قومی خبریں

حزب اللہ نے کس میزائل کے ذریعے اسرائیل کے قلب کو نشانہ بنایا؟

وہ اسرائیلی دفاعی نظام کو پار کرتا ہوا تل ابیب کے قلب میں کیسے جا گرا؟

دبئی،19نومبر ( ایجنسیز)پیر کی شام اسرائیل کے شہر تل ابیب میں اور اس کے اطراف میزائلوں کے گرنے کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔لبنان کی سمت سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہو گئے جن میں ایک کی حالت نازک ہے۔یہاں حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے میزائل کی نوعیت کے حوالے سے سوال سامنے آتا ہے اور یہ کہ وہ اسرائیلی دفاعی نظام کو پار کرتا ہوا تل ابیب کے قلب میں کیسے جا گرا؟فوجی امور کے مصری ماہر میجر جنرل ہیثم حسین نے اس سلسلے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کی۔

ان کے مطابق اسرائیل میں فضائی دفاع کے کئی نظام موجود ہیں۔ ان میں 10 بیٹریوں پر مشتمل آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ سسٹم اور ایرو (ہیٹز) سسٹم شامل ہے۔ ہیثم نے مزید کہا کہ لبنان کی جانب سے داغا جانے والا میزائل فادی 3 یا ملاک یافاتح 110 ہو سکتا ہے۔ غالب گمان ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام نے ممکنہ طور پر اپنی فعالیت کا کوئی جزو کھو دیا ہو۔مصری ماہر نے واضح کیا کہ حزب اللہ نے امریکی نمائندے کے دورے سے قبل تل ابیب کی سمت میزائل داغے۔ یہ کارروائی بیروت پر بم باری اور حزب اللہ کے میڈیا کوآرڈی نیٹر کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔

یہ حزب اللہ کی طرف سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ وہ ابھی تک اسرائیل کے اندر خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ مذاکرات جاری رہنے کی صورت میں اسرائیل اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔جنرل ہیثم کے مطابق اس طرح کی کارروائی امریکی نمائندے کے مشن کو مشکل بنا دے گا کیوں کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ جنوبی لبنان سے حزب اللہ کا انخلا عمل میں آئے اور لبنانی فوج جنوبی لبنان میں امن کی ذمے داری سنبھالے۔ مصری ماہر کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندہ حزب اللہ پر اسرائیلی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔

لہذا پھر لڑائی لبنانی دار الحکومت کے مقابل اسرائیلی دار الحکومت پر بم باری کی صورت میں ہو گی۔جنرل ہیثم نے توقع ظاہر کی ہے کہ نیتن یاہو جواب میں لبنان پر کاری ضربیں لگائیں گے اور وہ فائر بندی قبول نہیں کریں گے۔ اس کے مقابل حزب اللہ کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آئے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاو?س میں داخل ہونے تک یہ صورت حال جاری رہے گی۔ مصری ماہر گفتگو کے اختتام پر کہا کہ اس وقت ہم دیکھیں گے کہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے ان کے پاس کیا منصوبہ ہے؟

متعلقہ خبریں

Back to top button