بین ریاستی خبریںسرورق

’حجاب ہمارا حق ہے‘ ٹوئٹر پر ٹرینڈ جاری، کرناٹک میں مسلم طلبات کی جم کر تائید

نئی دہلی،4فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) صوبہ کرناٹک کے اوڈپی (Udupi) ضلع کے ایک کالج کی طرف سے کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والی طالبات کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے فوری بعد سے ہی ٹوئٹر پر ’حجاب ہمارا حق ہے‘ کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔ٹوئٹر صارفین نے اوڈپی کی ان لڑکیوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی جو اپنی آزادیٔ انتخاب (Freedom of choice) پر عمل کرنے کے حق کے لیے لڑ رہی ہیں۔

ہیش ٹیگ ’حجاب ہمارا حق ہے،ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے جس کے ساتھ سوشل میڈیا کے ایک حصے نے ان طالبات کو ہراساں کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔ اسکول کے پرنسپل کی جانب سے لڑکیوں کو باہر کرتے ہوئے اسکول کے دروازے بند کرنے کی ویڈیو پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس کی شروعات ایک کالج سے ہوئی تھی، لیکن اب دو دیگر کالج بھی ایسی طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ایک صارف نے لکھا ہے کہ طالبان لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔

ہندوستان میں سنگھی نسل کشی کرنے والے سر پر اسکارف پہنے مسلم لڑکیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ وہ پڑھی لکھی مسلم خواتین سے خوفزدہ ہیں، اِن تعلیم یافتہ مسلم خواتین سے انھیں بہت ڈر لگتا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ واقعی ہمیں حیران کر دیا، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے شہریوں کو بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا ہے، یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ’’آئیے !ہم سب اپنی بہنوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہو جائیں،اس امتیازی سلوک کی وجہ کیا ہے؟

انہیں کالجوں میں داخلے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی،صرف اس لیے کہ وہ حجاب پہنتی ہیں، یہ اسکول سے باہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، یہ سراسر زیادتی ہے۔ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ’ اسلام میں حجاب پہننے پر زور دیا گیا ہے لہٰذا کرناٹک حکومت کی طرف سے ہندوستانی آئین کے دفعہ 25 کی خلاف ورزی ہندوستان کے آئین سے ان کی لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہے۔

واضح رہے کہ حجاب دنیا بھر میں اسلامی تعلیمات اور مسلم تہذیب کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں بیشتر مسلم خواتین حجاب کرتی ہیں۔ اس کے باوجود حجاب (Hijab) کو عالمی سطح پر متنازعہ موضوع بنایا جارہا ہے۔

کئی مسلم خواتین کو خدشہ ہے کہ انھیں جب چاہیں حجاب پہننے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ان کا حق انتخاب رائٹ ٹو چوائس ہے، جسے وہ خود پسند کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button