوں، ہڈیوں اور خون سمیت پورے جسم کی نشوونما اور مرمت میں کردار ادا کرتا ہے۔
پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے، گریاں اور بیج وغیرہ عام طور پر صحت مند غذا کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ مگر فن لینڈ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں یہ انتباہ سامنے آیا ہے کہ درمیانی عمر میں بہت زیادہ پروٹین کا استعمال ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔
ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق کے مطابق غذائی ذرائع جیسے دودھ، مرغی، مکھن اور پنیر وغیرہ سے حاصل ہونے والی پروٹین ہارٹ فیلیئر کے خطرے کو 49 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔ محققین نے واضح کیا کہ مچھلی اور انڈوں میں موجود پروٹین سے یہ خطرہ نہیں بڑھتا۔
تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ:
-
حیوانی پروٹین کے زیادہ استعمال سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 43 فیصد تک بڑھتا ہے۔
-
جبکہ نباتاتی پروٹین سے بھی یہ خطرہ 17 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
-
البتہ مچھلی اور انڈے ایسی غذائیں ہیں جن سے یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔
یہ تحقیق 22 سال پر محیط تھی جس میں 2,500 سے زائد درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا مشاہدہ کیا گیا۔ ان افراد کو روزانہ پروٹین کی مقدار کے مطابق چار مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ جب زیادہ پروٹین کھانے والے اور کم پروٹین کھانے والے گروپس کا موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ:
-
زیادہ پروٹین استعمال کرنے والے افراد میں 334 ہارٹ فیلیئر کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
-
ان میں حیوانی پروٹین سے خطرہ 70 فیصد اور نباتاتی پروٹین سے 27.7 فیصد بڑھا۔
اس سے قبل بھی طبی دنیا میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ زیادہ پروٹین خصوصاً حیوانی ذرائع سے حاصل شدہ پروٹین ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
یہ نتائج طبی جریدے "جرنل سرکولیشن” میں شائع کیے گئے، اور اس سے یہ بات مزید واضح ہوئی ہے کہ متوازن غذا اور پروٹین کے معتدل استعمال پر توجہ دینا دل کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔



