گوشہ خواتین و اطفال

حجـاب پابندی، عقیدہ اور فیشن

از؛ شہناز کرمالی

مْسلمان خواتین کے لباس کے بارے میں یورپ کی تشویش ختم ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ فرانس میں عوامی مقامات پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد ہونے کے کئی مہینے بعد بیلجیئم نے بھی اس کی پیروی کر لی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے بعد سے اب جو بھی خاتون برقعہ پہن کر باہر نکلے گی ( ایسی خواتین مْلک کی بہت چھوٹی سی اقلیت ہیں) اسے جرمانہ کیا جائے گا اور سات دِن کے لئے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کبھی برطانیہ میں اس قسم کی پابندی عائد کی جائے گی یا نہیں۔ برطانوی حکومت کی طرف سے ایسے اقدامات کو ’غیر برطانوی‘ قرار دینے اور ایسے بیانات کے باوجود کہ وہ ان جیسے اقدامات کبھی بھی نہیں کرے گی،

رائے عامہ اس سے متفق دکھائی نہیں دیتی۔ فرانس میں پابندی لگنے کے بعد یْو گَو کی طرف سے کیے گئے ایک سروے میں برطانوی کی دو تہائی اکثریت نے برطانیہ میں بھی بْرقعہ پہننے پر پابندی لگانے کی حمایت کی تھی۔ یہ رجحان اسلام اور مْسلمانوں کے بارے میں تفہیم کو بہتر بنانے کی ضرورت کو اْجاگر کرتا ہے۔

خوش قسمتی سے برطانیہ میں انسانیت کی بنیاد پر کام کرنے والی بہت سی ایسی تنظیمیں موجود ہیں جن کا مقصد مْسلم نوجوانوں کو با اختیار بنانا اور مذہبی کمیونٹیز کے درمیان عظیم تر تفہیم اور اعتماد پیدا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر لندن میں قائم سہ عقیدہ فورَم (تھری ایف ایف) باقاعدہ تقریبات اور رہنمائی کے پروگراموں کے ذریعے یہودیوں، مْسلمانوں اور عیسائیوں کے علاوہ لادین اور غیر ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کے مابین رابطے استوار کرتا ہے۔

کلاس کے دوران ایل سی ایف کی ایک مذہبی پیشوا ریورنڈ جوآنا جیپسن، جنہوں نے یہ کورس ڈیزائن کیا ہے، کہا کہ وہ نوجوان لڑکیوں کو بامعنی مکالمے میں مشغول ہونے کے لئے ایک محفوظ جگہ تخلیق کرنے کی خواہش مند ہیں۔ "یہ پروگرام طلبا کو خود اپنا تشخص سمجھنے اور ایک دوسرے کی کہانیاں سْننے کے علاوہ تصوّر سے لے کر ڈیزائن مکمل ہونے تک آرٹ کا سفر سیکھنے کا موقع دینے کے بارے میں تھا۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ کورس میں شریک مْسلمان طالبات جنہوں نے حجاب اوڑھا یا عبایا پہنی ہوئی تھی، کہا کہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے اکثر جارحانہ نظروں کا سامنا کرنے کے باوجود ان کے لئے کوئی ایسا لباس پہننا انتہائی اہمیت رکھتا ہے جو ان کے عقیدے کی واضح علامت ہو۔ مشرقی لندن کے ایک مذہبی اسکول کی 15 سالہ طالبہ زینب نیاز نے کہا کہ پہننے کے لئے لباس کا انتخاب کرنے کے اس کے فیصلوں میں فیشن نے بہت بڑا کردار ادا کیا تھا جس کی بنیادی وجہ اس کا مسلمان ہونا ہے۔

"اگر آپ کے پاس اسلام نہیں ہے تو آپ یہ ظاہر نہیں کر سکتے کہ آپ کا تعلق کِس مذہب سے ہے، جو اس کا ایک اہم جزو ہے کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے۔” جب اْس سے پوچھا گیا کہ دوسروں کو یہ بتانا کیوں ضروری ہے کہ آپ کا تعلق کس عقیدے سے ہے تو اْس نے جواب دیا، "اس سے شہر کے تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔”شمالی لندن کے ایک کیتھولک اسکول کی 14 سالہ طالبہ سعدیہ علی نے بتایا: "میں فیشن کو خوبصورتی نہیں سمجھتی۔ میرے خیال میں فیشن ایسا لباس ہے جسے آپ مذہبی جذبے کے ساتھ پہنتے ہیں۔”

سعدیہ، جس کے سر پر نفاست کے ساتھ باندھے ہوئے سیاہ اسکارف کے کونے کیتھولک اسکول یونیفارم کے کوٹ میں ٹھْنسے ہوئے تھے، نے بتایا کہ اسے اپنے بال ڈھانپنے کے فیصلے کی وجہ سے اسکول اور عوامی مقامات پر ہراساں کیے جانے کی حرکتوں کا مسلسل سامنا رہتا ہے۔ تاہم اس کا اصرار ہے کہ لوگ جو وہ ہے وہی ہونے پر اس کا احترام کریں۔

"میں (ہیڈ اسکارف اوڑھنے پر) خوف زدہ نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے یہ زبردستی یا ڈرا دھمکا کر پہنایا گیا ہے۔ بسا اوقات لوگ آپ کے بارے میں فیصلہ آپ کے لباس کی بنیاد پر کرتے ہیں اور آپ سے مِلنے سے پہلے ہی دقیانوسی تصوّرات قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن لوگ چاہے جو بھی کہیں اسے نظر انداز کر دیں کیونکہ آخر یہ آپ کی اپنی مرضی اور خواہش ہے کہ آپ کیا پہننا چاہتے ہیں۔
دوسروں کی پیروی نہ کریں، آپ جو ہیں وہی رہیں۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button