ہنڈن برگ کیس: سرمایہ کاروں کے پیسے ڈوبنے پر سپریم کورٹ نے اظہار تشویش اسٹاک مارکیٹ کے ریگولیٹری نظام کو بہتر بنانے پر کیا جائے گا غور
بنچ کے سامنے دو عرضیاں سماعت کے لیے رکھی گئیں۔
نئی دہلی ،10فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جے بی پاردی والا کی بنچ کے سامنے دو عرضیاں سماعت کے لیے رکھی گئیں۔ وکیل وشال تیواری اور منوہر لال شرما نے الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں جس میں کیس سے متعلق پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن عدالت نے اس پر غور نہیں کیا۔ ججوں نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ وہ سرمایہ کاروں کے متعلق پریشان ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ شارٹ سیلنگ سے مارکیٹ بری طرح متاثر نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لاکھوں کروڑوں روپے ڈوب گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں صرف امیر لوگ ہی پیسہ نہیں لگاتے، متوسط طبقے کے لوگ بھی پیسہ لگاتے ہیں، سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔ عدالت نے ہندن برگ ریسرچ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مارکیٹ میں گراوٹ کی وجوہات کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔
یہ بھی پوچھا کہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے کیاکیا اقدامات کیے گئے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا یعنی SEBI اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر رہا ہے۔ پھر بھی پورے ریگولیٹری نظام میں کچھ کمی ہے۔ اس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ SEBI کی جانب سے عدالت میں موجود سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ عدالت کے خدشات سے متفق ہیں۔ وہ ان باتوں کا جواب دینا چاہتا ہیں۔پیر 13 فروری کو سماعت ملتوی کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ سالیسٹر جنرل کو وزارت خزانہ اور SEBI سے بات کرنی چاہئے اور اس مسئلہ پر تجاویز دینا چاہئے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی طرف سے ایک ماہر کمیٹی قائم کرنا چاہتی ہے۔
اس میں اسٹاک مارکیٹ اور مالیاتی امور کے ماہرین شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک سابق جج بھی ہوں گے۔سماعت کے اختتام پر ایڈوکیٹ منوہر لال شرما نے سوال اٹھایا کہ جب مارکیٹ متاثر ہورہی تھی تو تجارت کیوں نہیں روکی گئی؟ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملہ میں ایسا کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، جس سے سرمایہ کاروں کی سوچ پر منفی اثر پڑے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندنبرگ ریسرچ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اڈانی گروپ نے شیئرز میں ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی کی ہے۔ تاہم اڈانی گروپ نے ان دعوؤں کو مسترد کیا تھا۔ جس کے بعد اپوزیشن نے دونوں ایوان میں اڈانی بحران کے متعلق ہنگامہ آائی کی ہے۔



